Chitral Times

Sep 20, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

ہمارا معاشرہ اور تخریب کار ۔ مہجور زیست ۔ تحریر:دلشاد پری

شیئر کریں:

جب بھی کوئی شخص اپنی زمہ داری نیک نیتی سے انجام دے رہا ہوتو اس کو اس کے فرائض منصبی سے روکنے اور اپنے ناپاک عزائم کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے کچھ تخریب کار ہر وہ حربہ استمعال کرتے ہیں جواسکی بس میں اور جب اس میں بھی ناکامی ہو جاتی ہے تو براہ راست مذہبی منافرت کا لیبل لگا کر میدان میں اتر ٓآتے ہیں یہی وہ ہتھکنڈا ہے جس سے عوام جلدی اشتعال میں اجاتی ہے ۔



ہمارے معاشرے کا دوسرا المیہ یہ بھی ہے کہ کچھ زہنی بیمار بھی اس معاشرے میں رہتے ہیں جو نہ خود عوام کے لئے کچھ کرسکتے ہیں اور نہ آپ کو کچھ کرنے دیتے ہیں جب کوئی اپنے حوصلے کے ساتھ کچھ کرنا چاہے تو یہ تخریب کار اچانک بیدار ہوتے ہیں اور مسلک یا مذہب کا سہارا لیکر اپنی زاتی دشمنی نکالتے ہیں کیونکہ سادہ لوح لوگ بات کی تہہ تک نہی جاتے اور فورا جذباتی ہو جاتے ہیں جس کا فائدہ یہ تخریب کار لیتے ہیں۔


جب ایک انسان ٖفارغ اور فضول بیٹھتا ہے تو اسکی ساری سوچ اور کام کرنے کی صلاحیتں ماؤف ہوتے ہیں کیونکہ خالی زہن شیطان کا آما جگاہ بن جاتا ہے یہی وجہ ہے کہ وہ نہ صرف دوسروں کے جذبات اور خدمات کو نفی کرنے میں اپنی توانائی صرف کرتا ہے بلکہ اس کے خلاف پروپیگنڈوں میں لگتا ہے او پھر اگے یہی آدمی تخریب کار بن جاتا ہے جس کا مقصد اس معاشرے میں فساد پھیلا کر اپنی نفس کی تسکین کرنی ہوتی ہے چاہے اس کے لئے اس سے مذہب کا لبادہ اوڑھنا کیوں نہ پڑے۔

گاہے اس کے لگائے گئے اگ میں کتنا خون خرابہ کیوں نہ ہو۔چاہے معاشرہ کتنے بے راہ روی کی طرف کیوں نہ جائے بس اس سے اپنی انتقام کی اگ بجانے ہوتی ہے جس کے لئے اس نے سارا سال فارغ بیٹھ کر پلاننگ کی ہوتی ہے،جس کو نہ خوف خدا ہے نہ قیامت کے آنے کا یقین۔


اج کل میرے ساتھ بھی یہی ہو رہا۔ہم اپنے قانون کے دائرے کے اندر رہتے ہوئے اپنے فرائض منصبی بھرپور اور احسن طریقے سے نبھا رہے ہیں ۔جو بھی شخص معاشرے کی بربادی اور سادہ لوح لوگوں کو لوٹنے میں کوئی کسر نہ چھوڑے وہ کسی بھی صورت معافی کے قابل نہی۔جب بھی ایسے لوگوں کے خلاف ہم لوگ میدان میں آتے ہیں تو ان تخریب کاروں کو بہت تکلیف ہوتی ہے اور یہی تخریب کار ان لوگو ں کی پشت پناہی کے لئے سرگرم ہوتے ہیں اور پھر ہزار قسم کی حربے استمعال کرتے ہیں۔یا سوشل میڈیا میں فیک آئی ڈی سے کسی کے خلاف پروپیگنڈا کرکے عوام کو مشتعل کرتے ہیں یا مذہبی رنگ دے کر دوسروں کی ساکھ کو خراب کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

میں چترال کے عوام سے درخواست کرتی ہوں کہ ایسے تخریب کاروں کے مقصد کو پہلے سمجھیے اور اگر کوئی شخص کوئی پیچ چلا رہا ہو تو زمہ داری کے ساتھ چلائے۔دوسروں کی ساکھ اور عزت کے ساتھ کھیلنے کے لئے نہی بلکہ معاشرے کی فلاح کے لئے،۔ہر چیز کا ایک ضابظہ ہوتا ہے۔جس پر عمل پیرا ہونا معاشرے کے ہر فرد کی زمہ داری ہے۔


شیئر کریں: