Chitral Times

Sep 30, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

قومی وسائل پر انحصار…. محمد شریف شکیب

شیئر کریں:


وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں آبی وسائل کے فروغ،ڈیموں اور پن بجلی کے منصوبوں کیلئے ایک کھرب77ارب 50کروڑ روپے مختص کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ قومی خزانے سے ان منصوبوں کے لئے164ارب روپے اور بیرونی ذرائع سے 13ارب 50کروڑ روپے حاصل کئے جائینگے۔ داسو پن بجلی گھر منصوبے کی تعمیر کیلئے 80ارب،دیامر بھاشا ڈیم کیلئے 21ارب،نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کیلئے 14.7ارب، منگلا ڈیم کی اپ گریڈیشن کیلئے 5ارب، تربیلا ڈیم کے دو توسیعی منصوبوں کیلئے 8.90ارب اور مہمند ڈیم کیلئے 7ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔پانی سے سستی بجلی پیدا کرنے کے 13 منصوبے شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ پن بجلی کی پیداوار کے نئے منصوبوں کے لئے 114ارب روپے سے زائد رقم مختص کرنے کی تجویز ہے۔ آبی وسائل کی بہتری کے 82 جاری منصوبوں کے لیے 632 ارب روپے مختص کئے جائیں گے پاکستان گلیشیرمانیٹرنگ نیٹ ورک منصوبہ بھی شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیاہے۔ منصوبے کے لیے 20کروڑ روپے رکھنے کی تجویز ہے۔ گولن گول پن بجلی منصوبے کے لیے 99 کروڑ،خیال خواڑ منصوبے کیلئے 1ارب 35 کروڑ،ورسک ہائیڈروالیکڑک پاور سٹیشن کے لیے 3ارب20 کروڑ اورلسبیلہ میں ونڈر ڈیم کی تعمیر کے لیے اڑھائی ارب روپے سے زائد رکھنے کامنصوبہ ہے۔ملک کے آبی وسائل کو توانائی کے حصول اور زرعی ترقی کے لئے بروئے کار لانے کی حکومتی سطح پر سنجیدہ کوششوں کا اب تک فقدان رہا ہے۔60کے عشرے میں جنرل ایوب خان کے دور میں تربیلا ڈیم سمیت موجودہ آبی ذخائر تعمیر کئے گئے۔لیکن اس کے بعدگذشتہ پچاس سالوں میں کوئی ڈیم تعمیر نہیں ہوسکا۔حکومتوں کی تمام تر کوششیں تیل سے چلنے والے تھرمل پاور پلانٹس کے حصول پر مرکوز رہی ہیں اور ان معاہدوں میں کروڑوں ڈالرز کے کمیشن لئے گئے۔پاکستان میں پانی سے بجلی پیدا کرنے کے علاوہ سورج کی روشنی، ہوا اور کوئلے سے بھی سستی بجلی پیدا کرنے کے وسیع مواقع ہیں مگر اس میں بھی قابل ذکر پیش رفت دکھائی نہیں دیتی۔بارش کے پانی کو ذخیرہ کرنے، اس سے بنجر اراضی کو سیراب اور توانائی حاصل کرنے کے سنہرے مواقع سے بھی کوئی فائدہ نہیں اٹھایاگیا۔ یہی وجہ ہے کہ آج ملک توانائی کی قلت کے مسئلے سے دوچار ہے۔سابقہ حکومت نے بجلی کی پیداوار میں خود کفالت کا دعویٰ تو کیا تھا مگرقوم کو روزانہ دس سے بارہ گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ سے ابھی تک نجات نہیں ملی۔ گرمیوں میں طلب زیادہ ہونے کے بہانے لوڈ شیڈنگ کی جاتی ہے اور سردیوں میں ڈیموں میں پانی کی سطح کم ہونے سے پیداوار گھٹنے کا جواز پیش کرکے لوڈ شیڈنگ کی جاتی ہے۔ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں پانی سے 50ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی گنجائش موجود ہے۔جبکہ شمسی توانائی، کوئلے اور جوہری پلانٹ سے دس ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کی جاسکتی ہے۔ساٹھ ہزار میگاواٹ بجلی مجموعی قومی ضرورت سے تین گنا زیادہ ہے جس کی برآمد سے خطیر زرمبادلہ کمایاجاسکتا ہے۔دریائے سوات، دریائے کنہار، دریائے چترال، دریائے پنج کوڑہ، دریائے کرم اور دریائے نیلم سے بجلی پیدا کرنے کی جتنی گنجائش موجود ہے اس کے صرف دو فیصد سے اب تک استفادہ کیا جاسکا ہے۔بروغل، لاسپور، تریچ،گرم چشمہ، بروم گول، بندو گول،ریشن، بونی، کوغذی اور دیگر ندی نالوں سے دریائے چترال میں شامل ہونے والے پانی سے دس ہزار میگاواٹ سے زیادہ بجلی صرف چترال میں پیدا کی جاسکتی ہے۔جس سے نہ صرف توانائی کی ملکی ضروریات پوری ہوسکتی ہیں اور صنعتوں کو ترقی دی جاسکتی ہے بلکہ زراعت، معدنیات اور سیاحت کے شعبوں کو بھی ترقی دی جاسکتی ہے اور ہزاروں افراد کے لئے روزگارکے مواقع بھی پیدا ہوسکتے ہیں لیکن بدقسمتی سے آج تک یہ منصوبے کسی بھی حکومت کی ترجیحات میں شامل نہیں رہے۔ حکومت نے آبی وسائل کو فروغ دے کرقومی ترقی کے لئے ملکی وسائل پر انحصار کا جو منصوبہ بنایا ہے وہ بلاشبہ قابل تحسین ہے ملکی ترقی کے ان منصوبوں کے لئے بین الاقوامی ادارے مالی وسائل فراہم کرنے کے لئے تیار ہیں حکومت کو آبی ذخائر میں اضافے کے لئے ہنگامی بنیادوں پر منصوبہ بندی کرنی چاہئے اور کالاباغ ڈیم سمیت بڑے آبی ذخائر کی تعمیر کے لئے قومی اتفاق رائے پیدا کرنے کی سنجیدہ کوششیں کرنی چاہئیں۔دیامربھاشا ڈیم کی صدائے بازگشت گذشتہ دو عشروں سے سنائی دے رہی ہے گذشتہ چار حکومتیں اس کا افتتاح بھی کرچکی ہیں لیکن برسرزمین ڈیم کی تعمیر پر کوئی کام نظر نہیں آتا،ملکی ترقی کے اس اہم ترین منصوبے پر عملی کام شروع کرنے کو قومی ترجیح قرار دینے کی ضرورت ہے۔ آبی وسائل کی ترقی کے لئے حکومت نے ریکارڈ بجٹ مختص کرنے کا فیصلہ کیا ہے اگلے مالی سال کی ابتداء سے ہی ان منصوبوں پر عملی کام شروع ہوجائے تو آئندہ پانچ سالوں کے اندر توانائی اور آبی ذخائر میں خود کفالت کا خواب شرمندہ تعبیر ہوسکتا ہے۔


شیئر کریں: