Chitral Times

Apr 17, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

چترال میں خودکشیوں کا رجحان ۔ میر سیما آ مان

Posted on
شیئر کریں:

چترال میں خودکشیوں کا رجحان ۔ میر سیما آ مان

پچھلے چند دنوں میں جس تناسب سے خود کشیوں کے واقعات ہوئے ہیں عقل دنگ رہ گئی ہے کہ چترال جیسے حسین وادی جہاں باہر کے لوگ اپنی ڈپریشن دور کرنے آ تے ہیں وہاں زندگی اتنی سستی کیوں ہوگئی ہے ۔۔ ڈاؤن ڈسٹرکٹ میں ناکام شادیوں نے جب زور پکڑا تو سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ بڑی وائرل ہورہی تھی کہ بیٹا ہم نے انسان کا بچہ سمجھ کر رخصت کیا ہے جانور بنے تو واپس آ نا کیونکہ طلاق یافتہ بیٹی بحرحال بیٹی کی لاش اٹھانے سے بہتر ہے ۔ ہمارا سب سے بڑا مسئلہ ہی یہ ہے کہ ہمارا یہ پوسٹ صرف سوشل میڈیا کہ ہی زینت ہے ذاتی ذندگیوں میں ان اقوال ذریں کی کوئی گنجائش نہیں ہے ۔۔ہم کبھی اپنے بچے سے نہیں کہہ سکتے کہ بیٹا فیل ہوجاو تو کوئی بات نہیں ۔۔کیونکہ فیل ہونا کم نمبر لینا یا کوئی بھی ناکامی مرجانے سے بہتر ہے ۔۔

 

chitraltimes suicide river koghuzi

ہمیں قبول ہی موت ہے ناکامی نہیں ۔۔وجہہ احساس کمتری ۔۔ چترال میں منفی سرگرمیوں سمیت بڑھتی ہوئی خود سوزیوں کی سب سے بڑی وجہہ یہی احساس کمتری ہے جسکے سبب لوگوں نے اپنی زندگیاں عذاب بنائی ہوئی ہیں ۔۔ ہمیں خود کو پرفیکٹ بنانے حتیٰ کہ سمجھنے کی اس قدر عادت پڑ گئی ہے کہ ذرا سی کمی بیشی ہم سے برداشت ہی نہیں ہوتی ۔۔ ہمیں لگتا ہے کہ شادی ہوگئی ہے تو ہر صورت کامیاب ہی ہونا ہے بچہ امتحان دے رہا ہے تو ہر صورت ٹاپ کرنا ہے بندہ کمانے نکلا ہے تو ہر صورت کمائی لاکھوں میں ہی ہونی چاہیے کیوں ۔۔۔۔کیونکہ ہمیں عادت پڑ گئی ہے ۔ کثرت کی ۔۔ہمارے باپ دادا جس دور میں پیدا ہوئے وہ اسائشات کی قلت کا دور تھا ۔۔ سکوں سے جئے سکوں سے مرے ہم نے اسائشات کا ذرا سا منہ تو کیا دیکھ لیا اب انکے بغیر جینے کا تصور نہیں کر پارہے ہیں ۔۔۔ہمیں اپنی نسلوں کو یہ بتانے کی اشد ضرورت ہے کہ دنیا میں جتنے بھی لوگ کامیاب دکھ رہے ہیں یہ کہیں ہزار نا کامیوں سے گزرے ہیں تب کہیں جا کر کامیاب ہوئے ہیں ۔۔شوبز میں جتنے لوگ ہیں جو تین تین چار چار شادیاں کرتے ہیں تب کہیں جا کر کوئی ایک شادی کامیاب ہوتی ہے ۔۔ ہم بڑے بننے کے خواب دیکھنے والے چھوٹے غموں کے گرداب سے نہیں نکل پاتے ۔۔

 

بچہ میڈیکل میں نہیں جاسکا ساری زندگی کے لیے طعنہ بن گیا ۔۔ بیٹی کا رشتہ نہیں ٹوٹا خاندان میں قیامت ٹوٹ گئی۔شادی کے بعد ایک کے بعد ایک بیٹیاں پیدا ہورہی ہیں۔ بیٹا کیوں نہیں ہو رہا ۔۔عورت کی سکون غارت ہو جاتی ہے ۔۔یہ جو اقوال ذریں ہم سوشل میڈیا پہ شیئر کرتے رہتے ہیں کہ سسرال برا ہے تو بیٹی واپس آ جاؤ ۔۔یہ کہنا تو بڑی ہی دور کی بات ہے ہم تو شادی شدہ بیٹی سے یہ بھی پوچھنا گوارا نہیں کرتے کہ بیٹا تمھارے ساتھ ان کا برتاو کیسا ہے ۔۔ہم تو حقیتا آ ج بھی بیٹی کو رخصت کرتے وقت سسرال سے اسکا جنازہ ہی اٹھنے کی دعا کرتے ہیں اور اسی کو شادی اور خاندان کی کامیابی سمجھتے ہیں ۔۔کتنی بوریاں لاشوں کی آگئی ہیں ۔۔کیوں۔کیونکہ میکہ میں رخصتی کے ساتھ انکے گنجائش ختم ہوگئی تھی ہمیں جنازے اٹھانا قبول ہے لیکن ہم ناکام شادیوں کا بوجھ اپنے اردگرد کے زمینی خداوں کے طنز و طعنوں کا بوجھ نہیں اٹھا سکتے ۔۔بلکل اسی طرح ہم دریاؤں سے طلبا کے لاش اٹھانے کے لیے تیار ہیں لیکن امتحان میں نمبرز فلاں فلاں فلاں کے برابر آ نے چاہیے ۔۔۔۔۔افسوس ۔۔

 

لاہور کی ایک بچی ارفا کریم نو سال کی عمر میں پوری دنیا میں جسکی ذہانت کے ڈنگے بج گئے لیکن منوں مٹی تلے جا سوئی ۔۔ پورے ملک سمیت خود چترال کے کہیں نوجوان خوبصورتی ذہانت اعلیٰ ڈگریوں سے لبریز ہوئے لیکن عین جوانی میں سارے خواب تہہ خاک لیکر جا سوئے اور ہم نے عبرت نہیں لی ۔۔۔۔ ہمیں لگاکہ موت تو صرف انہی لوگوں کو آ نہ تھی ہمارے پاس تو بڑا وقت ہے ہم مریں گے تو ہمارے گھر کون سنبھالے گا ہمارے رشتے کون سنبھالے گا یہ سب تو ہماری دم سے ہے۔۔ یقین کریں قبرستان میں سویا ہوا ہر شخص اسی غلط فہمی کا شکار تھا کہ انکے بغیر گھر نہیں چلے گی دنیا تک جائے گی کرسی خالی رہے گی مگر دیکھ لو دنیا اسی شان وشوکت سے چل رہی ہے۔۔ تو اپنی اولاد کو اپنے ارگرد لوگوں کو جینے دو انکی کمیوں سمیت وہ عزت میں کمتر ہیں ۔۔نا لائق ہیں کم حیثیت ہیں بد صورت ہیں غریب ہیں بد کردار ہیں جو بھی ہیں ۔۔۔ اپنی زندگیاں جینا سیکھو خدارا جیو اور جینے دو ۔۔ آپکے لیے بہترین زندگی کا میعار جو بھی ہو اسکو دوسروں پر مسلط مت کرو ۔۔کیونکہ کوئی دوسرا انسان تمھاری خوابوں کے بھینٹ چڑھنے کے لیے اس دنیا میں نہیں آ یا ہے۔۔ لہذا اپنی احساس کمتری کو اپنی ذات تک محدود رکھیں دوسروں کو انکے انداز اور انکے میعار کے ساتھ جینے دیں ۔

chitraltimes drosh suicide two sisters chitral lower

chitraltimes drosh suicide two sisters3 scaled chitraltimes women suicide chitral river rescue 1122 operation 1


شیئر کریں:
Posted in تازہ ترین, خواتین کا صفحہ, مضامینTagged
78590