Chitral Times

Feb 29, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

اسلام آباد ہائی کورٹ کا سینیٹر فلک ناز چترالی اور شیریں مزاری کو فوری رہا کرنے کا حکم

Posted on
شیئر کریں:

اسلام آباد ہائی کورٹ کا سینیٹر فلک ناز چترالی اور شیریں مزاری کو فوری رہا کرنے کا حکم

اسلام آباد( چترال ٹایمز رپورٹ )اسلام آباد ہائی کورٹ نے پی ٹی آئی رہنما شیریں مزاری کو فوری رہا کرنے کا حکم دے دیا۔عدالتِ عالیہ نے شیریں مزاری کی تھری ایم پی او کے تحت گرفتاری کا آرڈر کالعدم کر دیا۔اسلام آباد ہائی کورٹ نے سینیٹر فلک ناز کو بھی فوری رہا کرنے کا حکم دیا۔جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے سماعت کرتے ہوئے دلائل سننے کے بعد شیریں مزاری کی رہائی کے احکامات جاری کیے۔عدالت نے ریمارکس میں کہا کہ اللّٰہ تعالیٰ کی عدالت میں نہ سیاستدان بچانے کے لیے ہوں گے نہ کوئی اور، جس مٹیریل کی بنیاد پر تھری ایم پی او کے تحت گرفتاری کا حکم ہوا وہ پٹیشنر کو بھی دیں، یہ بھی بتائیں اگر اس مٹیریل پر تھری ایم پی او کا آرڈر نہ ہو تو کس مواد پر ہو گا؟عدالت نے شیریں مزاری کی تھری ایم پی او کے تحت گرفتاری کا ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کا آرڈر کالعدم قرار دے دیا۔پی ٹی آئی رہنما شیریں مزاری کی گرفتاری کے خلاف ان کی صاحبزادی ایمان مزاری ایڈووکیٹ نے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔آج سماعت شروع ہوئی تو پٹیشنر ایمان مزاری کی جانب سے زینب جنجوعہ ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئیں جنہوں نے عدالت کو بتایا کہ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ نے نقصِ امن کے خدشے پر شیریں مزاری کی گرفتاری کا آرڈر جاری کیا، شیریں مزاری پر کارکنوں کو اکسانے اور اشتعال دلانے کا الزام ہے۔وکیل زینب جنجوعہ نے عدالت کو بتایا کہ شیریں مزاری 9 مئی کے بعد سے گھر پر تھیں، انہوں نے کوئی پبلک اسٹیٹمنٹ بھی نہیں دیا، سی سی ٹی وی فوٹیج اور سی ڈی آر ریکارڈ سے بھی گھر پر ان کی موجودگی کو چیک کیا جا سکتا ہے۔عدالت نے سوال کیا کہ یہ بتائیے کہ شیریں مزاری کی عمر کیا ہے؟وکیل زینب جنجوعہ نے عدالت کو بتایا کہ شیریں مزاری کی عمر 72 سال ہے، انہیں میڈیکل ایشوز بھی ہیں۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر اسلام آباد بطور ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ عدالت میں پیش ہوئے۔عدالت نے ان سے سوال کیا کہ آپ ریکارڈ کے بغیر کیوں آئے؟ مٹیریل لے کر آئیں جس کی بنیاد پر ڈیٹنشن آرڈر جاری کیا۔اس کے ساتھ ہی عدالت نے سماعت میں کچھ دیر کے لیے وقفہ کر دیا تھا۔

 

جناح ہاؤس حملہ؛ پی ٹی آئی واٹس ایپ گروپس میں شامل افراد کی پکڑ دھکڑ شروع

لاہور(سی ایم لنکس)سابق وزیراعظم عمران خان کی گرفتاری کے بعد جناح ہاؤس پر حملے کے حوالے سے پی ٹی آئی واٹس ایپ گروپس میں شامل افراد کی پکڑ دھکڑ شروع کر دی گئی۔پولیس کے مطابق حساس تنصیبات کی لوکیشنز، اشتعال انگیز پیغامات اور شرپسند مہم واٹس ایپ گروپس میں بھی چلائی گئی، جناح ہاؤس حملہ اور گرفتاریوں کے ردعمل کی منصوبہ بندی کرنے والے ایک سو انسٹھ واٹس ایپ گروپس ٹریک کر لیے گئے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ واٹس ایپ گروپس میں ایڈ موبائل نمبروں کے ریکارڈ اور رجسٹریشن کی جانچ شروع کر دی گئی، شرپسند عناصر واٹس ایپ پیغامات کے ذریعے اشتعال انگیزی کے لیے اکساتے رہے۔ واٹس ایپ اکاؤنٹس کے ذریعے اشتعال پھیلانے والوں کے اکاؤنٹس کی ٹریکنگ بھی جاری ہے۔انیسہ فاطمہ، جنید راجپوت، عثمان جٹ اور اویس علی نامی واٹس ایپ گروپس کے ارکان کو ٹریک کیا گیا۔ فہیم خان، خواجہ شفقت اور طارق علی کے واٹس ایپ اکاؤنٹس ٹریک کیے گئے۔لاہور کی مقامی قیادت کے واٹس ایپ میسجز اور روابط کا جائزہ بھی لیا جا رہا ہے، واٹس ایپ گروپ بنا کر اشتعال پھیلانے والوں کی گرفتاری کے لیے چھاپہ مار کارروائیاں شروع کر دی گئیں۔سی ٹی ڈی کے حوالے کیے گئے ملزمان کے موبائل کی فرانزک سے کروائی جاری ہے، ملزمان کے ساتھ رابطوں میں رہنے والے افراد کی گفتگو کا جائزہ لیا جائے گا۔


شیئر کریں: