The Voice of Chitral since 2004
Friday, 1 May 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

بینظیر انکم سپورٹ پروگرام میں اربوں روپے کی مالی بے ضابطگیوں کا انکشاف

Posted on

بینظیر انکم سپورٹ پروگرام میں اربوں روپے کی مالی بے ضابطگیوں کا انکشاف

اسلام آباد(چترال ٹائمزرپورٹ)بینظیر انکم سپورٹ پروگرام میں اربوں روپے کی مالی بے ضابطگیاں کا انکشاف ہوا ہے، پی اے سی نے مستحقین میں رقوم کی تقسیم میں بڑی خامیوں کی نشاندہی کر دی۔ غریبوں کے لیے مختص فنڈز سینئر سرکاری افسران اور اْن کی بیگمات نے ہڑپ کرلیے۔ سینکڑوں کیسز میں میاں بیوی دونوں میں رقوم بانٹ دی گئیں۔ سیلاب سے متاثرہ کسانوں میں سبسڈی کی تقسیم میں پونے تین ارب روپے کی مالی بے ضابطگی سامنے آئی۔پارلیمنٹ کی پبلک اکاونٹس کمیٹی کے اجلاس میں وزارت تخفیف غربت کے مالی سال 2022-23 کے ا?ڈٹ اعتراضات اور 14 ارب روپے کی مالی بے ضابطیوں کا جائزہ لیا گیا۔ آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ گریڈ 1 سے 20 کے سرکاری ملازمین بی آئی ایس پی فنڈز سے فائدہ اٹھاتے رہے۔رپورٹ کے مطابق 2022،23 کے دوران 8 کروڑ 98 لاکھ نکلوائے گئے۔ سندھ کے 2 ہزار 235سرکاری ملازمین اور اْن کی بیگمات نے مستحقین کی رقم پر سب سے زیادہ ہاتھ صاف کیے۔

اس کے علاوہ پنشنرز کے 704 فیملی ممبرز بھی بی آئی ایس پی سے مستفید ہوئے۔ناجائز فنڈز لینے والوں میں گریڈ 20 کا ایک حاضر سروس اور دو ریٹائرڈ افسران بھی شامل ہیں۔ چیئرمین پی اے سی نے ان افسران کے نام شائع کرنے اور ریکوری کی ہدایت کر دی۔ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام میں 68 کروڑ 16 لاکھ روپے کی غیرقانونی ادائیگیاں کی گئیں۔آڈٹ حکام کے مطابق 27 ہزار کیسز میں بے نظیر انکم ایمرجنسی کیش امداد دونوں میاں بیوی کو دی گئی۔ پی اے سی نے ایک ماہ میں ذمہ داروں کے تعین کی ہدایت کر دی۔ آڈٹ حکام نے بتایا کہ صوبہ سندھ میں سیلاب سے متاثرہ کسانوں میں گندم کے بیج پر سبسڈی میں 2 ارب 77 کروڑ کی بیضابطگی ہوئی۔ پی اے سی کو بتایا گیا کہ بی آئی ایس پی کے تحت متعلقہ اضلاع اور صوبے کے باہر اے ٹی ایم سے 83 کروڑ 97 لاکھ روپے نکلوائے گئے۔پی اے سی نے ایک ماہ میں فیکٹ فائینڈنگ رپورٹ طلب کر لی۔ اجلاس میں چیئرمین واپڈا پر تنقید کی پاداش میں ثنا اللہ مستی خیل کے ڈیرے سے بجلی کاٹنے کا معاملہ بھی زیربحث آیا۔ عمر ایوب نے کہا کہ یہ پی اے سی کے پورے عمل کی تذلیل ہے۔ چیئرمین پی اے سی نے معاملہ سپیکر قومی اسمبلی کے سامنے اٹھانے کا اعلان کردیا۔

پبلک سیکٹرکمپنیز میں بڑی بڑی تنخواہیں لینے والے افسروں کے خلاف انکوائریاں بند

اسلام آباد(سی ایم لنکس)پبلک سیکٹرکمپنیز میں بڑی بڑی تنخواہیں لینے والے افسروں کیخلاف قومی احتساب بیورو نے انکوائریز بند کردیں، بیوروکریٹس کوتمام رقوم کی واپسی بھی شروع کردی گئی۔ چیف سیکرٹری کو تنخواہ کی وصولی کامراسلہ ارسال کردیا گیا۔قومی احتساب بیورو نے درجنوں اعلیٰ افسران کے خلاف انکوائری بند کردی ہے،اعلیٰ ترین بیوروکریٹس کی جانب سے ریکوری کی صورت میں جمع کرائی گئی تمام رقوم واپس دینے کا سلسلہ شروع کردیاگیاہے،ڈی جی نیب نے چیف سیکرٹری پنجاب زاہد اخترزمان کوچیک وصولی کیلئیمراسلہ ارسال کردیا۔ڈی جی نیب کی جانب سے چیف سیکرٹری پنجاب زاہد اختر زمان کو مراسلے میں تین کروڑ 44 لاکھ 92 ہزار 214 روپے کے چیک وصول کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ سینئر بیوروکریٹس مجاہد شیردل، نبیل جاوید، فیصل فرید،جواد قریشی، عائشہ حمید سمیت 16 سینئر بیوروکریٹس کو رقوم کی واپس ادائیگی کی جائیگی۔یاد رہے کہ 2018 میں سپریم کورٹ کے اس وقت کے چیف جسٹس پاکستان ثاقب نثار نے ازخود نوٹس لیتے ہوئے اعلیٰ بیوروکریٹس کوتنخواہوں کی واپسی کا حکم دیا تھا،عدالت عظمیٰ کے احکامات پر بیالیس اعلیٰ بیوروکریٹس میں سے 16 بیوروکریٹس نے رقم جمع کرائیں جبکہ 26 بیوروکریٹس نے از خود نوٹس کیس میں رقم جمع نہیں کرائی تھی۔

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
101921

حکومت نے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت ملنے والا ریلیف بند کر دیا

Posted on

حکومت نے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت ملنے والا ریلیف بند کر دیا

اسلام آباد( سی ایم لنکس) وفاقی حکومت نے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت ملنے والا ریلیف بند کر دیا۔غریبوں کو یوٹیلیٹی سٹورز سے آٹا، چینی اور گھی اب مہنگے داموں ہی خریدنا پڑے گا۔بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت چینی 109 روپے تھی جو اب 155 روپے کلو کر دی گئی، 650 روپے میں ملنے والا 10 کلو آٹے کا تھیلا اب 1500 روپے کا ملے گا جبکہ 380 روپے والا گھی 450 روپے کلو کر دیا گیا۔ذرائع کے مطابق بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت ملنے والی یہ سبسڈی غیر اعلانیہ بند کی گئی ہے۔

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
92443

بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سے مستفید ہونے والے افراد کی رجسٹریشن کے عمل میں سہولت فراہم کرنے کے لیے موبائل رجسٹریشن وہیکل سینٹرز جلد فعال ہونے کا امکان

Posted on

بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سے مستفید ہونے والے افراد کی رجسٹریشن کے عمل میں سہولت فراہم کرنے کے لیے موبائل رجسٹریشن وہیکل سینٹرز جلد فعال ہونے کا امکان

اسلام آباد( چترال ٹائمزرپورٹ) ملک کے دور دراز علاقوں سے تعلق رکھنے والے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی)سے مستفید ہونے والے افراد کی رجسٹریشن کے عمل میں سہولت فراہم کرنے کے لیے موبائل رجسٹریشن وہیکل سینٹرز جلد فعال ہونے کا امکان ہے۔ ایک سرکاری ذرائع کے مطابق موبائل رجسٹریشن مراکز دور دراز علاقوں میں مقیم مستحق خواتین کو موبائل گاڑیوں کے ذریعے رجسٹریشن کی سہولیات تک رسائی کے قابل بنائیں گے۔ اگست میں شروع ہونے والی موبائل وینز کو شامل کرنے کا عمل اپنے آخری مراحل میں داخل ہو چکا ہے۔نیشنل سوشل اکنامک رجسٹری کے موبائل رجسٹریشن مراکز کے طور پر کام کرنے کے لیے کل 25 موبائل وینز شامل کی جا رہی ہیں جو ان لوگوں کو سہولت فراہم کریں گی جو رجسٹریشن کی سہولت تک رسائی سے قاصر تھے۔ذرائع کے مطابق اس مرحلے میں بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں 19، سندھ میں 5 اور اسلام آباد میں ایک موبائل رجسٹریشن سینٹر قائم کیا جا رہا ہے۔ملک کے دور دراز علاقوں میں مقیم مستفیدین کے رجسٹریشن کے عمل کو آسان بنانے کے لیے موبائل رجسٹریشن سروس جلد ہی فعال ہونے کا امکان ہے۔

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
83898

بینظیر انکم سپورٹ پروگرام نے ”بی آئی ایس پی بچت سکیم“ کا اجراء کر دیا

بینظیر انکم سپورٹ پروگرام نے ”بی آئی ایس پی بچت سکیم“ کا اجراء کر دیا

اسلام آباد(سی ایم لنکس) بینظیر انکم سپورٹ پروگرام نے عالمی ترقیاتی شراکت داروں کی تکنیکی معاونت سے ”بی آئی ایس پی بچت سکیم“ کا اجراء کر دیا ہے۔اسلام آباد میں منعقد ہونے والی اس تقریب میں عالمی بینک، ایشیائی ترقیاتی بینک، یونیسیف، جی آئی زیڈ، جرمن کارپوریشن اور اعلیٰ سرکاری حکام کے معزز نمائندوں نے شرکت کی۔اس موقع پر چیئرپرسن بی آئی ایس پی ڈاکٹر محمد امجد ثاقب نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بی آئی ایس پی بچت سکیم کا تعارف کرایا۔ڈاکٹر امجد ثاقب نے پروگرام کے بنیادی مقصد پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ بی آئی ایس پی بچت سکیم کا مقصد صارفین میں مالی خودمختاری اور بچت کی عادت پیدا کرنا ہے جو انہیں معاشی غیر یقینی صورتحال کے دوران اضافی معاونت کا کام د ے گی۔ڈاکٹر محمد امجد ثاقب نے کہا کہ بچت سکیم کے تحت بی آئی ایس پی سے مستفید ہونے والے گھرانے اور 40 پی ایم ٹی سکور والے افراد مستفید ہو سکیں گے۔ڈاکٹر امجد ثاقب نے کہا کہ بی آئی ایس پی بچت سکیم مالی شمولیت کی حوصلہ افزائی کرتی ہے، کیونکہ اس سکیم کے تحت صارفین کے بچت اکاؤنٹس کھولے جائیں گے۔چیئرپرسن بی آئی ایس پی نے کہا کہ صارفین پر لازم ہے کہ وہ اپنی آمدنی کا ایک حصہ اپنے بچت کھاتوں میں محفوظ کریں، حکومت صارفین کی بچت کا چالیس فیصد اضافی حصہ فراہم کریگی۔انہوں نے مزید کہا کہ مرد اور خواتین دونوں ہی درخواست دینے کے اہل ہیں اور اس سکیم کا ابتدائی طور پر ایک لاکھ پچاس ہزار افراد کو فائدہ پہنچانا ہے۔ڈاکٹر امجد ثاقب نے تمام ترقیاتی شراکت داروں کا بی آئی ایس پی بچت سکیم کی تیاری اور آغاز میں ان کی تکنیکی اور مالی معاونت کے لیے شکریہ ادا کیا اور عوام پر زور دیا کہ وہ اس سکیم میں شامل ہوں۔

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
83040

بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت وظائف کی تقسیم 2 روز کیلئے معطل

Posted on

بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت وظائف کی تقسیم 2 روز کیلئے معطل

اسلام آباد(چترال ٹایمزرپورٹ)بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے وظائف کی تقسیم شدید گرمی کی وجہ سے آج بروز ہفتہ اور کل بروز اتوار کو معطل رہے گی۔ترجمان برائے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے مطابق این ڈی ایم کی ملک گیر شدید گرمی کے الرٹ کی پیش نظر رقوم کی تقسیم کو عارضی طور پر 2 دن کے لئے روک دیا گیا ہے۔ترجمان کا کہنا ہے کہ ان وظائف کی تقسیم پیر 26 جون سے خصوصی طور پر قائم کردہ کیمپس پر دوبارہ شروع کر دی جائے گی، جو 28 جون تک ان کیمپس پر ہی جاری رہے گی۔انہوں نے بتایا کہ بینظیر اِنکم سپورٹ پروگرام کے ان وظائف کی تقسیم عید الاضحی کی چھٹیوں کے بعد 3 جولائی سے دوبارہ شروع ہوگی۔ترجمان کے مطابق وظائف کی تقسیم میں شفافیت کو یقینی بنانے کے لئے وفاقی وزیر محترمہ شازیہ مری کی خصوصی ہدایات کے تحت ملک بھر میں مانیٹرنگ ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ کسی بھی قسم کی شکایت کی صورت میں فوری طور پر بی آئی ایس پی کی ٹول فری ہیلپ لائن 26477-0800 پر اطلاع کیا جاسکتا ہے جبکہ بی آئی ایس پی کی جانب سے تمام پیغامات صرف اور صرف 8171 سے بھیجے جاتے ہیں۔

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
76026

بینظیر انکم سپورٹ پروگرام میں رجسٹرڈ خیبر پختونخوا کے 57 لاکھ سے زائد مستحق خاندانوں میں آٹا تقسیم کیا جائے گا۔ چیف سیکریٹری

Posted on

بینظیر انکم سپورٹ پروگرام میں رجسٹرڈ خیبر پختونخوا کے 57 لاکھ سے زائد مستحق خاندانوں میں آٹا تقسیم کیا جائے گا۔ چیف سیکریٹری

پشاور (چترال ٹائمز رپورٹ) چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا ندیم اسلم چوہدری کی زیرصدارت تمام محکموں کے انتظامی سیکرٹریوں کا اجلاس منگل کے روز کیبنٹ روم سول سیکرٹریٹ پشاور میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں عوامی فلاح و بہبود کیلئے گوڈ گورننس اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔چیف سیکرٹری نے کہا کہ انتظامی سیکرٹریز کو حال ہی میں تفویض کی گئی ذمہ داریوں کے تحت متعلقہ اضلاع میں آٹے کی تقسیم کے عمل کی نگرانی جاری رکھیں۔ انکا کہنا تھاکہ صوبے میں آٹے کی کمی نہیں ہے سکیم کیلئے اہل تمام خاندانوں کو مفت آٹا فراہم کیا جائے گا۔ اب تک بینظیر انکم سپورٹ پروگرام میں رجسٹرڈ خیبر پختونخوا کے 12لاکھ سے زائد خاندانوں میں آٹا تقسیم کیا جا چکا ہے۔ جبکہ مجموعی طور پر 57 لاکھ سے زائد مستحق خاندانوں میں آٹا تقسیم کیا جائے گا۔

چیف سیکرٹری نے ہدایت کی کہ سیکرٹری داخلہ کی زیر صدارت قائم کمیٹی اشیائے خوردونوش کی قیمتوں کی کڑی نگرانی کرے۔ رمضان المبارک میں عوام کو سرکاری نرخنامے کے مطابق اشیائے ضروریہ کی دستیابی یقینی بنائی جائے۔انہوں نے کہا کہ موسم بہار کے پیش نظر شجرکاری مہم کا اجراء کیا جا چکا ہے۔ جس میں تمام متعلقہ محکموں کو بھر پور حصہ لینا چاہیے۔ چیف سیکرٹری نے کہا کہ پولیو کے خاتمے کیلئے تمام تر توجہ جنوبی اضلاع پر مرکوز کی جائے انتظامی سیکرٹریز پولیو مہم کی بھی اضلاع کی سطح پر نگرانی کریں۔ انکا مزید کہنا تھا کہ امسال ڈینگی ممکنہ طور پر وبائی شکل اختیار کر سکتا ہے اس لئے ضروری ہے کہ متعلقہ حکام اسکی روک تھام کیلئے بروقت اقدامات اٹھائیں اور خیبر پختونخوا میں ڈینگی کنٹرول پلان پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
72978

بینظیر انکم سپورٹ پروگرام میں اربوں روپے کی بے ضابطگیوں کا انکشاف

Posted on

بینظیر انکم سپورٹ پروگرام میں اربوں روپے کی بے ضابطگیوں کا انکشاف

اسلام آباد(سی ایم لنکس)بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام میں اربوں روپے کی بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا ہے۔قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس نور عالم خان کی زیر صدارت ہوا جس میں تخفیف غربت اور سماجی تحفظ ڈویڑن کی آڈٹ رپورٹ 2019-20 کا جائزہ لیا گیا۔رپورٹ میں تخفیف غربت اور بی آئی ایس پی پروگرام میں اربوں روپے کی مالی بے ضابطگیوں کا انکشاف کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ ماضی میں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے 19 ارب روپے سرکاری ملازمین میں تقسیم کردئیے گئے۔ ا?ڈٹ حکام کے مطابق ایک لاکھ 43 ہزار افراد میں غیر قانونی طور پر رقوم تقسیم کی گئیں۔ گریڈ 17 اور اس سے اوپر کے 2500 افسران بھی رقوم بٹورتے رہے۔پی اے سی کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ سرکاری ملازمین کئی سال تک رقوم وصول کرتے رہے۔غیر مستحق افراد کو رقم دینے کا سلسلہ 2011 میں شروع ہوا جو 2019 میں پالیسی بننے پرختم ہوا۔ قانون کے مطابق بی آئی ایس پی سمیت سرکاری ملازمین کیش امداد کے مستحق نہیں۔پی اے سی نے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی رقوم براہ راست ڈپٹی کمشنرز اور اسسٹنٹ کمشنرز کو منتقل کرنے پر اظہار تشویش کرتے ہوئے سرکاری ملازمین سے ریکوری اور انکوائری کی ہدایت کر دی۔ کمیٹی کو مطلع کیا گیا کہ گریڈ 17 اور اوپر کے افسران کے کیس انکوائری کیلئے پہلے ہی ایف آئی اے کے پاس ہیں۔پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی ٹیم کی جانب سے دی گئی بریفنگ پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعظم اور متعلقہ وفاقی وزیرکوخط لکھنے کا فیصلہ کیا۔

سپریم کورٹ کا آڈیٹر جنرل کو ڈیمز فنڈ کے ریکارڈ کا جائزہ لینے کی ہدایت

اسلام آباد(چترال ٹایمزرپورٹ) دیامر بھاشا اور مہمند ڈیمز عمل درآمد کیس میں سپریم کورٹ نے آڈیٹر جنرل کو ڈیمز فنڈ کے ریکارڈ کا جائزہ لینے کی ہدایت کر دی۔سپریم کورٹ نے ہدایت کی کہ اسٹیٹ یبنک کے ساتھ مل کر ڈونرز اور سرمایہ جاری کے تمام ریکارڈ کا جائزہ لیا جائے اور دستاویزات میں بے ضابطگی ہونے یا نہ ہونے کی نشاندہی کی جائے۔دوران سماعت حکام اسٹیٹ بینک نے بتایا کہ ڈیمز فنڈ سے کوئی اخراجات ہوئے نہ کبھی کسی نے رقم نکالی، ڈیمز فنڈ میں اس وقت 16 ارب روپے سے زائد رقم موجود ہے، جو رقم بھی آتی ہے سرکاری سیکیورٹیز میں سرمایہ کاری کر دی جاتی ہے، نیشنل بینک کے ذریعے ٹی بلز میں سرمایہ کاری کی جاتی ہے۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ڈیمز فنڈ کے ڈونرز کا تمام ریکارڈ سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر موجود ہے۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ سرمایہ کاری کی تو فنڈ میں 10 ارب روپے تھے جو 26 جنوری کو 17 ارب ہو جائیں گے۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ عوام کو بتائیں گے کہ انکے فنڈ سے کونسی مشینری خریدی گئی، ڈیمز فنڈ کا پیسہ سیلاب کی تباہ کاریوں کی مرمت پر خرچ نہیں ہوگا۔

چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ڈیم فنڈز کے آڈٹ کی ہدایت کر دی۔ چیف جسٹس نے رجسٹرار سپریم کورٹ کو ڈیم فنڈز کا تمام ریکارڈ آڈیٹر جنرل کو فراہم کرنے کا حکم دیا۔دوران سماعت سیکریٹری پاور ڈویڑن نے بتایا کہ ملک میں اس وقت سرکلر ڈیٹ 2.6 ٹریلین روپے ہے اور سرکلر ڈیٹ میں مزید اضافہ بھی متوقع ہے، بعض گرڈ اسٹیشنز پر 90 فیصد سے زائد بجلی چوری ہوتی ہے، کیسکو نے گزشتہ سال 95 ارب روپے کی بجلی دی اور بل صرف 25 ارب روپے کا جمع ہوا۔سیکریٹری پاور ڈویڑن نے مزید بتایا کہ کنڈے ڈال کر بجلی چوری کی جاتی ہے جس میں ہمارے اپنے لوگ بھی ملوث ہوتے ہیں، بجلی چوروں کے خلاف کارروائی بھی پورے دل کے ساتھ نہیں کی جاتی۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ڈسکوز کا یہ حال ہے تو نجکاری کیوں نہیں کر دیتے؟ آئی ایم ایف اور حکومت دونوں کو ہی سرکلر ڈیٹ پر تشویش ہے۔ سیکریٹری پاور ڈویڑن نے کہا کہ بجلی کی قیمتوں میں اضافے سے سرکلر ڈیٹ میں بہتری آئی ہے، بجلی قیمت خرید اور فروخت میں سالانہ 400 ارب روپے کا شارٹ فال ہے۔

وکیل واپڈا نے بتایا کہ پاور ڈویڑن نے سی پی پی اے کی مد 240 ارب روپے ادا کرنے ہیں، ٹھیکیداروں کو ادائیگی نہ ہونے سے ڈیمز کا کام متاثر ہو رہا ہے۔جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ ممکن ہے پیسوں کی کمی کے باعث حکومت ادائیگی نہ کر پا رہی ہو۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ٹرانسمیشن لائنز منصوبے کے لیے بہت اہم ہیں۔ سیکریٹری واٹر نے بتایا کہ 2.4 ارب جاری کرنے کیلئے ہدایات دے دی ہیں۔جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ یقینی بنائیں کہ ڈیمز منصوبے کو اس سارے عمل میں نقصان نہ ہو۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ مالی مشکلات پر تشویش ہے اور ایسے اقدامات کرنے ہیں جس سے اخراجات کم ہوں، اچھی قومیں چیلنجز کا سامنا کرتی ہیں۔وکیل واپڈا نے کہا کہ سیلاب اور سیکیورٹی صورتحال کی وجہ سے ڈیمز کا کام متاثر ہوا، سیلاب سے مہمند ڈیم کے انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچا، فنڈز کی کمی بھی ڈیمز منصوبوں کی راہ میں رکاوٹ بن رہی ہے، پی ایس ڈی پی میں مختص رقم بھی نہیں مل رہی، کورونا کی وجہ سے بین الاقوامی ماہرین بھی واپس چلے گئے تھے اس لیے ڈیمز کی تعمیر کا کام مقررہ وقت سے کم و بیش ایک سال پیچھے رہ گیا ہے۔عدالت نے سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی۔

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
70411

بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سیلاب سے متاثرہ 2.8 ملین خاندانوں کو ٹارگٹ کیش ریلیف فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے، وفاقی وزیر شازیہ مری

بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سیلاب سے متاثرہ 2.8 ملین خاندانوں کو ٹارگٹ کیش ریلیف فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے، وفاقی وزیر شازیہ مری

اسلام آباد(چترال ٹایمز رپورٹ)وفاقی وزیر برائے تخفیف غربت و سماجی تحفظ و چیئرپرسن بی آئی ایس پی شازیہ مری نے کہا ہے کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) سیلاب سے متاثرہ 2.8 ملین خاندانوں کو ٹارگٹ کیش ریلیف فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے اور حکومت کی طرف سے 316 ملین ڈالر کی رقم ان خاندانوں میں تقسیم کی جاچکی ہے۔ یہ بات انہوں نے اٹلی میں ورلڈ فوڈ پروگرام (ڈبلیو ایف پی) کے ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس کے دوران اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کو 2030 تک غذائی تحفظ سے متعلق اہداف کو پورا کرنے کے لیے ایک بڑے چیلنج کا سامنا ہے۔ انہوں نے شرکاء کو بتایا کہ پاکستان کے 82 اضلاع میں حالیہ سیلاب سے 33 ملین سے زائد افراد متاثر ہوئے ہیں۔ پاکستان کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں تقریباً 650,000 حاملہ خواتین کو زچگی کی خدمات تک رسائی حاصل کرنے میں مسائل کا سامنا ہے۔

شازیہ مری نے کہا کہ تقریباً 4 ملین بچے صحت کی خدمات تک رسائی سے محروم ہیں۔ورلڈ فوڈ پروگرام کے کردار کو سراہتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ ڈبلیو ایف پی اور بی آئی ایس پی نے پاکستان میں صحت اور غذائیت کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے 15 اضلاع میں“مشروط کیش ٹرانسفر پروگرام”نشوونما”کو تشکیل دیا ہ ہے۔یہ پروگرام بی آئی ایس پی کفالت پروگرام میں پہلے سے اندراج شدہ حاملہ اور دودھ پلانے والی خواتین کو ایک جامع پیکج فراہم کرتا ہے جس میں زچگی، شیرخوار، اور چھوٹے بچوں کی غذائیت اور حفظان صحت کے طریقوں سے متعلق آگاہی سیشن؛ پی ایل ڈبلیو اور دو سال سے کم عمر کے بچوں کو خصوصی غذائیت سے بھرپور خوراک کی فراہمی؛ قبل از پیدائش اور بعد از پیدائش کی دیکھ بھال کی خدمات، معمول کے مطابق بچوں کی نشوونما کی نگرانی اور حفاظتی ٹیکوں کا کورس شامل ہے۔وفاقی وزیر نے شرکاء کو بتایا کہ ڈبلیو ایف پی اور بی آئی ایس پی کمرشلائزیشن کی حکمت عملی کے رول آؤٹ پر کام کر رہے ہیں۔مزید برآں ڈبلیو ایف پی مستحقین کو بے نظیر نشوونما پروگرام سے باہر نکلنے کی حکمت عملی پر بھی کام کر رہی ہے، تاکہ ڈبلیو ایف پی کے بغیر بھی پاکستان اپنے صحت کے نظام کے اندر سٹنٹنگ کی روک تھام کیلئے بہتر طور پر کام کرسکے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان مستقبل میں آنے والی آفات کے لیے بہتر حکمت عملی کے لیے تیار ہے لیکن دنیا کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ یہ وقت کسی کے ساتھ بھی پیش آسکتا ہے کیونکہ موسمیاتی تبدیلی ایک خوفناک حقیقت ہے جو سب سے زیادہ کمزور آبادی کو متاثر کرتا ہے۔

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
68123