Chitral Times

Aug 23, 2019

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • چترال کے سویلین پولوپلیئرزنے شندورفیسٹول کے بائیکاٹ کا اعلان کردیا،ڈی سی کے تبادلہ کا مطالبہ

    July 2, 2019 at 6:49 pm

    چترال (نمائندہ چترال ٹائمز) 7جولائی سے دنیا کے بلند ترین پولوگراونڈ شندور میں شروع ہونے والا جشن شندور کا انعقاد خطرے میں پڑگئی جب چترال ٹیم کے کپتان شہزادہ سکندر الملک کی برطرفی اور ڈپٹی کمشنر لویر چترال کے روئیے کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے چترال کی چار سویلین ٹیموں نے فیسٹول کی بائیکاٹ کا اعلان کردیا اور ضلعی انتظامیہ کی طرف سے ٹیم سیلیکشن کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اس کی فوری منسوخی اور فیسٹول کے لئے خوشگوار ماحول کو کشیدہ کرنے پر ڈی سی کے فوری تبادلے کا مطالبہ کردیا۔ منگل کے روز چترال پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چترال پولو ایسوسی ایشن کے صدر شہزادہ سکندر الملک، جنرل سیکرٹری معیز الدین بہرام ایڈوکیٹ اور سیلیکشن کمیٹی کے ارکان محمد اعظم خان، ظفر علی شاہ، فقیر محمد، ناصر الدین اور لوٹ کوہ سے ضلع کونسل کے رکن محمدحسین نے ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ فری اسٹائل پولو چترال کا ایک منفرد ثقافت ہے جس سے چترال کے عوام والہانہ لگاؤ رکھتے ہیں لیکن سرکاری ادارے آہستہ آہستہ سویلین کھلاڑیوں کو جشن شندور سمیت دوسرے ایونٹوں سے آؤٹ کرنا چاہتے ہیں جوکہ کسی طرح بھی قابل قبول نہیں ہے۔

    انہوں نے کہاکہ جشن شندور میں چترال کی طرف سے کھیلنے کے لئے کھلاڑیوں کے چناؤ کے سابق طریقہ کارمیں ڈی سی لویر چترال نے من مانی کردی اور سیلیکشن ٹیم کو مکمل طور پر بائی پاس کرکے اپنی من مانی سے ٹیم تشکیل دی ہے جس سے سویلین کھلاڑیوں اور پولو کے عام شائقین میں بددلی پھیل گئی ہے اور جشن شندور کے بائیکاٹ پر مجبورہوگئے۔ انہوں نے کہاکہ دراصل ڈی سی لویر چترال ذاتیات پر اترآئے ہوئے ہیں اور پولو ایسوسی ایشن کے عہدیداروں اور خصوصاً صدر سے بدلہ لینا چاہتے ہیں جنہوں نے پولو کے کھیل کی فروع اور کھلاڑیوں کے حقوق کے لئے گزشتہ ایک سال سے ضلعی انتظامیہ سے ٹکر لے رہے ہیں۔پولو ایسوسی ایشن کے رہنماؤں نے کہا کہ گزشتہ سال نگران وزیر اعلیٰ نے پولو کے کھلاڑیوں کے لئے 15لاکھ روپے گرانٹ کا اعلان کیاتھا جس کے چیک کو ڈی سی چترال کے آفس میں وقت پر جمع نہ کرنے کی وجہ سے lapseہوگئی اور اس خطیر رقم سے وہ محروم رہ گئے جبکہ ضلعی انتظامیہ نے گزشتہ سال کے ڈسٹرکٹ کپ ٹورنامنٹ کے الاؤنس بھی کھلاڑیوں کو ادا نہیں کئے تھے اور گزشتہ سال کے شندور جشن کے فی کھلاڑی 10ہزار روپے باقی رہ گئے تھے جس کا ذمہ دار ڈی سی چترال تھا اور ان کی طرف جب ڈی سی کی توجہ دلائی گئی تو وہ ضد پر اتر آئے اور اس طرح انتقام لینے کی کوشش کی لیکن انہیں معلوم نہیں ہے کہ اس طرح وہ جشن شندور کو نقصان پہنچارہے ہیں۔

    انہوں نے چترال کے ایم این اے، ایم پی ایزا ور ضلع ناظم سے مطالبہ کیا کہ وہ چترال کے عوام کا ساتھ دیں اور پولو کے کھیل کو سرکاری مداخلت سے بچائیں تاکہ یہ کھیل زندہ رہے۔ انہوں نے کہاکہ شندور جشن کی ایونٹ بین الاقوامی شہرت اختیار کرگئی ہے لیکن کھیل میں انتظامیہ کی غیر ضروری اور ناروا مداخلت سے اس کا شیرازہ بکھر جائے گا۔ پریس کانفرنس میں سیلیکشن کمیٹی کے 8میں سے 5ارکان موجود تھے جنہوں نے کہاکہ انہیں Aاور Bٹیموں کی سیلیکشن کا اختیار نہیں دیا گیا تھا جبکہ ماضی میں تمام سیلیکشن ہی کمیٹی کرتی تھی۔

    سلیکشن کمیٹی کے ممبران نے تعجب کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ پولوچترال کا روائتی اورقومی کھیل ہے اورشندور کے اے اور بی دونوں‌ ٹیموں‌میں‌صرف ایک سویلین کھلاڑی شہزادہ سکندرالملک شامل تھا. اُس کوبھی ٹیم سے آوٹ کرنا انتہائی زیادتی اورچترال کے شائقین پولو کےساتھ بھی انتہائی تضحیک امیز ہے .

    شہزادہ سکندر الملک نے کہاکہ چترال سکاوٹس کے ہیڈ کوارٹرز میں کمانڈنٹ، ڈی پی او اور دوسرے ذمہ داروں کے اجلاس میں انہیں ٹیم اے کا کپتان مقررکیا گیا تھالیکن ڈی سی نے بعد میں اپنی مرضی سے ٹیم اے اور بی کے کھلاڑیوں کا نوٹیفیکیشن کردیا۔ اس موقع پر لوٹ کوہ سے ضلع کونسل کے رکن محمد حسین نے لوٹ کوہ وادی کی طرف سے جشن شندور کی بائیکاٹ کا اعلان کرتے ہوئے کہاکہ پولو ایسوسی ایشن میں سرکاری مداخلت کسی طور پر بھی قابل قبول نہیں ہے جبکہ پولو کے سیاہ وسفید کے مالک کھلاڑی خود ہونے چاہئے جوکہ ایسوسی ایشن کے ساتھ منسلک ہیں۔

    انہوں نے کہا . کہ شندور فیسٹول سیاحت کی ترقی کیلئےانتہائی اہمیت کی حامل ہے . لیکن حکومت کو یہ بات سمجھنی چاہیے کہ موجودہ ڈپٹی کمشنر کے ہوتے ہوئے شندور فیسٹول تنازعات کا شکار ہونےسے محفوظ نہیں رہ سکتا . اس لئے شندور فیسٹول کی کامیابی اسی میں ہے . کہ فوری طور پر اس کا تبادلہ چترال سے باہر کیا جائے . انہوں نے اس امر کا اظہار کیا. کہ میں نے 1981میں پہلی مرتبہ شندور فیسٹول کا آغاز سویلین ٹیموں کو لے کیا . اس کے بعد 1982میں سرکاری ٹیموں نے بھی اس میں حصہ لینا شروع کیا . آج حالت یہ ہے . کہ سویلین کی بجائے شندور فیسٹول پر فورسز نے قبضہ کر لیا ہے . اور سول پلیر کو موقع ہی دینے کیلئے تیار نہیں . انہوں نے کہا . کہ ہم اس سلسلے میں ایک مقدمہ بھی عدالت میں دائر کرنا چاہتے ہیں . تاکہ سول ایونٹس میں فورسز کی مداخلت کو روکا جاسکے . انہوں نے کہا . کہ آیںندہ سول اور فورسز کے الگ الگ ٹورنامنٹ منعقد کئے جانے چاہئیں . پریس کانفرنس میں سلیکشن کمیٹی کے ممبران نے چترال اے اور بی ٹیم کی سیلیکشن کو مکمل طور پر مسترد کر دیا . اور کہا . کہ یہ چترال میں پولو کے قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے . اس لئے چترال کی تمام سول ٹیمیں احتجاجا شندور فیسٹول کے بائکاٹ کا اعلان کرتی ہیں . اس موقع پر حاضر پولو کھلاڑیوں نے ہاتھ اٹھا کر ممبران کے فیصلے کی توثیق کی .

    بعدازاں پولو کے کھلاڑیوں اور شائقین نے چترال پریس کلب سے ایک جلوس نکالا جوکہ ضلعی انتظامیہ کے خلاف مردہ باد کے نعرے لگاتے ہوئے اتالیق پل پر احتتام پذیر ہوگئی۔


  • error: Content is protected !!