Chitral Times

Jun 14, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

قومی اسمبلی: توہین پارلیمنٹ بل 2023 متفقہ طور پر منظور

Posted on
شیئر کریں:

قومی اسمبلی: توہین پارلیمنٹ بل 2023 متفقہ طور پر منظور

اسلام آباد(چترال ٹایمز رپورٹ )قومی اسمبلی نے توہین پارلیمنٹ بل 2023 متفقہ طور پر منظور کر لیا۔بل چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے قواعد و ضوابط و استحقاق رانا قاسم نون نے پیش کیا۔بل کے مطابق پارلیمنٹ یا اس کی کسی کمیٹی کی تحقیر یا کسی ایوان، رکن کا استحقاق مجروح کرنے پر سزا ہو گی۔اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر تعلیم رانا تنویر نے کہا کہ پارلیمان سپریم ادارہ ہے، یہاں پر کوئی کام ہوتا ہے اس کو ٹیک اوور کیا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ توہین پارلیمنٹ پر قانون سازی وقت کی ضرورت تھی، ہر ادارے کی توہین کا کوئی نہ کوئی قانون ہے۔رانا تنویر کا کہنا ہے کہ توہین پارلیمان پر کوئی قانون نہیں تھا، پارلیمنٹ کے کمیٹیوں کے رولز میں بھی تبدیلی کی ضرورت ہے۔

 

تحقیر پارلیمان بل کی منظوری خوش آئند ہے، ججز کی تقرری کا طریقہ کار تبدیل ہونا چاہئے،ارکان قومی اسمبلی

اسلام آباد(سی ایم لنکس)قومی اسمبلی کے ارکان نے تحقیر پارلیمان بل کی منظوری کو خوش آئند قراردیتے ہوئے کہا ہے کہ ان قوانین پرعملدرآمد بھی ہونا چاہئے، ججز کی تقرری کا طریقہ کار تبدیل ہونا چاہئے۔ منگل کو قومی اسمبلی میں نکتہ اعتراض پر مسلم لیگ (ن) کے رانا محمد قاسم نون نیکہا کہ آج کا دن ملک کی پارلیمانی تاریخ میں اہمیت کا حامل دن ہے، تحقیر پارلیمان بل کی منظوری خوش آئند ہے۔انہوں نے کہا کہ پارلیمان کو مدر آف آل انسٹی ٹیوشنز کہا جاتا ہے مگر جس طرح کا سلوک اس ادارے کے ساتھ ہوا ہے اس کی مثال نہیں ملتی۔ انہوں نے کہا کہ بل کی منظوری کے بعد ایوان کی توہین پر کارروائی ہوسکے گی۔ وفاقی وزیر تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت رانا تنویرحسین نے کہا کہ تحقیرپارلیمان بل اہمیت کا حامل ہے۔ ماضی میں وزارتوں کے سوالات کے وقت افسران حاضر ہوتے تھے، ہاؤس آف کامنز کی اپنی حوالات ہے اور وہاں پر توہین پارلیمنٹ کے ملزمان کو رکھا بھی جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ قوانین اچھے ہوتے ہیں مگر ان پر عملدرآمد بھی ہونا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ ججزکی تقرری کا طریقہ کار بھی تبدیل ہونا چاہئے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ موروثی سیاست امریکا، کینیڈا اور سنگاپور جیسے ممالک میں بھی ہے مگر پاکستان میں اس حوالہ سے پراپیگنڈہ ہوتا ہے۔ چیمبرز سے جج آرہے ہیں اور ایسے جج صاحبان فیصلے کرتے وقت اپنے اپنے چیمبرز کی طرف دیکھتے ہیں۔جب تک ججز کی تقرری کا طریقہ کار تبدیل نہیں ہوتا اس وقت تک نظام انصاف درست نہیں ہوسکتا۔سپیکر نے کہا کہ وقفہ سوالات اہم بزنس ہوتا ہے، وزیراعظم نے تمام وزارتوں کو خط بھی لکھا ہے جبکہ استحقاق کمیٹی سے بھی کہا ہے کہ وہ اس حوالہ سے اقدامات کرے۔ وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا کہ وقفہ سوالات میں تقاریر نہیں ہونی چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ پی اے سی میں ایک سال پہلے ایف بی آر کی طرف سے اعدادوشمار دیئے گئے تھے، اس وقت عدلیہ میں 2ہزار ارب روپے کے مقدمات زیر التواء ہیں، جو ادارے ٹیکس نہیں دیتے وہ 50 لاکھ روپے تک کے وکیل کرلیتے ہیں جبکہ ایف بی آر کے عام وکلا ہوتے ہیں۔


شیئر کریں:
Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
74536