Chitral Times

Apr 17, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی کے ون اپر چترال کی انتخابی نتائج پر ایک نظر – تحریر: ظہیر الدین

شیئر کریں:

صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی کے ون اپر چترال کی انتخابی نتائج پر ایک نظر – تحریر: ظہیر الدین

اپر چترال سے صوبائی اسمبلی کی نشست کے لئے انتخابی دنگل میں کاغذات نامزدگی داخل کرنے والوں کی تعداد چالیس تھی جوکہ آٹھ فروری تک یہ تعداد گھٹ کر 15 رہ گئی تھی جن میں        ثریا  بی بی (پی ٹی آئی) ، جاوید حسین (جماعت اسلامی)، سراج علی خان (پی پی پی)، شکیل احمد (جے یو آئی)، محمدوزیر (پی ایم ایل۔ن) اور غلام محمد (پی ٹی آئی پی) کے علاوہ آزاد امیدوار برہان الدین، بی بی لطیفہ، حزب اللہ، رحمت کریم بیگ، سید امیر حسین شاہ، سید جمال شاہ، گل مراد خان، مختار نبی اور نوید سلطان شامل تھے۔

 

اگر ہم اس حلقے کی پس منظر پر نظر دوڑائیں تویہ پہلی مرتبہ 1977ء کے عام انتخابات میں وجود میں آیا تھاجس میں پی پی پی کے سیدعبدالغفور شاہ نے پاکستان قومی اتحاد کے قاضی محمد مراد (کوشٹو قاضی) کو شکست دے کر یہاں سے منتخب ہوئے تھے جبکہ 1985ء کے غیر جماعتی انتخابات میں سید احمد خان نے نور عالم خان کو ہراکر ایم پی اے منتخب ہوئے۔ 1988ء سے لے کر 2002ء تک جتنے بھی الیکشن ہوئے، اس حلقے کو ختم کرکے پورا ضلع چترال کو ایک حلقہ بنایا گیا تھا۔ 2002ء میں اس حلقے کی بحالی کے بعد ایم ایم اے کے مولانا محمد جہانگیر خان نے پی پی پی کے شہزادہ نثار جیلانی کو شکست دے دی جبکہ 2008ء میں مسلم لیگ ق کے غلام محمدنے پی پی پی کے شہزادہ نثار جیلانی کو اور 2013 ء میں آل پاکستان مسلم لیگ کے ٹکٹ پر غلام محمد دوبارہ منتخب ہوگئے مگر دوسرے نمبر آنے والے امیدوار پی پی پی کے سید سردار حسین شاہ نے انتخابی عذرداری کا مقدمہ کرکے پانچ پولنگ اسٹیشنوں میں دوبارہ پولنگ کرواکر غلام محمد سے جیت گئے جس کے بعد 2018ء کے الیکشن میں اس حلقے کو پھر ختم کیا گیا تھا۔

chitraltimes pk1 candidates chitral

بانی پی ٹی آئی عمران خان کے زیر عتاب آنے اور خیبر پختونخوا میں ان کے دست راست پرویز خٹک اورمحمود خان کے ذریعے پی ٹی آئی کو تقسیم کرنے کی کوشش کے طور پر بننے والی سیاسی پارٹی پی ٹی آئی پارلیمنٹرین کا امیدوار بننے پر تمام سیاسی اور عوامی حلقوں میں حاجی غلام محمد کی کامیابی کی پیشگوئی زور پر تھی کیونکہ ایک طرف وہ پہلے بھی دو دفعہ کامیاب ہوچکے تھے اور علاقے میں اثرو رسوخ کا حامل بن گئے تھے تو ان کے پاس انتخابات میں لگانے کے لئے روپے پیسے کا بہتات اور ان کی زوندرے برادری کی اکثریت میں ہونا اورماضی میں الیکشن کے موقع پر آپس میں اتحادو اتفاق کا مظاہرہ اور یارخون ویلی میں حاجی صاحب کا خصوصی مقبول عام شخصیت ہونا کچھ ایسے مستحکم اور مضبوط factorsتھے کہ جن کی بنیاد پر ان کی کامیابی پر یقین کرنا کوئی غلط بات نہ تھی۔

 

انتخابی مہم کے شروع ہونے کے بعد جب جے یو آئی کا طلحہ محمود قومی اسمبلی کے لئے چترال پہنچااور دولت کی نمائش کرکے ووٹروں کی توجہ اپنی طرف کھینچنا شروع کیا تو جے یو آئی کے امیدوار شکیل احمد اور ان کے حامی بھی کچھ ذیادہ ‘پرامید ‘ ہوگئے۔ شکیل احمد کا تعلق موڑکھو کے گاؤں نشکو سے ہے جوکہ پشاور میں مقیم ہے جہاں وہ پراپرٹی کے کاروبار سے وابستہ ہونے اور اہل ثروت ہونے کی بنا پر اپنے حلقے کے عوام کے لئے تعارف کا ذیادہ محتاج نہیں رہا تھا۔ جے یو آئی کی موڑکھو اور تورکھو میں ووٹروں کی خاصی تعداد ہونے اور طلحہ محمود کی ‘فیاضیوں ‘کی وجہ سے شکیل احمد کامیابی کے ذیادہ قریب سمجھے جاتے تھے۔

 

جماعت اسلامی کے مولانا جاوید حسین کو پوٹنشل امیدوار وں میں شامل کیا جارہا تھا کیونکہ گزشتہ بلدیاتی الیکشن میں انہوں نے 9ہزار سے ذیادہ ووٹ حاصل کیا تھا اور اب کی بار تورکھو سے اس جماعت کو ذیادہ ووٹ پڑنے کی امیدتھی جہاں اس کی مضبوط تنظیمی ڈھانچہ موجود ہے جبکہ مستوج تحصیل میں ان کے گہرے ذاتی روابط موجود تھے۔

 

پی ٹی آئی کے نامزد امیدوار ثریا بی بی کو پارٹی شروع میں ذیادہ اہمیت نہیں دی جارہی تھی کیونکہ ہر ممکن طورپر اس پارٹی کو زیر کرنے کی کوششیں جاری تھیں اور یہ خیال کیا جاتا تھاکہ پرویز خٹک کے ذریعے اس پارٹی کا گھر گھر سے صفایا کیا جارہا ہے۔ ثریا بی بی کا نام پارٹی کے حلقوں سے باہر اور خصوصاً موڑکھو اور تورکھو میں بہت کم جانتے تھے لیکن ان کی تعارف کے لئے ان کے والد گرامی نورعالم کا نام موجود تھا جوکہ کئی عشروں تک شہزادہ محی الدین کے دست راست کے طور پر اور دو مرتبہ ڈسٹرکٹ کونسل چترال کے وائس چیرمین کے طور پر ایک معروف سیاستدان رہے تھے۔مستوج تحصیل میں زوندرے برادری کی عددی اکثریت ذیادہ ہونے اور ان کے سب سے بڑے مدمقابل حاجی غلام محمد کا تعلق اس قبیلے سے ہونے کی وجہ سے بھی ان کی پوزیشن کو کمزور سمجھا جارہا تھا۔

chitraltimes ppp upper chitral election campaign mastuj NA1 and PK1 10

سراج علی خان ایڈوکیٹ پی پی پی کی طرف سے میدان میں اترنے والا کارزار سیاست میں نیا نام نہیں تھا بلکہ 2001ء کی بلدیاتی الیکشن کے گرما گرم مقابلوں میں وہ یونین کونسل کا ممبر اور ضلع کونسل کا ممبر منتخب ہوا تھا۔ پی پی پی ہمیشہ اپر چترال میں مضبوط سیاسی طاقت رہا ہے اور اپر چترال میں جب بھی صوبائی اسمبلی کا حلقہ الگ ہوا تو اس میں ونر یا رنراپ پوزیشن سے نیچے کبھی نہیں آئی۔

 

آزاد امیدواروں میں تحریک حقوق چترال کے سربراہ مختار نبی المعروف پیر مختار اور نوید سلطان بھی میدان میں سرگرم عمل تھے۔ پیر مختار چترال کے حقوق کے لئے پشاور اور اسلام آباد میں چالیس دن دھرنا دینے اور چترال سے باہر ستم رسیدہ چترالیوں کی مدد کے حق میں آواز بلند کرکے تعارف کا محتاج نہیں رہا تھا جبکہ نوید سلطان بہت ہی موثر انداز میں ووٹروں کو یہ سمجھانے کی کوشش کررہا تھاکہ وہ آزاد امیدوار کو ہی کامیاب کرے تاکہ وہ حکمران جماعت میں شمولیت اختیار کرکے علاقے کے مسائل حل کرسکے اور ساتھ وہ یہ بھی باورکرانے کی کوشش کرتے رہے کہ کارپوریٹ سیکٹر سے تعلق رکھنے اور اعلیٰ تعلیم یافتہ ہونے کے ناطے وہ دوسروں سے بہتر انداز میں ان کی نمائندگی کی اہلیت رکھتے ہیں۔

 

الیکشن کمیشن آف پاکستان کے فارم 48کے مطابق اس حلقے میں کل ووٹروں کی تعداد 130189ہے جن میں سے کل 66265ووٹ پول ہوئے (ووٹ ڈالنے کی شرح یعنی ٹرن آوٹ 51فیصد رہا)۔ ان پول شدہ ووٹوں میں 1636مسترد قرار دئیے گئے جبکہ درست قرار دئیے گئے 64629ووٹومیں سے ثریا بی بی نے 18939، جے یو آئی کے شکیل احمد 10538، پی پی پی کے سراج علی خان نے9290، جماعت اسلامی کے جاوید حسین نے 9235، پی ٹی آئی پارلیمنٹرین کے غلام محمد 8878، مسلم لیگ (ن) کے محمد وزیر 2697 جبکہ آزاد امیدوار نوید سلطان3019،مختار نبی المعروف پیر مختار 939 اور پروفیسر رحمت کریم بیگ نے 400ووٹ حاصل کی۔ اس حلقے میں پوسٹل بیلٹ پیپروں کی تعداد 543تھی جن میں 440ووٹ غلام محمد کے حصے میں آئے۔

 

اس حلقے میں مستوج، موڑکھو اور تورکھو تین قدیمی انتظامی یونٹ یعنی سب تحصیلیں ہیں جہاں دو تحصیلوں یعنی مستوج اور تورکھو میں ثریا بی بی نے جبکہ موڑکھو میں جماعت اسلامی دوسروں پر بازی لے گئے۔ مستوج میں ڈالے گئے 23000ووٹوں میں سے ثریا نے 10380 ، سراج علی خان نے 5644 ، غلام محمد نے 3580 ، جاوید حسین نے 1841 اورشکیل احمد نے 1528 ووٹ حاصل کئے۔ موڑکھو میں ڈالے گئے 20ہزار ووٹوں میں ثریا نے4565، سراج علی خان نے 1738، غلام محمد نے 2063، جاوید حسین نے 6026 اورشکیل احمد نے 653 ووٹ حاصل کئے۔ اسی طرح تورکھو کے 9 ہزار ووٹوں میں سے ثریا نے 3478، سراج علی خان نے 1337 ، غلام محمد نے 1426، جاوید حسین نے 1090 اورشکیل احمد نے 1838 ووٹ حاصل کئے۔

Chitraltimes poling election day 2024 8 1

ہر حلقے کی طرح اس حلقے میں بھی کچھ ایسے علاقے ہیں جہاں ہمیشہ ایک خاص امیدوار یا سیاسی پارٹیوں کے حق میں غیر منقسم ووٹ آتے ہیں اور یوں الیکشن کے نتیجے کو بدلنے میں کردار ادا کرنے کی قوت رکھتے ہیں اور اس حلقے میں ان علاقوں میں اویر، بونی، یارخون قابل ذکر ہیں۔ یارخون ویلی ناضی میں دو مرتبہ غلام محمد کی کامیابی کا سب سے بڑا سبب بن گئی تھی لیکن اس دفعہ ان کے حاصل کردہ ووٹوں کی تعداد مایوس کن رہا۔ اس دفعہ بریپ سے لے کر یارخون لشٹ تک 17پولنگ اسٹیشنوں (ماسوائے بروغل) میں 5139ووٹ ڈالے گئے جن میں سراج علی خان اور ثریا بی بی میں زبردست مقابلہ دیکھنے میں آیا جنہوں نے بالترتیب 1637اور 1338اسکور کیا۔ غلام محمد کو اس دفعہ صرف 844ووٹ آئے جبکہ اس وادی پر ان کی کامیابی کا دارومدار رہا تھا۔ جے یو آئی کے امیدوار کو اس وادی میں صرف225اور جماعت اسلامی کو صرف 62 ووٹ ملے۔

 

اویر کے 7پولنگ اسٹیشنوں میں ڈالے گئے 3186ووٹوں میں سے شکیل احمد اور جاوید حسین کے مابین کانٹے دار مقابلہ ہوا جہاں 951نے کتاب پر اور 902نے اسلام کی خاطر ترازو پر مہر ثبت کردی۔ دوسرے امیدواروں میں ثریا بھی آگے رہی (شائد لطیف کی وجہ سے) جس کی مرغی پر 564ٹھپے کے نشان پائے گئے جبکہ غلام محمد کی پگڑی کو 417نے سیاہی لگادی تھی اور تیر چلانے والے بھٹو کے دیوانے اپنی تعداد میں 206نکلے۔

بونی کے 6پولنگ اسٹیشنوں میں ثریا بی بی نے حیران کن طور پر غلام محمد کوپیچھے دھکیل دیا جس نے بونی کے 3800ووٹوں میں سے 1085ووٹ لے لی جبکہ غلام محمد کے ووٹ 829رہے۔ اسی طرح سراج علی خان کو بونی سے 582، شکیل احمد کو 290اور جاوید حسین کو 332ووٹ ملے۔

 

اپر چترال کے معروف تجزیہ کار ظفر اللہ پرواز نے سابق ایم پی اے غلام محمد کی ناکامی اور ثریا بی بی کی کامیابی کے وجوہات کو دو لفظوں میں بیان کرتے ہوئے کہاکہ غلام محمد کا بار بار پارٹی بدلنے (یعنی مسلم لیگ ق سے آل پاکستان مسلم لیگ پھر جمعیت علمائے اسلام پھر پی پی پی اور پھر پی ٹی آئی پارلیمنٹرین کا سفر) سے ان کی ذاتی ووٹروں پر برا اثر مرتب ہواجبکہ ثریا بی بی کو عمران خان کے خلاف کاروائیوں پر ہمدردی کے ووٹ پڑگئے۔

chitraltimes form 47 pk1 Chitral upper


شیئر کریں:
Posted in تازہ ترین, مضامین
86490