Chitral Times

Oct 4, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

موسمیاتی تبدیلی، وبائی امراض اور بڑھتی ہوئی عدم مساوات جیسے چیلنجز سے اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق تمام اقوام کے تعاون سے ہی نمٹا جا سکتا ہے، وزیر اعظم

شیئر کریں:

موسمیاتی تبدیلی، وبائی امراض اور بڑھتی ہوئی عدم مساوات جیسے چیلنجز سے اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق تمام اقوام کے تعاون سے ہی نمٹا جا سکتا ہے، وزیر اعظم شہباز شریف کی چینی صدر سے ملاقات میں گفتگو

سمرقند ( چترال ٹایمز رپوڑت )وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں، وبائی امراض اور بڑھتی ہوئی عدم مساوات جیسے چیلنجز سے اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق تمام اقوام کے تعاون سے ہی نمٹا جا سکتا ہے۔وزیر اعظم آفس میڈیا ونگ سے جاری بیان کے مطابقوزیر اعظم شہباز شریف نے جمعہ کو سمرقند میں شنگھائی تعاون تنظیم کے 22ویں سربراہان مملکت کے اجلاس کے موقع پر چینی صدر شی جن پنگ سے ملاقات کی۔اپریل 2022 میں وزراتِ عظمی کا منصب سنبھالنے کے بعد چین کے صدر کے ساتھ وزیر اعظم شہباز شریف کی یہ پہلی ملاقات ہے۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان باہمی اعتماد اور افہام و تفہیم کے ماحول میں خوشگوار بات چیت ہوئی۔اپنے خیرمقدمی کلمات میں چینی صدر نے وزیر اعظم محمد شہباز شریف کو “عملیت پسندی اور کارکردگی کی حامل شخصیت”قرار دیا۔ انہوں نیکہا کہ وزیر اعظم “چین پاکستان دوستی کے لیے دیرینہ عزم” رکھنے والے رہنما ہیں۔دونوں رہنماؤں نے دو طرفہ تعلقات کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا اور باہمی دلچسپی کے اہم علاقائی اور بین الاقوامی امور پر تبادلہ خیال کیا۔

 

وزیر اعظم نے صدر شی جن پنگ اور چینی کمیونسٹ پارٹی کی آئندہ 20ویں سی پی سی قومی کانگریس کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا کہ شنگھائی تعاون تنظیم نے اپنے مشترکہ وڑن اور باہمی اقدار کو علاقائی تعاون اور یکجہتی کے ٹھوس عملی منصوبوں میں آگے بڑھانے کے لیے ایک بہترین فورم فراہم کیا۔چین پاکستان پائیدار دوطرفہ تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ ہماری ہر موقع پر آزمودہ تذویراتی شراکت داری ’آل ویدر اسٹریٹجک کوآپریٹو پارٹنرشپ اور آہنی بھائی چارے نے وقت کی کسوٹی کا مقابلہ کیا۔ انہوں نے اپنے دوطرفہ تعلقات کو مزید بلندیوں تک لے جانے کے اپنے ذاتی عزم کا اعادہ کیا۔وزیراعظم نے پاکستان میں سیلاب سے متاثرہ افراد کی فراخدلانہ اور بروقت مدد پر صدر شی جن پنگ،چینی حکومت اورعوام کا شکریہ ادا کیا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان چین کے تمام حلقوں کی طرف سے ہمدردی اور حمایت کے اظہار پر مشکور ہے اور یہ ہماری منفرد دوستی کا حقیقی عکاس ہے۔

 

انہوں نے صدر شی جن پنگ کے ساتھ 5 ستمبر 2022 کو صوبہ سیچوان میں آنے والے زلزلے سے ہونے والے المناک جانی نقصان اور تباہی پر تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی حکومت اور عوام اس قدرتی آفت کے دوران چین کے ساتھ کھڑے ہیں۔ وزیراعظم نے صدر شی جن پنگ کو پاکستان کی پائیدار ترقی، صنعتی ترقی، زرعی جدت اور علاقائی رابطوں کے لیے اپنی حکومت کی پالیسیوں سے آگاہ کیا۔وزیراعظم نے پاکستان کی سماجی و اقتصادی ترقی پر سی پیک کے مثبت اثرات کو سراہا۔ انہوں نے سی پیک کی ترقی کے لیے اپنی حکومت کے عزم کا اعادہ کیا۔ دونوں رہنماؤں نے ایم ایل ون ریلوے پروجیکٹ کے فریم ورک معاہدے کے پروٹوکول پر دستخط کا خیرمقدم کیا۔وزیراعظم نے تائیوان، تبت، سنکیانگ اور ہانگ کانگ سمیت بنیادی مفاد کے تمام مسائل پر پاکستان کی چین کے ساتھ مستقل اور غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا۔ انہوں نے پاکستان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت، ایف اے ٹی ایف، قومی ترقی، کوویڈ 19 وبائی امراض اور دیگر شعبوں میں تعاون پر چینی حکومت کا شکریہ بھی ادا کیا۔وزیر اعظم نے بین الاقوامی صورتحال پرتبادلہ خیال کرتے ہوئے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی، وبائی امراض اور بڑھتی ہوئی عدم مساوات جیسے چیلنجز سے اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق تمام اقوام کے تعاون سے ہی نمٹا جا سکتا ہے۔

 

انہوں نے صدر شی کے وڑنری بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو اور گلوبل ڈویلپمنٹ انیشی ایٹو کی تعریف کی، جس نے پائیدار اور اجتماعی ترقی کی منفرد پالیسی کو دنیا میں متعارف کروایا۔وزیراعظم نے بھارت کے زیرِ تسلط مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین صورتحال پر روشنی ڈالی اور جموں و کشمیر کے تنازع پر چین کے اصولی موقف پر شکریہ ادا کیا۔دونوں رہنماؤں نے حالیہ ادوار میں مشترکہ مستقبل کے لیے پاک چین کمیونٹی کی تعمیر کے عزم کا اعادہ کیا۔وزیراعظم نے صدر شی جن پنگ کو پاکستان کا سرکاری دورہ کرنے کی دعوت دیتے ہوئے کہاکہ پاکستانی عوام ان کے پرتپاک استقبال کے منتظر ہیں۔ دعوت کو قبول کرتے ہوئے صدر شی نے کہا کہ وہ جلد از جلد وزیراعظم شہباز شریف کے دورہ چین کے منتظر ہیں۔

 

تاجکستان، ازبکستان، ایران اور منگولیا کے صدور کا وزیراعظم شہباز شریف کی موسمیاتی تبدیلی کے مسئلے کو شنگھائی تعاون تنظیم کی طرف سے اٹھانے کی تجویز کی بھرپور حمایت کا اعلان

سمر قند(چترال ٹایمز رپورٹ )تاجکستان، ازبکستان، ایران اور منگولیا کے صدور نے وزیراعظم شہباز شریف کی موسمیاتی تبدیلی کے مسئلے کو شنگھائی تعاون تنظیم کی طرف سے اٹھانے کی تجویز کی بھرپور تائید و حمایت کا اعلان کیا ہے۔وزیر اعظم کیمیڈیا ونگ سے جاری بیان کے مطابق ازبکستان کے صدر شوکت مرزیوف نے ایس سی او ریاستی سربراہان کی کونسل کے رواں اجلاس کی میزبانی کرتے ہوئے زور دیا کہ وزیراعظم پاکستان کی پیش کردہ تجویز ایس سی او تنظیم کی سطح پر اٹھانی چاہئے۔ ایس سی اوکے سربراہان مملکت کی کونسل کے اجلاس میں تاجکستان کے صدر امام علی رحمان نے وزیراعظم شہباز شریف کی تجویز کی سب سے پہلے حمایت کا اعلان کیا ہے۔ایس سی اوسربراہان مملکت کی کونسل کے حالیہ اجلاس کے سربراہ تاجکستان کے صدر امام علی رحمان کے بعد تنظیم کے سیکرٹری جنرل، ازبکستان، منگولیا اور ایران کے صدور نے بھی پاکستان کے ساتھ یک جہتی اور حمایت کا اعلان کیا۔تاجکستان کے صدر شوکت مرزیوف نے ایس سی اوکے رکن ممالک پر زور دیا کہ حالیہ تاریخی سیلاب سے ہونے والی شدید تباہی سے نمٹنے میں پاکستان کو بھرپور مدد اور حمایت فراہم کی جائے۔

 

shahbaz sharif attended shangai organization gathering of head of

 

 

روس سے گیس فراہمی منصوبے پر کام کرنے کیلیے پاک ترکیہ اتفاق

سمرقند(چترال ٹایمز رپورٹ) روس سے بذریعہ پائپ لائن پاکستان کو گیس فراہمی کے مجوزہ منصوبے پر کام کرنے کے لیے پاکستان اور ترکیہ کے درمیان اتفاق ہوگیا ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے سمرقند میں شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہان مملکت کے اجلاس کے موقع پر ترک صدر رجب طیب ایردوان سے ملاقات کی، جس میں روس سے پائپ لائن کے ذریعے پاکستان کو گیس کی فراہمی کے منصوبے پر کام کرنے پر ترکیہ اور پاکستان کے درمیان اتفاق کیا گیا۔ترکیہ کے صدر رجب طیب ایردوان نے وزیراعظم سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ روس، قزاقستان اور ازبکستان میں کسی حد تک گیس پائپ لائن کے لیے بنیادی ڈھانچہ پہلے سے موجود ہے۔ اس سلسلے میں دوطرفہ تجارت کے فروغ، گیس کی فراہمی سمیت لارج اسکیل منصوبوں کے امکانات اور عملدرآمد پر اتفاق رائے کیا گیا۔ترک صدر کا کہنا تھا کہ ہم جنوب مشرقی ایشیا اور مجموعی طور پر ایشیا میں پاکستان کو اپنا ترجیحی شراکت دار تصور کرتے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان نہایت مثبت انداز میں تعلقات فروغ پا رہے ہیں جس پر ہمیں بے حد خوشی ہے۔ واضح رہے کہ دونوں رہنماؤں کے مابین ملاقات شنگھائی تعاون تنظیم (ایس-سی-او) کے رکن ممالک کے ریاستی سربراہی کونسل کے اجلاس کے موقع پر ہوئی۔

 

بخار میں استعمال ہونے والی ادویات کی قلت کو دور کرنے کے لئے ہر ممکن کوششیں کی جا رہی ہیں،وفاقی وزیر صحت عبدالقادر پٹیل

اسلام آباد(سی ایم لنکس)وفاقی وزیر صحت عبدالقادر پٹیل نے کہا ہے کہ بخار میں استعمال ہونے والی ادویات کی قلت کو دور کرنے کے لئے ہر ممکن کوششیں بروئے کار لائی جا رہی ہے۔انہوں نے یہ بات جمعہ کو پیناڈول اور پیراسٹامول کی دستیابی کے حوالے سے منعقدہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کی۔ انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں بخار کی ادویات کی دستیابی، پیداوار کے حوالے سے اقدامات کئے جا رہے ہیں،بخار میں استعمال ہونے والی ادویات کی قلت کو دور کرنے کے لیئے ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے۔اجلاس میں دوا ساز صنعت کاروں نے دوا کی پیداوار دوبارہ شروع کرنے کے لئے یقین دہانی کروائی ہے۔اجلاس میں فارماکمپینوں مینوفیکچررز سپلائرز اور حکام نے بھی شرکت کی۔ پاکستان فارماسیوٹیکل مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے سربراہ قاضی منصور دلاور نے کہا کہ حکومت نے بخار کی دوائی کی قیمت کا معاملہ حل کرانے اور کمپینوں کا پیراسٹامول کے خام مال کی قیمت میں 10 فی صد کمی کی یقین دہانی کرائی ہے۔انہوں نے کہا کہ پینٹاول سمیت دیگر کمپینوں کا بخار کی دوائی کی پیداوار وقتی شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے،اس سلسلہ میں ذخیرہ اندوزی کرنے والوں کے خلاف ڈریپ ایکٹ کے تحت سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ وفاقی وزیر صحت نے قیمتوں میں اضافے کا معاملہ وزیراعظم کے سامنے رکھنے کی بھی یقین دہانی کرائی ہے۔انہوں نے بتایا کہ قیمتوں میں کمی کے باعث بخار کی گولیوں اور سیرپ کی پیداوار بلکل بند ہے۔قاضی منصور دلاور نے کہا کہ سیلاب، ڈینگی اور ملیریا سے بخار کے کیسز مین مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

 


شیئر کریں: