Chitral Times

Dec 2, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

چترالی زبان کہوار کو نیشنل ڈیٹا بیس میں شامل نہ کرنے خلاف دائر توہین عدالت کی درخواست پر چیف کمشنر شماریات سے 26 اکتوبر تک جواب طلب کرلیا

Posted on
شیئر کریں:

چترالی زبان کہوار کو نیشنل ڈیٹا بیس میں شامل نہ کرنے خلاف دائر توہین عدالت کی درخواست پر چیف کمشنر شماریات سے 26 اکتوبر تک جواب طلب کرلیا

پشاور(نمائندہ چترال ٹائمز) چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ جسٹس قیصررشید اور جسٹس اعجاز انور پر مشتمل دو رکنی بنچ نے مردم شماری میں چترال میں سب سے زیادہ بولی جانے والی زبان کہوار کو زبانوں کی لسٹ میں شامل نہ کرنے خلاف دائر توہین عدالت کی درخواست پر چیف کمشنر شماریات سے 26 اکتوبر تک جواب طلب کرلیا جبکہ ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر جاوید نے عدالت کو یقین دہانی کرائی کہ اس حوالے سے محکمہ شماریات ضروری اقدامات کررہی ہے فاضل بنچ نے شاہد علی یفتالی ایڈوکیٹ کی جانب سے دائر توہین عدالت کی درخواست کی سماعت کی جس میں انہوں نے موقف اختیار کیا ہے کہ پشاور ہائیکورٹ میں گزشتہ مردم شماری سے قبل ایک رٹ درخواست دائر کی گئی تھی جس میں استدعا کی گئی تھی کہ اس وقت صوبے میں بولی جانے والی تیسری بڑی زبان کہوار ہے مگر اس کو قومی زبانوں کی فہرست میں شمار نہیں کیا گیا جو کہ یہ زبان بولنے والوں کے ساتھ زیادتی ہے جس کے بعد پشاور ہائیکورٹ نے رٹ اس بنیاد پر نمٹا دی کہ اس وقت کے کمشنر شماریات نے عدالت کو یقین دہانی کرائی تھی کہ چونکہ اس مرتبہ سارا عمل مکمل ہو چکا ہے اور ایک نئے سرے سے اس کے آغاز سے بڑے مسائل سامنے آئیں گے لہذا ائندہ مردم شماری جو نومبر 2022 میں شروع ہوگی اس میں اس زبان کو شامل کرلیا جائے گا تاکہ یہ زبان بولنے والے افراد کسی مسئلے سے دوچار نہ ہو.
شاہد علی یفتالی ایڈوکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ جو نیا پروفارمہ جاری ہوا ہے اس میں کہوار زبان شامل نہیں جو توہین عدالت کے زمرے میں آتا ہے اسی دوران ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ انہوں نے چیف کمشنر شماریات سے رابطہ کیا ہے اور انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ وہ اس حوالے سے ضروری اقدامات کررہے ہیں اور توقع کی جارہی ہے کہ ائندہ مردم شماری سے قبل کہوار زبان کو قومی زبان کے فہرست میں شامل کرکے اس کے بولنے والوں کی تعداد کا تعین بھی کیا جائے گا جس پر عدالت نے مزید سماعت 26 اکتوبر تک ملتوی کردی اور اس حوالے سے کی گئی اقدامات سے متعلق رپورٹ طلب کرلی۔ اس حوالے سے شاہد علی یفتالی ایڈووکیٹ نے چترال ٹائمز سے گفتگو کرتے ہوئے چترالی عوام کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا ہے کہ انشاء اللہ اگلی پیشی سے پہلے کھوار کو ڈیٹا بیس میں شامل کیا جائے گا ۔ دریں اثناء چترال کے مختلف مکاتب فکر نے شاہد علی یفتالی کی کاوشوں کو شاندار الفاظ میں سراہا ہے ۔

شیئر کریں: