Chitral Times

May 19, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

چیف جسٹس پاکستان کی تنخواہ صدر اور وزیرِ اعظم سے بھی زیادہ, آڈیٹر جنرل سے سپریم کورٹ کے آڈٹ کی تفصیلات طلب، سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی گراس ماہانہ تنخواہ 1527399,روپے

شیئر کریں:

چیف جسٹس پاکستان کی تنخواہ صدر اور وزیرِ اعظم سے بھی زیادہ, آڈیٹر جنرل سے سپریم کورٹ کے آڈٹ کی تفصیلات طلب، سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی گراس ماہانہ تنخواہ 1527399,روپے

صدر مملکت کی گراس ماہانہ تنخواہ 896550, وزیر اعظم کی گراس تنخواہ 201574, وفاقی وزیر 338125,رکن اسمبلی 188000، سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سپریم کورٹ کی گراس ماہانہ تنخواہ 1527399, سپریم کورٹ کے جج کی گراس سیلری1470711, اور گریڈ 22 کے وفاقی سرکاری افسر کی ماہانہ گراس سیلری 591475 روپے ہے۔

اسلام آباد(چترال ٹایمز رپورٹ )پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس منگل کو پی اے سی کے چیئرمین نورعالم خان کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوا۔ اجلاس میں کمیٹی کے ارکان سمیت متعلقہ سرکاری اداروں کے افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں اکاؤنٹنٹ جنرل آف پاکستان کی جانب سے سپریم کورٹ کے 11-2010 سے 21-2020 کے لازمی اخراجات کی تفصیلات پی اے سی کے ایجنڈے پر لائی گئیں۔ چیئرمین پی اے سی نورعالم خان نے کہا کہ سپریم کورٹ کے پرنسپل اکاؤنٹنگ افسر نہیں آئے۔شیخ روحیل اصغر نے کہا کہ ان کی عدم موجودگی میں ان کی گرانٹس کا جواب کون دے گا۔ نورعالم خان نے کہا کہ ہم آئین سے ماورا کوئی کام نہیں کریں گے۔ سپریم کورٹ کے پرنسپل اکاؤنٹنگ افسر کو بلایا گیا تھا۔ سپریم کورٹ کے 83 آڈٹ اعتراضات بنے تھے جن میں سے صرف 12 سیٹل ہوئے ہیں۔ پی اے سی کو بتایا گیا ہے کہ صدر مملکت کی گراس ماہانہ تنخواہ 896550, وزیر اعظم کی گراس تنخواہ 201574, وفاقی وزیر 338125,رکن اسمبلی 188000، سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سپریم کورٹ کی گراس ماہانہ تنخواہ 1527399, سپریم کورٹ کے جج کی گراس سیلری1470711, اور گریڈ 22 کے وفاقی سرکاری افسر کی ماہانہ گراس سیلری 591475 روپے ہے۔ اٹارنی جنرل منصور اعوان نے آرٹیکل 31 اے اور سی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کے اخراجات لازمی اخراجات کی مد میں آتے ہیں ان پر پارلیمنٹ کی ووٹنگ نہیں ہوتی۔سپریم کورٹ کی فل کورٹ کا فیصلہ تھا کہ رجسٹرار پیش نہیں ہونگے تاہم حسابات کی تفصیلات نہ دینے کا فیصلے میں ذکر نہیں ہے۔

 

سپریم کورٹ کے جو پیرے سیٹل نہیں ہیں ان کی تفصیلات پی اے سی مانگ سکتی ہے۔ سید حسین طارق نے کہا کہ لازمی اخراجات پر ووٹنگ نہیں ہوتی مگر بجٹ کے موقع پر بحث ہوتی ہے۔ آڈیٹر جنرل نے کہا کہ ہم تمام اداروں کے حسابات کا آڈٹ کرتے ہیں۔ نور عالم خان نے کہا کہ آڈیٹر جنرل آفس نے سپریم کورٹ کا 2015 سے 2021 تک کا آڈٹ کیا ہے۔شیخ روحیل اصغر نے کہا کہ تنخواہوں کے علاوہ ان کو حاصل مراعات کی تفصیلات بھی طلب کی جائیں۔ نورعالم خان نے کہا کہ سب سے کم تنخواہ پارلیمینٹیرین کی ہے۔ برجیس طاہر نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 171 اور 172 کے تحت ہر وہ ادارہ جو سرکار سے پیسہ لیتا ہے آڈٹ کا پابند اور پی اے سی کو جوابدہ ہے۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ لازمی اخراجات کا آڈٹ ہو سکتا ہے۔ پی اے سی آڈٹ رپورٹ کا جائزہ لے سکتی ہے۔ پی اے سی نے آڈیٹر جنرل سے سپریم کورٹ کے آڈٹ کی تفصیلات طلب کر لیں۔ نورعالم خان نے کہا کہ ہم نے سپیکر اور چیئرمین کو بھی خط لکھا ہے کہ عرفان قادر سمیت سینئر وکلا سے مشاورت کی جائے۔ 2010 سے 2023 تک سپریم کورٹ کو دیئے کئے گئے فنڈز کی تفصیلات فراہم کی جائیں۔پی اے سی کے بعض ارکان نے کہا کہ سپریم کورٹ کے رجسٹرار کو ایک موقع اور دیں۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ جو انفارمیشن پی اے سی کو درکار ہے اس سے بھی انہیں آگاہ کیا جائے تاکہ وہ ساری تفصیل لے کر آئیں۔ پی اے سی نے آئندہ منگل کو رجسٹرار سپریم کورٹ کو پی اے سی میں پیش ہونے کا ایک اور موقع دیتے ہوئے کہا کہ اگر وہ نہ آئے تو ان کے وارنٹ گرفتاری اور سمن دونوں جاری ہوں گے۔ پی اے سی نے سٹیٹ بنک کو بھی ہدایت کی کہ آڈیٹر کو اپنے حسابات کی تفصیل فراہم کرے۔

 

نورعالم خان نے کہا کہ افغانیوں کے پنجاب، کے پی اور دیگر صوبوں میں شناختی کارڈ بنتے ہیں۔ 9 مئی کے واقعات میں بھی مبینہ طور پر بعض افغانیوں کا ہاتھ ہے۔ جو بھی ریٹائرڈ سرکاری ملازمین ان واقعات میں ملوث ہیں ان کی پنشن روکی جائے۔ جلاؤ گھیراؤ میں ملوث نوجوانوں کے کیریکٹر سرٹیفکیٹس روکے جائیں۔وفاقی وزیر نے کہا کہ ہم موسمیاتی تبدیلی سے متاثرہ ساتواں ملک ہیں جس کی وجہ سے مزید سیلاب اور خشک سالی کے خطرات ہیں، مستقبل میں فصلوں کی پیداوار کے حوالے سے روایتی طریقے ختم ہوجائیں گے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ کانفرنس سے اچھی تجاویز سامنے آئیں گی جس پر عمل کرنے کی کوشش کی جائے گی، علم پر عمل ہونا چاہئے اس کے بعد ہی اس کا فائدہ ہوسکتا ہے۔ ہالینڈ کی سفیر ہینی ڈی وریس نے کہا کہ سیلاب انہیں نیدرلینڈ میں 1953 کے سیلاب کی یاد دلاتا ہے، اس وقت پاکستانی عوام نے ڈچ آبادی کا ساتھ دیا، ایسی چیز جو بھولی نہ ہو۔سفیر نے کہا کہ ہالینڈ نے پانی کے انتظام میں مہارت ثابت کی ہے اور ڈچ تکنیکی مدد پاکستان میں سیلاب کے انتظام کے لئے ممکنہ حل پیش کرتی ہے، وہ یہ بھی مانتی ہیں کہ 2022 کا تباہ کن سیلاب پاکستانی آبی شعبے کے لئے عکاسی اور ترقی کا ایک منفرد موقع فراہم کرتا ہے۔ ورکشاپ ڈچ رسک ریڈکشن ٹیم کے نتائج پر مبنی تھی۔ 2022 کے سیلاب کے بعد پاکستان نے نیدرلینڈ سے کہا کہ وہ سیلاب اور پانی کے انتظام کے لئے تکنیکی مدد فراہم کرے۔ مشن نے سندھ اور بلوچستان میں متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا اور سیلاب جیسے شدید واقعات کے طویل مدتی تخفیف کے لئے ایک رپورٹ تیار کی۔ورکشاپ کے دوران ڈی آر آر ٹیم نے دیگر سٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر مزید تعاون اور مہارت کو یکجا کرنے کے مواقع تلاش کئے۔

 

بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا کہ رواں سال ترقیاتی پروگرام میں کوئی کٹوتی نہیں ہوئی، 727 ارب روپے کا پی ایس ڈی پی مکمل خرچ کریں گے، نئے مالی سال میں پی ایس ڈی پی کو بڑھانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔احسن اقبال نے کہا کہ معاشی چیلنجز اور سیلاب کی وجہ سے مشکلات کا سامنا ہے، کوشش کر رہے ہیں 2018 کے بنچ مارک پر پہنچ جائیں،پاکستان کو شدید معاشی مشکلات کا سامنا ہے،اگر کسی اور معیشت میں اتنا نقصان ہوتا تو شاید وہ بیٹھ جاتی۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت نے کسی کے خلاف انتقامی کارروائی کرنی ہوتی تو جھوٹے کیس کافی تھے، میں 2 ماہ سزائے موت کی چکی میں سزا کاٹ کر آیا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کی گرفتاری کے بعد منظم طریقے سے جو کارروائیاں کی گئی ہیں وہ ناقابل برداشت ہیں،برطانیہ میں کوئی ایسا کرے تو رات کو عدالتیں کھول کر اسے سزا دی جاتی ہے۔احسن اقبال نے کہا کہ جی ایچ کیو پر کوئی سیاسی جماعت حملہ کرے تو اسے آپ کیا کہیں گے،عمران خان کی طرز سیاست میں تشدد کا ایک کلچر ہے،اسلام آباد کی سڑکوں پر تشدد کس کے پیروکاروں نے کیا، ایم ایم عالم کے جہاز کو کس نے نذر آتش کیا،مراد سعید نے ویڈیو پیغام میں کارروائی کا کہا،اس دہشت گردی کی کوئی ریاست اجازتِ نہیں دیتی،9 مئی کو جرائم دینے والوں کو جواب دینا پڑے گا،ہم نے پوری دنیا کو بتایا جمہوری حکومت کیا ہوتی ہے،لاکھوں لوگ آئے ایک گملا نہیں ٹوٹا۔


شیئر کریں:
Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
74538