Chitral Times

Dec 3, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

دنیائے صحافت کا درخشندہ ستارہ – محمد شریف شکیب

Posted on
شیئر کریں:

دنیائے صحافت کا درخشندہ ستارہ – محمد شریف شکیب

شاعر نے یہ بات شاید ارشد شریف کے بارے میں کہی تھی کہ “میں مارا جاؤں گا پہلے کسی فسانے میں.. پھر اس کے بعد حقیقت میں مارا جاؤں گا ..مرا یہ خون مرے دشمنوں کے سر ہوگا …میں دوستوں کی حراست میں مارا جاؤں گا.بس ایک صلح کی صورت میں جان بخشی ہے ..کسی بھی دوسری صورت میں مارا جاؤں گا..پاکستان میں صحافت کی دنیا کا درخشدہ ستارہ ارشد شریف کینیا کے شہر نیروبی میں شہید کر دئیے گئے۔ارشد شریف کیوں اپنی بوڑھی ماں اور بیوی بچوں کو چھوڑ کر خود ساختہ جلا وطنی پر مجبور ہوئے، انہیں متحدہ عرب امارات سے کس کے دبائو پر کینیا جانے پر مجبور ہونا پڑا، انہیں شہید کرنے کے لئے کیا منصوبہ بندی کی گئی اور اس میں کس کا ہاتھ تھا۔نیروبی پولیس کے متنازعہ بیانات سے کیا تاثر ملتا ہے۔ ارشد شریف کی صحافت سے کس کو خطرہ تھا۔ان تمام سوالات کا جواب دینا قبل از وقت ہے پاکستان کی صحافی برادری اور بین الاقوامی صحافتی تنظیموں نے ارشد شریف کےقتل کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

arshad sharif journalist

اسلام آباد ہائی کورٹ میں بھی پٹیشن دائر کی گئی ہے۔توقع ہے کہ واقعات کے تانے بانے حقائق تک پہنچنے میں مددگار ہوں گے۔ارشد شریف ایک سچے محب وطن، نڈر، بے باک اور دلائل سے بات کرنے والے بے داغ صحافی تھے۔ارشد شریف 1973 میں نیوی کے کمانڈر محمد شریف کے ہاں کراچی میں آنکھ کھولی۔بزنس ایڈمنسٹریشن اور ماس کمیونی کیشن میں پوسٹ گریجویشن کے بعد صحافت سے منسلک ہوگئے۔کئی قومی اور بین الاقوامی اشاعتی اور نشریاتی اداروں سے وابستہ رہے۔ٹی وی پروگرام “کیوں” اور “پاور پلے” نے انہیں شہرت اور مقبولیت کی بلندیوں پر پہنچایا۔انہیں گرانقدر صحافتی خدمات پر تمغہ حسن کارکردگی اور دیگر کئی اعزازات سے نوازا گیا۔ مئی 2011 میں ان کے خاندان پر اس وقت قیامت ٹوٹی جب ان کے والد حرکت قلب بند ہونے سے انتقال کرگئے۔

 

چھوٹا بھائی میجر اشرف شریف والد کی وفآت کی خبر پا کر بنوں سے اسلام آباد آتے ہوئے دہشت گردی کا نشانہ بن کر شہید ہوگئے باپ بیٹے کے جنازے ایک ساتھ اٹھے تو پورا شہر سوگوار ہوگیا۔بارہ سال بعد غمزدہ ماں کا دوسرا بیٹا ارشد شریف بھی شہادت کے رتبے پر فائز ہوگیا۔ارشد کی ماں اگرچہ اکلوتے لخت جگر کی جدائی پر نوحہ کناں ہے تاہم ان کا عزم ہے کہ ملک کو حقیقی آزادی کی منزل سے ہمکنار کرنے کی جدوجہد میں ان کا خاندان مزید قربانیاں دینے کو تیار ہے۔چٹان جیسے حوصلے والی اس ماں کے عزم کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ وطن عزیز کی حقیقی آزادی کی منزل ابھی زیادہ دور نہیں۔۔۔


شیئر کریں: