Chitral Times

Jan 18, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

جائیدادوں کا خفیہ سروے ۔ محمد شریف شکیب

شیئر کریں:

فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی طرف سے پشاور میں اراضی کے حوالے سے خفیہ سروے شروع کرنے کا انکشاف ہوا ہے۔سروے کے دوران ان کاروباری شخصیات اور سرکاری افسران وملازمین سمیت مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے افراد کی اراضی کے بارے میں معلومات اکھٹی کی جائیں گی۔جنہیں اب تک خفیہ رکھا گیا ہے اور ٹیکس کی ادائیگی آمدن کے تناسب سے نہیں ہورہی۔ پشاور کے علاوہ صوبے کے بڑے شہروں مردان، نوشہرہ، چارسدہ، کوہاٹ، ڈیرہ اسماعیل خان، بنوں، سوات، ہری پوراور ایبٹ آبادمیں بھی خفیہ سروے کے لئے خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔یہ ٹیمیں محکمہ مال سمیت دیگر صوبائی و وفاقی محکموں کے اہلکاروں کے اثاثوں کی تفصیلات حاصل کر یں گی۔

حیات آباد، سٹی، کینٹ، ٹاؤن اور شہر کے نواحی علاقوں میں اراضی کے حوالے سے خفیہ سروے مکمل کرنے کے بعد ٹیکس نہ دینے والوں کے خلاف کاروائی کی جائیگی اور انہیں ٹیکس نیٹ میں لایا جائے گا۔ جن سرکاری اہلکاروں نے حیات آباد،گل بہار، ڈیفنس، شامی روڈ اور دیگر پوش علاقوں میں اپنے نام پر، اپنی بیگمات،بچوں، رشتہ داروں اور ملازمین کے نام پر جو جائیدادیں بنائی ہیں ان کی تفصیلات بھی حاصل کی جائیں گی۔ایف بی آر کو توقع ہے کہ خفیہ سروے کے نتیجے میں نہ صرف ہزاروں کی تعداد میں ٹیکس نادھندگان کا کھوج لگایاجائے گا۔ بلکہ غیر قانونی طریقے سے جائیدادیں بنانے والوں کے بارے میں بھی ثبوتوں کے ساتھ معلومات حاصل ہوں گی۔ ملک کی بائیس کروڑ سے زائد آبادی میں سے کم از کم دو تین کروڑ افراد پر ٹیکس لاگو ہوتاہے جن میں انکم ٹیکس، پراپرٹی ٹیکس، بزنس ٹیکس اور دیگر محاصل شامل ہیں

ملک میں ٹیکس دھندگان کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے ان میں بھی اکثریت ان ٹیکس دھندگان کی ہے جن کی تنخواہوں سے پیشگی انکم ٹیکس کی کٹوتی ہوتی ہے۔ ماہانہ کروڑوں کا کاروبار کرنے والے اور خدمات کی فراہمی کے عوض لاکھوں ماہانہ کمانے والے بھی ٹیکس نہیں دیتے۔ریاست کا انتظام و انصرام ٹیکسوں کے ذریعے چلتا ہے۔ سکول، کالج، یونیورسٹیاں، ہسپتال، سڑکیں، پل،ڈیم، بجلی گھر اور تعمیر و ترقی کے منصوبے اور فلاحی سکیموں کے لئے ریاست کو وسائل درکار ہوتے ہیں جو ٹیکسوں کے ذریعے حاصل ہوتے ہیں۔اگر ٹیکس دینے کے قابل تمام لوگ اپنی قومی ذمہ داری ایمانداری، دیانت داری اور قومی خدمت کے جذب سے ادا کریں تو ملک میں ترقی کی رفتار بھی تیز ہوگی اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں سے سخت شرائط پر قرضے لینے کی ضرورت بھی نہیں پڑے گی۔ لیکن لوگوں کی طرف سے ٹیکس نہ دینے کی بھی بہت سی وجوہات ہیں لوگوں کو اعتماد نہیں کہ ٹیکسوں کی مد میں ان سے وصول کی جانے والی رقم قومی خزانے تک پہنچے گی۔

جس دن ٹیکس جمع کرنے کا نظام شفاف ہوگا اور مڈل مین کا کردار ختم ہوجائے گا لوگ خود اپنے ذمے کے ٹیکس قومی خزانے میں جمع کرائیں گے۔بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی مثال ہی لے لیں۔ ہمارے صوبے میں چالیس فیصد بجلی چوری ہوتی ہے۔ لوگ ڈائریکٹ کنڈے لگاکر گھروں میں ائرکنڈیشنڈ چلاتے ہیں۔گھروں میں کارخانے بھی چوری کی بجلی سے چل رہے ہیں۔ گھروں کے علاوہ دکانوں، دفاتر،فارم ہاوسز، پولیٹری اور ڈیری فارمز میں بھی چوری کی بجلی استعمال ہوتی ہے۔ یہ ممکن ہی نہیں کہ علاقے کے میٹر ریڈر کو کنڈے لگانے والوں کے بارے میں علم نہ ہو۔پشاور کے بیشتر نواحی علاقوں کے جن گھروں میں بھی میٹر لگے ہوئے ہیں عصر کے بعد میٹر بند کرکے کنڈے لگائے جاتے ہیں۔سرکاری عمال کی ملی بھگت سے اس کرپشن کا بوجھ لائن لاسز کے نام پر باقاعدگی سے بل ادا کرنے والے صارفین پر ڈال دیاجاتا ہے۔ حکومت ٹیکس نیٹ بڑھانے کے ساتھ اس بات کو بھی ہرقیمت پر یقینی بنائے کہ ٹیکسوں کی رقم افراد کی جیبوں میں جانے کے بجائے قومی خزانے میں جمع ہو۔ٹیکس جمع کرنے والے اداروں کی تطہیر کے بغیر ٹیکس نیٹ بڑھانا عوام پر اضافی بوجھ لادنے کے مترادف ہوگا۔


شیئر کریں: