Chitral Times

Oct 6, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

جرگہ ۔ تحریر: تقدیرہ خان

Posted on
شیئر کریں:

جرگہ۔ تحریر: تقدیرہ خان

ُپشتون کلچر میں حجرہ، جرگہ، روایت اور قبیلے کی عزت کابڑامقام تھا۔دیکھاجائے توان ہی چار ستونوں پر سارا قبائلی نظام کھڑا تھا جس کی وجہ سے پشتون کلچر اور روایات کا دنیا میں ایک منفرد مقام تھا۔ قبیلے کی قوت روایات اور قبیلے کے سردار کی قوت ارادی سے بروقت اور درست فیصلے سے منسلک تھی۔سرداروں کے فیصلے قانون کی حیثیت بن کر ایک قانونی اور آئینی روایت بن جاتی۔جرگے میں کیے گئے فیصلے سابق روایات کا حصہ بن جاتے ہیں اور انہی فیصلوں اور روایات کو مدنظر رکھتے ہوئے جرگہ ممبران فیصلے کرتے جسے کبھی ردنہ کیا جاتا تھا۔

جرگہ نہ تو جلدی میں بلایا جاتا اور نہ ہی جلدی میں کوئی فیصلہ کیا جاتا۔ جرگے صر ف افراد کے درمیان جھگڑے ختم کرنے کی غرض سے ہی نہیں بلکہ دیگر امور پر بھی بلائے جاتے۔ باہمی تنازعات پر گرینڈ جرگہ طلب کرنے کے بجائے فریقین کو سردار کے حجرے میں طلب کیا جاتا اور گواہان کے علاوہ دونوں فریفوں کے بڑوں اور کسی عالم دین کی رائے سے شریعت کی روشنی میں فیصلہ کیا جاتا۔ ایسے جرگوں میں سابقہ جرگوں کے فیصلوں کو حسب روایات بیان کیا جاتا تاکہ فریقین کی تسلی ہو سکے۔

قبائل کے درمیان جنگ، بیرونی حملہ آوروں کے خلاف مدافعت، نا گہانی حالات سے نبردازما ہونے کے علاوہ سیاسی فیصلے بھی جرگے کے ذریعے کیے جاتے۔ قبائلی اور سرحدی علاقوں میں غیر مسلموں کی بھی ایک بڑی تعداد آباد ہے اور یہ علاقہ اُن کا آبائی وطن ہے۔ یہ لوگ جس قبیلے کے علاقے میں آباد ہوں وہ قبیلہ ان کی حفاظت کا ذمہ دار ہے۔ قبائل کی باہم چپلقش اور دشمنی سے غیر مسلم آبادی کا کوئی تعلق نہیں ہوتا اور نہ ہی مخالف قبیلہ غیر مسلموں کو کوئی نقصان پہنچانے کاتصور کر سکتا تھا۔ ایسا کرنے والا شخص یا قبیلہ مشترکہ قبائل کے عتاب کا نشانہ بن سکتا تھا۔ فاٹا کے خاتمے سے پہلے اکثر قبائل ایک دوسرے کے علاقوں میں جانا غیر محفوظ تصور کرتے تھے مگر غیر مسلموں پر ایسی کوئی پابندی نہ تھی۔ بد قسمتی سے افغان مہاجرین کی آمد او رطویل عرصہ تک بلاجواز قیام نے پختون معاشرے، کلچر اور روایات کا خاتمہ کر دیا۔ افغانوں نے عرب کے اونٹ کی طرح خیمے پر قبضہ کر لیا اور عرب کو خیمے سے باہر نکال دیا۔ افغانوں کی وجہ سے آبادی میں بے تحاشہ اضافہ ہوا۔ صوبہ پختونخواہ میں جرائم بڑھ گئے اور صوبائی انتظامیہ تقریباً بے بس ہوگئی۔ جرائم پیشہ عناصر نے مقامی سیاستدانوں سے رابطہ بڑھا لیے اور الیکشنوں میں اُن پر پیسہ لگنا شروع کر دیا۔ مقامی آبادی کے علاوہ غیر مسلم آبادی بھی غیر محفوظ ہو گی۔ بہت سے غیر مسلم گھرانے اپنا گھر بار اور کاروبار چھوڑ کر دوسرے علاقوں میں چلے گئے۔ ٹی ٹی پی اور دیگر تنظیموں نے اُن پرجزیہ نافذ کر دیا حالانکہ یہ حق صرف اسلامی ریاست کا ہے۔ چونکہ یہ لوگ قبائل کی حفاظت میں تھے اس لیے ریاست بھی ان پر حبزیہ نافذ کرنے کا حق نہیں رکھتی تھی۔

حیرت کی بات ہے کہ تیس سالوں سے کسی صوبائی اور مرکزی حکومت نے افغان مہاجرین کے معاملات پر توجہ نہیں دی اور اپنا ملک آتش کدہ اور معاشرہ تحلیل کر دیا۔
فاٹا انضمام کے بعد اب جرگے کی حیثیت ختم ہوگئی ہے۔ روایات پر خرافات نے ایسا حملہ کیا کہ اب یہ سب کچھ قصہ ماضی ہے۔ روایات سے جڑے لوگ پریشان ہیں اور نئی پود بے راہ روی کا شکار ہے۔ رہی سہی کسر میڈیا نے نکال دی ہے۔ ڈرامے اور سوشل میڈیا پر چلنے والی فلمیں اور پیغامات نے مغربی میڈیا اور کلچر کوبہت پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ ڈراموں کے ذریعے ایک انوکھا کلچر متعارف کرایا جا رہا ہے جس کی مثال دنیا میں نہیں ملتی۔ تشدد، بے رحمی، بے رخی، بے حیائی، بے انصافی اور بد اعتدالی کا ایسا سبق دیا جارہا ہے جس کی وجہ سے تنزلی کا شکار معاشرہ حیوانی معاشرے میں بدل رہا ہے۔

سلیم صافی ایک بڑے چینل پر ”جرگہ“ کے نام سے ایک ٹیلی ویژن شو کرتا ہے جو درحقیقت جرگے کی توہین اور تمسخر ہے۔نئی پختون نسل کو تو پتہ ہی نہیں کہ جرگہ ایک بڑی باعزت اور قرآن و سنت کے مطابق عدل کرنے والی عدالت کا نام تھا۔ چہ جائیکہ کوئی اور اس مقدس عدالت کی توہین کرے ایک نام نہاد پشتون نے اس کا سہرہ اپنے سر سجا لیا ہے۔
سلیم صافی کے پروگروام سیاسی، نفسیاتی پراپیگنڈ ہ، چاپلوسی، جھوٹ،روایات سے بغاوت، شخصیت پر ستی اور خود غرضی پر مبنی ہوتے ہیں۔ جرگہ دو لوگوں کے درمیان نہیں ہوتا۔ دولوگ جب کوئی بات کرتے ہیں تو ایسے مکالمہ کہا جاتا ہے۔ سلیم صافی کو نقل کا طریقہ بھی نہیں آتا۔ وہ بھارتی چینل پر نشر ہونے والے پروگرام”آپ کی عدالت میں“ یا پھر ”عوام کی عدالت میں“ کی نقل کرتا ہے جو کسی حدتک درست پروگرام ہیں۔ ان پروگراموں میں عوام بھی بیٹھے ہوتے ہیں اور میزبان اپنی کہانی نہیں بلکہ عوام مشکلات کو پیش نظر رکھتے ہوئے جواب دیتے ہیں۔
صرف سلیم صافی ہی نہیں یہاں تو دانشوروں اور صحافیوں کی فوج ظفر موج ہے جو معاشرے اور ماحول کوبھگاڑنے اور عوام کو نفسیاتی اُلجھنوں کا شکار کرنے کی بھرپو رمحنت کر رہی ہے۔

جرگے میں کسی عورت کو طلب نہیں کیا جاتا تھا اور نہ ہی قبائلی معاشرے میں عورت کی تذلیل کا کوئی تصور تھا۔ اب عورتیں عدالتوں میں دکھے کھا رہی ہیں مگر کوئی پوچھنے والا نہیں۔ وکیلوں کی بھاری فیسیں، پولیس کا ظالمانہ اور غیر انسانی رویہ، سفر کی مشکلات اور آخر کار عدل کا فقدان۔ سلیم صافی اپنا جرگہ پشاور کی کچہریوں کے باہر کیوں نہیں لگاتا اور عوام کی مشکلات حکمرانوں تک کیوں نہیں پہنچاتا؟ چند سال پہلے یہی سلیم صافی گورنر ہاؤس کے باہر کھڑا ہوتا تھا۔ ہاں ایک بات ہے کہ وہ شروع دن سے عمران کا مخالف تھا اور آج بھی ہے جو اُس کے لیے ترقی، خوشحالی اور شہرت کا باعث ہے۔ سلیم صافی کی شہرت کی ایک وجہ شمالی اتحاد، کرزئی اور اشرف غنی بھی تھے اور ان کے پشت پر واشنگٹن اور دلی تھے۔ جب سے طالبان آئے ہیں صافی کا پشتون جزبہ نہ صرف ٹھنڈا بلکہ منجمند ہو گیاہے۔ دوستی اور مہمان نوازی بھی پشتون کلچر کا حصہ ہے۔ دوست وہی ہوتا ہے جو مشکل وقت میں ساتھ دے۔ یہاں نواز شریف کے قصیدے لکھنے والے اور بھی بہت ہیں اور ملک ریاض کے پاس بھی کمی نہیں۔ سلیم صافی اور کامران خان جیسے ہزاروں ان درباروں کی مجاوری کے لیے دست بستہ حاضر ہیں مگر آجکل کابل کی فضا ئیں کسی ایسے مرغ باد نما کی تلاش میں ہیں جو کل کے حکمرانوں کا قصیدہ نہ سہی کوئی قصہ ہی سنا دیں مگر بات پھر وہی آجاتی ہے۔

”اے طاہر لاہوتی اُس رزق سے موت اچھی“مگر زمانہ بدل گیا ہے اور رزق حلال کے متلاشی طیور اب ایسے دسترخوانوں کی تلاش میں ہیں جہاں کچھ بھی حلال نہیں۔ اُن کی پرواز رائے ونڈ اور زرداری ہاؤس تک محدود ہے۔ جرگہ نہ ادبی رہا ہے اور نہ ہی اصلاحی،نہ عدل اور اعتدال رہا ہے اور نہ ہی روایات اور اخلاق کی کوئی جھلک نظر آتی ہے۔ حجرے کا تقدس بھی ختم ہوگیا ہے۔

قصہ خوانی بازار کی رونقیں ماند پڑ گئی ہیں اور پھولوں کا شہر پتھروں کا ڈھیر بن گیا ہے۔
ہم کابل کی فکر میں پشاور اجاڑ بیٹھے ہیں۔ بنوں کے بازاروں میں باراتیں آنا بھول گئیں اور جنازوں کے جلوس نکلنے لگے ہیں۔ مردان کے گڑ میں بارو د کی بو ڈالنے کا بھی تو کوئی ذمہ دار ہے۔


شیئر کریں: