Chitral Times

Nov 16, 2018

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • صوبائی حکومت کی ترجیحات …………..محمد شریف شکیب

    August 14, 2018 at 9:41 am

    خیبر پختونخوا کے نامزد وزیراعلیٰ محمود خان نے اپنی حکومت کی ممکنہ ترجیحات کے بارے میں بتایا ہے کہ صوبے کے وسائل میں اضافہ، فاٹا کا فوری انضمام، صنعت، توانائی، آئل اینڈ گیس ، معدنیات اور سیاحت کے شعبوں کو ترقی دینے پر صوبائی حکومت بھرپور توجہ دے گی۔ انہوں نے پشاور بس ریپڈ ٹرانزٹ اور سوات ایکسپریس وے کی فوری تکمیل اور میڈیا کے ساتھ قریبی تعلق رکھنے کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔ خیبر پختونخوا میں دوتہائی اکثریت اور وفاق میں اپنی پارٹی کی حکومت قائم ہونے کے باوجود محمود خان حکومت کو بہت سے چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔پانچ سال حکومت کرنے کے بعد صوبے کے عوام نے دوسری بار پی ٹی آئی کو دو تہائی اکثریت سے کامیاب کیا ہے۔ جس کا تقاضا یہ ہے کہ تحریک انصاف نے صوبے کے عوام کے ساتھ جو وعدے کئے تھے۔اور جنہیں بوجوہ اپنی پہلی مدت میں پورا نہیں کر پائی تھی۔ انہیں پایہ تکمیل کو پہنچائے۔ جن میں تمام سرکاری اداروں میں اصلاحات ، کرپشن کو جڑ سے ختم کرنا، قوم کی لوٹی ہوئی دولت واپس لانا، بے روزگار نوجوانوں کے لئے روزگار کے مواقع پیدا کرنا، تعلیم اور صحت کی سہولت ہر گھر تک پہنچانا اور بلاامتیاز پورے صوبے کو ترقی دینا شامل ہیں۔ پی ٹی آئی کی پچھلی حکومت کو اپنے انتخابی منشور پر عمل کرنے میں بہت سی رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا۔ جن میں سب سے بڑی رکاوٹ یہ تھی کہ مرکز میں مسلم لیگ ن کی حکومت تھی۔ جس نے پی ٹی آئی کے بقول این ایف سی میں صوبے کے واجبات اور بجلی کے بقایاجات تک ادا نہیں کئے جس کی وجہ سے صوبے کو اپنے ترقیاتی منصوبوں کے لئے عالمی مالیاتی اداروں سے قرضے لینے پڑے۔اب محمود خان کی حکومت کے پاس ترقی نہ کرسکنے کا یہ جواز باقی نہیں رہا۔ کیونکہ خیبر پختونخوا کے ساتھ مرکز میں بھی ان کی حکومت بننے جارہی ہے۔ پنجاب میں بھی پی ٹی آئی حکومت بنانے کی پوزیشن میں ہے اور بلوچستان میں بھی مخلوط حکومت میں پی ٹی آئی حصہ دار بننے جارہی ہے۔ اصلاحات کے عمل میں بیوروکریسی نے پہلے بھی رخنہ اندازی کی ہے۔ اس بار بھی وہ اصلاحات کے عمل میں رکاوٹ ڈال سکتی ہے۔ اداروں کو کرپشن سے پاک کرنا اور ان کی کارکردگی بہتر بنانا عوامی مفاد کا کام ہے۔ اصلاحاتی عمل میں حکومت کوعوام کا بھرپور تعاون حاصل رہے گا۔ خیبر پختونخوا میں دیگر صوبوں سے ہٹ کرشروع ہی سے مفاہمت کا ماحول پایا جاتا ہے۔ یہاں کی اپوزیشن نے ماضی میں بھی مفاہمت کی پالیسی کو کبھی ہاتھ سے نہیں چھوڑا۔ جب بھی صوبے کے مفاد کی خاطر حکومت نے احتجاج کی کال دی۔ اپوزیشن نے بڑھ چڑھ کر اس میں حصہ لیا۔ توقع ہے کہ اس بار بھی اپوزیشن صوبے کی ترقی کے معاملے پر حکومت کے لئے کوئی مسئلہ پیدا نہیں کرے گی۔ پی ٹی آئی کو صوبائی اسمبلی میں دوتہائی سے زیادہ کی اکثریت حاصل ہے اسے اتحادیوں کی بلیک میلنگ میں آنے کا کوئی خدشہ ہے نہ ہی مضبوط اپوزیشن کی مخالفت کا کوئی ڈر ہے۔ اس لئے قوم کے مفاد میں آسانی سے قانون سازی کرسکتی ہے۔ نامزد وزیراعلیٰ کو ایک فائدہ یہ بھی حاصل ہے کہ پارٹی کے اندر کسی گروپ بندی کا حصہ نہ ہونے کی وجہ سے انہیں تمام ممبران کا اعتماد بھی حاصل ہے۔سابقہ کابینہ میں موجود ہونے کی بدولت انہیں تمام مسائل سے آگہی بھی حاصل ہے۔ صوبے کے وسائل میں اضافے اور خود انحصاری کی منزل کی جانب سفر کو اپنی ترجیح قرار دینا خوش آئند ہے۔ قدرتی وسائل سے مالامال یہ صوبہ ماضی میں مسلسل نظر انداز ہوتا رہا۔ جس کی وجہ سے ہمیں اپنے روزمرہ کے اخراجات پورے کرنے کے لئے بھی وفاق اورمالیاتی اداروں کے قرضوں پر انحصار کرنا پڑا۔ اگر ماضی کی حکومتیں صوبے میں سیاحت، معدنیات، تیل و گیس اور آبی وسائل کو ترقی دینے پر توجہ دیتیں تو آج ہمیں اپنے ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی اور ترقیاتی منصوبوں کے لئے کسی کے سامنے دست طلب دراز کرنے کی ضرورت پیش نہ آتی۔ اپنی روایات کو بالائے طاق رکھ کر صوبے کے عوام نے پی ٹی آئی کو جو مینڈیٹ دیا ہے اس کا تقاضا ہے کہ پھونک پھونک کر قدم رکھا جائے۔ اور تبدیلی کے نعرے کو عملی جامہ پہنایا جائے۔ جب پانچ سال کی مدت پوری ہوجائے تو عوام کو برسرزمین تبدیلی کے آثار واضح نظر آنے چاہئیں۔

  • error: Content is protected !!