Chitral Times

Oct 4, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

محکمہ معدنیات نے ٹارگٹڈ ہدف سے زیادہ 8 ارب روپے کی ریکارڈ ریونیو حاصل کرلی۔ مشیر معدنیات

شیئر کریں:

محکمہ معدنیات نے ٹارگٹڈ ہدف سے زیادہ 8 ارب روپے کی ریکارڈ ریونیو حاصل کرلی۔ مشیر معدنیات عارف احمدزئی

خیبرپختونخوا کے معدنیات صوبے میں غربت مکاؤ میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ بیرسٹر محمد علی سیف

پشاور (نمائندہ چترا ل ٹائمز) محکمہ معدنیات خیبرپختونخوا کی کارکردگی میں بہتری کا سلسلہ جاری ہے مالی سال 2021-22 کے لیے ریونیو ہدف سے زیادہ ریونیو حاصل کرلی. صوبائی حکومت نے ریونیو کا ہدف 6 ارب روپے دیا تھا جبکہ محکمہ معدنیات نے 8 ارب روپے کی ریکارڈ ریونیو حاصل کرلی۔اس سلسلے میں وزیراعلی خیبرپختونخوا کے مشیر برا ئے معدنیات عارف احمدزئی اور معاون خصوصی برائے اطلاعات و تعلقات عامہ بیرسٹر محمد علی سیف نے بدھ کے روز محکمہ معدنیات کی چار سالہ کارکردگی میڈیا کے ذریعے عوام کے سامنے رکھی. مشیر معدنیات عارف احمدزئی نے میڈیا کو بریف کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلی خیبرپختونخوا محمود خان کی ہدایات کی روشنی میں امسال بھی محکمہ معدنیات نے بہترین کارکردگی دکھائی جس کے نتیجے میں ہر سیکٹر میں ترقیاتی منصوبے قابل عمل بنائے گئے.

صوبائی صوبائی حکومت نے مالی سال 2021-22کے لیے محکمہ معدنیات کو محاصل کی مد میں 6.10 ارب روپے کا ہدف دیا تھا محکمے نے پچھلے سال کی طرح اس سال بھی شاندار کارکردگی کو جاری رکھتے ہوئے جون 2022 تک 8.24 ارب روپے محاصل کی مد میں جمع کیے ہیں. انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں یہ بات قابل ذکر ہے کہ عدالت عالیہ پشاور ہائی کورٹ کے حکم پر محکمہ معدنیات نے 2.24 ارب روپے بعض ٹھیکیداروں کو واپس کئے. عدالت کے حکم اور محدود وسائل میں محکمے نے ایک مرتبہ پھر صوبائی خزانے میں 6.10 ارب روپے محاصل کی مد میں جمع کئے. انہوں نے کہا کہ اگر دیکھا جائے تو 2021-22 کے دوران نہ صرف صوبائی حکومت نے مقرر کردہ ہدف حاصل کیا بلکہ 8.24 ارب روپے جمع کئے جو پچھلے سال جو پچھلے مالی سال 2020-21 سے 61 فیصد زیادہ ہے۔اپیلیٹ اتھارٹی کا ذکر کرتے ہوئے مشیر معدنیات عارف احمد زئی نے کہا کہ ریکارڈ وقت میں 964 اپیلوں پر فیصلہ صادر کیا جبکہ صرف 36 اپیلوں پر فیصلہ باقی ہے۔منرل ٹائٹل کمیٹی کا ذکر کرتے ہوئے مشیر وزیراعلی عارف احمد زئی نے کہا کہ منرل ٹائٹل کمیٹی نے اگست 2018 سے جون 2022 تک 3997 پراسپیکٹنگ لائسنسز گرانٹ کیے ہیں. 502 مائننگ لیز کی تجدید کی گئی ہے، 235 پراسپیکٹنگ لائسنس کی مائننگ لیز میں کنورژن کی گئی ہے. 133 لیز ٹرانسفر کئے ہیں، 69 پراسپیکٹنگ لائسنس کو ویلیڈیٹ کیے ہیں انہوں نے کہا کہ 486 کیسز قانون کی خلاف ورزی پر کینسل کیے ہیں جبکہ 1383 کیسز مسترد کیے ہوئے ہیں۔محکمہ معدنیات میں قانونی اصلاحات پر بات کرتے ہوئے مشیر معدنیات عارف احمد زئی نے کہا کہ خیبرپختونخوا منرل نیلامی کے قوانین 2022 کا ڈرافٹ تیار کیا گیا ہے جس میں نیلامی کے نظام میں شفافیت اور آسان اقساط کی ادائیگی کو بہتر بنایا گیا ہے. تاکہ سرمایہ کاروں کے لیے آسانی ہو اور معدنی شعبے میں مزید سرمایہ کاری ہو سکے.

 

خیبر پختونخوا ایکسائز ڈیوٹی اور منرلز لیبر ویلفیئر ایکٹ 2021 کے نام سے کان کن مزدوروں کی فلاح کے لیے پہلی مرتبہ صوبائی قانون سازی کی گئی ہے جو نہ صرف کان کن مزدوروں کی فلاح کو تحفظ دیتا ہے بلکہ کان کنوں کی فلاح کے مختلف منصوبوں پر ہونے والے اخراجات کے لئے فنڈ کی دستیابی کو بھی یقینی بناتا ہے. انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا معدنی سیکٹر گورننس ایکٹ 2019 میں ترامیم کی گئی، جس میں ضم شدہ اضلاع سے متعلق شیڈول-VIII متعارف کرایا گیا ہے. جس کے تحت مقامی لوگوں کو مالکانہ حقوق دیے گئے ہیں. مزید یہ کہ خیبرپختونخوا مائنز سیفٹی انسپکشن اینڈ ریگولیشن ایکٹ 2019 کی تشکیل اور اس کے نفاذ کو عمل میں لایا گیا ہے. کول مائنز رولز 2021 کا نفاذ کیا گیا، میٹالیفرئس مائنز رولز 2021 کا نفاذ کیا گیا. کنسولیڈیٹڈ مائنز رولز 2021 کا نفاذ کیاگیا. ریسکیو اینڈ ٹریننگ رولز 2021 کا نفاذ کیا گیا. انہوں نے کہا کہ کنڈکٹ آف ایگزامینیشن رولز، 2021 کا نفاذ کیا گیا کان کنی سرگرمیوں کو بہتر اور ان کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے نیا قانون متعارف کروایا بلکہ یہ قانون وقت حاضر کے تقاضوں کو مدنظر رکھ کر موجودہ مائننگ کے قدیم طریقوں کو جدید کان کنی کے تکنیکوں میں تبدیل کرنے میں معاون ثابت ہوگا. رور بیڈ رولز 2022 کا ڈرافٹ تیار کیا گیا ہے. جس کے تحت دریاؤں اور نالوں سے ادنیٰ معدنیات کی کان کنی کو سائنسی بنیادوں پر استوار کیا جائے گا.

 

انہوں نے کہا کہ نئے قانون کے مطابق جوائنٹ وینچر کی شق شامل کی گئی جس کی وجہ سے محکمہ کسی بھی کمپنی کے ساتھ انویسٹمنٹ کر سکتی ہے جبکہ نئے قانون کے مطابق ادنی معدنیات کی ضلع سطح پر نیلامی کی جا سکتی ہے نئے قانون کے مطابق ماربل اور گرینائٹ کے جدید طرز پر مائننگ لازمی بنایا گیا ہے. قانون کے مطابق ادنی معدنیات کی ضلعی سطح پر نیلامی کی جا سکتی ہے. انہوں نے کہا اس سمیت مزید کئی اہم اصلاحات کی گئیں ہیں جس کے نتیجے میں کئی اہم کامیابیاں حاصل کر چکے ہیں۔وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و تعلقات عامہ بیرسٹر محمد علی سیف نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے معدنیات صوبے میں غربت مکاؤ کے سلسلے اہم ثابت ہو رہا ہے۔ جس سے صوبے میں آئندہ دنوں میں ریونیو بڑھے گی اور روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے. انہوں نے کہا وزیراعلی خیبرپختونخوا کی زیرک قیادت کی بدولت ہر محکمہ آگے بڑھ رہا ہے۔

 


شیئر کریں: