Chitral Times

Dec 6, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

نا صر الملک کی سوانح عمری پر تاثرات (دوسری قسط )..تحریر پرو فیسر اسرار الدین

شیئر کریں:

مو لانا عبد الودود صاحب (کاری) نے اپنے والد صاحب مولانا عبد الحنا ن مر حوم کے مکمل حا لا ت لکھ کے بھیجے تھے۔ اور یہ بھی لکھا تھا کہ چترال میں پر انے بد عات کو ختم کر نے کا سہر ا سب سے پہلے ان کے سر ہے۔“ میں نے اس کتاب میں حضرت مو لا نا عبد الحنان صاحب ؒ کا ذکر تاریخ چترال کے حوالے سے کیا تھا۔ بعد میں یہ پتہ چلا کہ حضرت مولا نا اویون ؒ کے دہلی سے چترال آنے کا ایک ذریعہ یہ بنے تھے۔ اورحضرت مو لا نا اویون ان کو اکثر یا د کیا کر تے تھے۔ قاضی غلا م جیلا نی مر حوم نے بھی اپنے خا ندان کے ساتھ ہز ہا ئی نس کے تعلق کا تفصیل سے ذکر کر کے خط لکھا تھا۔ نیز اس نے دروش میں ہز ہا ئی نس کے ایک دورے کے مو قع پر خان نوروز خا ن آف شیدو جو ایک اہم سما جی شخصیت تھے۔ کی طرف سے ایک پشاوری شاعر شیرزادہ خان شیر جو اس زما نے میں دروش میں ڈاک انسپکٹر تھے۔ کا قلمبند کر دہ ایک قصیدہ بھی مجھے بھیجا تھا۔ جو ذیل بطور یا د گار پیش کیا جا تا ہے۔
قصیدہ در تہنیت ان حضرت ہز ہا ئی نس سر حا جی محمد نا صر الملک مہتر چترال


ہر ایک بشر پر فرض ہے حد و ثنا ء رب
پیدا کئے جس نے زمین اسمان سب
لازم ہے سب پہ۔۔۔۔مدح شہہ عرب
مو لا کہ جس کی شان ہے اورہا شمی لقب
مد نی ہے بھیجا ہے جو صلو ۃ زیست بھر
سردار کا ئنات پہ اور اسکی آل پر
آتاہوں اب میں بر سر مطلب و مد عا
یعنی ہے جسکے واسطے میرا قلم اُٹھا
مشکل ہے کا م گر چہ بہت پر کروں میں کیا
نوروز حا جی جان ہے مجبور کرالیا
حا می اگر قلم کا میرے رب جہاں ہو
چترال کے مہتر کی صفت مجھ سے بیان ہو
اوصاف قصیدہ تیرے کیا میں کروں بیاں
کب تیرے ذات چشم زما نے سے ہے پنہاں
شوکت پہ تیری ذراء ایران کی فدا شان
نو شیروان کا عدل تیرے عدل پہ قر بان
اقبال سکندر کا ہے دربان تیرے درکا
گنجیۂ قارون ہے صدقہ تیرے سر کا
تو فیض کا وہ چشم ہے چترا ل میں جا ری
باقی فیض جس سے اہلیت تیری ساری
دم تیرا ہے یہ اور نظر ایز د باری
آئی ہے جو چترا ل یہ فصل بہاری
مداح تیرے سبھی ہیں کیا ملا و قاضی
خو ش تجھ سے رعیت تو خدائی سے راضی
ممکن نہیں کہ ان کی دعا جائے بے اثر
نیکی بھلائی رہتے ہیں ہوئی ہے خو ش ثمر
تو تیری خدا داد ذہا نت ہے سر بہ سر
کہ مل گیا خطاب تجھے گورنمنٹ سے ”سر“
دنیا کو ہے خبر کہ وفاؤں کا صلا ہے
شامل بھی مگر اس میں غریبوں کی دعا ہے
مدت کے بعد آج کھلا مد حت کا باب
لا سا قی گلفام پلا آج بے حساب
بو تل کے سماک پوں اڑیں یوں لے شراب
عالم تما م میں نہ ہو جس کا کوئی جواب
خم مئے کے اس قدر لٹیں تیرے نثار آج
محروم کوئی بھی نہ رہے بارہ خوار آج
اے شیر زادہ خا ن دورش کے کو ئل
گو مدح سرائی پہ نہیں دل تیرا ما ئل
گو کام یہ تیرے لئے مشکل سے ہے مشکل
کچھ ہو آج گا نے کے یہ کہدو سر محفل
یہ مر تبہ یہ بخشش اللہ تبارک
ہو بزم ادب دروش کی جا نب سے مبارک


(پیشکش منجا نب جناب حا جی نوروز خان پریزیڈنٹ بزم ادب دروش)
مجھے افسوس ہے کہ قاضی غلا م جیلا نی مر حوم کی وفات کے بعد ان کی اس خط کے اشاعت کی نو بت آرہی ہے۔ اللہ تعا لےٰ ان کی مغفرت فرمائیں (آمین)بروز سے تعلق رکھنے والے میرے ایک نہا یت محترم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جو محقق ہیں اور کئی کتا بوں کے مصنف ہیں یعنی اخو نزادہ میرذدہ افضل واحد بیگ (سلجو قی) نے کتاب کو شوق سے پڑھا اور تعریف کی البتہ ایک بات پر گرفت بھی فر مائی جو مندر جہ ذیل ہے۔


کتاب کے صفحہ 108پر میں نے محمد عرفان عرفان کے حوالے سے ایک مختصر واقعہ لکھا ہے۔ جو کسی کے انفرادی حیثیت کے بارے ہے وہ واقعہ یوں ہے۔ ”کہتے ہیں کہ ان کے زما نے میں بہت سے نو جوان چترال سے با ہر جا نے کے لئے ان کی خد مت میں حا ضر ہو تے تھے کہ ان سے اجا زت نا مہ لے لیں۔ ایک دن تین نو جوان ان کی خد مت میں حا ضر ہوئے۔ ان میں سے ایک کوئی ہنر سیکھنے، دوسرا مزدوری اور تیسرا دینی علم سیکھنے چترا ل سے با ہر جا نا چاہتا تھا۔ ہز ہا ئی نس نے ہنر سیکھنے والے کو 20روپے،مزدوری کے لئے جا نے والے کو 10اور دینی علم سیکھنے والے کو 5روپے دیدئیے۔ اس پر کسی صاحب نے ان سے پوچھا! حضور!سمجھ نہیں آیا کہ اس دینی علم کو حاصل کرنے والے کو اپ نے کم رقم امداد کے طور پر دی پتنہ نہیں کیوں؟آپ نے فر ما یا کہ اس نو جوان میں اتنی استطا عت نہیں دیکھتا کہ یہ وہاں دین کا پورا علم حا صل کر سکے۔

ایسے لو گ وہاں سے دین کا پورا علم حا صل کئے بغیر واپس آجا تے ہیں۔ اور یہاں یا تو یہ آپس میں ایک دوسرے کو نیچا دکھا نے یا لو گوں کو کفر کے فتوے سنا نے میں لگے رہتے ہیں۔ جبکہ یہ ہنر مند لو گ یا مزدوری کے لئے جا نے والے لو گ کم از کم با ہر سے کچھ پیسے یا کوئی ہنر کا کام تو ریا ست کے اندر لے آنے کے قا بل ہو جا تے ہیں“۔اخو نزادہ صاحب کا اعتراض اس طرح تھا۔ کہ اس عمل سے ہز ہائی نس کی علم دوستی کی جو صفت مشہور تھی اس کی نفی ہو جاتی ہے اور یہ ایسی بات کسی کی اڑائی ہوئی بات ہو گی جس کا اس کتاب میں ذکر منا سب نہیں تھا“۔ بہر حال اخونزادہ صاحب کی رائے اپنی جگہ میرے خیال میں یہ ایک انفرادی واقعہ ہو گا۔ ہمیشہ ایسا نہیں ہو تا ہو گا۔ بعض لو گوں سے یہ سنا کہ آپ قابل طا لبعلموں کی بہت زیا دہ حو صلہ افزائی کرتے تھے اور ان کی دل کھول کر مدد بھی کر تے تھے۔ بہر حال میں اس کا کتاب میں دلچسپی کے لئے مشکور ہو ں۔ اور ان کی رائے کی قدر کر تا ہوں۔بعض لو گ ہز ہا ئی نس مر حوم کے بارے فر ضی جھو ٹے باتیں بنا کے بھی پرو پیگنڈے کر تے ہیں۔ ایک صاحب نے میرے بھا ئی نسیم احمد صاحب کے سامنے کہا کہ جناب شاہ مرحوم نے کسی کو بتا یا کہ ہز ہائی نس نا صر الملک نے ان کو خا ص ہدایت کی تھی کہ سکول میں داخلہ صرف ادم زادہ طبقہ سے تعلق رکھنے والوں کو دیدیں دوسروں کی حو صلہ شکنی کریں۔ اس الزام میں پہلا جھوٹ یہ ہے کہ جناب شاہ مرحوم ہز ہائی نس کی وفات کے دو سال بعد آکے H.Hمظفر الملک مہتر کے زما نے میں ہیڈ ما سٹر لگ گئے تھے اگر اسکو اگر یہ ہدایت ملی ہو گی۔ تو مظفر الملک مر حوم کی طرف سے جو کہ کسی طرح بھی قا بل یقین نہیں۔ ہز ہائی نس محمد مظفر الملک بھی اپنے بھا ئی کی طرح علم دوست اورلو گوں کو تعلیم حا صل کرنے کے لئے حو صلہ افزائی کرتے تھے۔ دوسری بات یہ ہے کہ ہز ہائی نس نا صر الملک نے جب سکول کی ابتدا کی تو ان ابتدائی زما نوں میں بہت کم لو گ پڑھنے کے شوقین تھے۔ اور ہز ہائی نس کو جگہ جگہ اپنے اہل کا روں کے ذریعے لو گوں کو اپنے بچوں کو سکول میں بھیجنے کے لئے راغب کیا جا تا تھا۔ اسکے باوجو د تما م سکول و مد رسہ میں زیا دہ پڑھنے والے نہیں ہو تے تھے۔ بہر حال واللہ اعلم۔


ٓآ خر میں یہ ذکر کرنا ضروری سمجھتا ہو ں۔ کہ علا قہ مستوج میں اس کتاب کی خا ص کر بہت زیا دہ پذیر ائی ہوئی۔ کئی لو گوں کے تہنیتی پیغا مات بھی مجھے آئے۔ صو بدار میجر سلطان الدین صاحب نے بتا یا کہ جب اس نے ایک اہم شخص کو یہ کتاب پیش کی تو اس نے اپنی خوشی کا اظہار ان الفاظ سے کیا۔ کہ صو بیدار میجر صاحب! یہ اس طرح ہے گویا آپ نے مجھے ایک اعلیٰ نسل کا گھوڑا پیش کیا ہو۔“


باقی کتاب کی 99فیصد جلدوں کا اوٹ آف سٹاک ہو نا خو د اسکی شہا دت ہے کہ کتاب کو قبو لیت عامہ کی سند نصیب ہوئی۔
شکر الحمد اللہ


شیئر کریں: