Chitral Times

Jan 28, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

داد بیداد۔۔۔۔۔۔پرو فیشنل بھی فتنہ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ڈاکٹرعنا یت اللہ فیضی

شیئر کریں:

اسلا م اباد سے کر اچی تک تجا رت، معیشت اور معا شیا ت کے حوا لے سے جو خبریں گردش کر رہی ہیں ان میں بڑی خبر یہ ہے کہ سٹیٹ بینک کے اختیار ات اور انتظا می ڈھا نچے پر نئے سرے سے غور ہو رہا ہے فنا نشل ایکشن ٹا سک فورس (FATF) کی جو تلوار جون 2021تک ہمارے سروں پر لٹک رہی ہے اس تلوار سے اپنی جا ن بچا نے کا واحد راستہ یہ ہے کہ ہم سٹیٹ بینک اور ملک کے دیگر ما لیا تی اداروں کا قبلہ درست کریں اس طرح ہما ری جان بھی سلا مت رہے گی چمڑی بھی سلا مت رہے گی اس حوا لے سے سٹیٹ بینک کے سابق گور نر ڈاکٹر عشرت حسین اور وزیر خزا نہ عبد الحفیط شیخ نے اصلا حا ت کا ایک پیکیج متعارف کرا یا ہے اس پیکیج میں 50کے قریب اصلا حا ت ہیں جنکی نو عیت فنی اور تکنیکی ہے اردو میں ان کا تر جمہ بھی مشکل ہے عوام کی سمجھ سے بھی وہ با ہر ہیں تین سادہ باتیں جو کہی گئی ہیں ان کا خلا صہ یہ ہے کہ سٹیٹ بینک کا گور نر پر و فیشنل ہو گا، ڈپٹی گور نر بھی پرو فیشنل ہو گا گور نر اور ڈپٹی گور نر سٹیٹ بینک کے افیسروں میں سے نہیں ہو نگے سول سروس کے افیسر وں میں سے بھی نہیں ہو نگے یہ پر و فیشنل بند ے ہو نگے ان کی مد ت 5سال ہو گی اس وقت مختلف ما لیاتی ادارے معا شی پا لیسیوں پر کا م کرتے ہیں ان اداروں کو بند کر دیا جا ئے گا ان کی جگہ نئے ادارے بنائے جا ئینگے گو یا بقول مرزا غا لب ؎


زما نہ عہد میں اس کے ہے محو ارائش
بنینگے اور تارے اب آسمان کے لئے


نئے ما لیا تی اداروں کا انتظام و انصرام پر و فیشنل لو گوں کے ہا تھوں میں ہو گا مئی 2021ء میں فیٹف کی ٹیم پا کستان آئے گی تو ہمارے روا یتی افیسروں کی جگہ نئے پر وفیشنل لو گ ان کے ساتھ بات چیت کر کے ان کو قائل کرینگے کہ ”سب اچھا ہے“ فکر کی کوئی بات نہیں اخبار بین حلقوں کو اس بات کا علم ہے کہ اس وقت صو ما لیہ، سوڈان اور میا نمر ایسے مما لک ہیں جہاں معا شی بد حا لی ہے اندرونی بد امنی ہے، سیا سی عدم استحکا م ہے سما جی ڈھا نچہ بر باد ہو چکا ہے اور اخبار بین حلقے یہ بھی جا نتے ہیں کہ 1996ء میں مختلف نا مو ں سے پر و فیشنل آئے تھے جنہوں نے ان ملکوں کا ما لیا تی ڈھا نچہ اپنے ہاتھ میں لیا تھا علا مہ

اقبال کہتا ہے ؎
میخا نہ یو رپ کے دستور ہیں نرا لے
لا تے ہیں سرور اول دیتے ہیں شراب آخر


دنیا میں پرو فیشنل کے دو اور بھی نا م ہیں ایک نا م ایڈ وائزر ہے دوسرا نا م کنسلٹنٹ ہے دو نوں نا موں کا اردو تر جمہ مشیر ہے جبکہ پر و فیشنل کا اردو متبا دل ”ما ہر“ ہے کس کا م کا ما ہر؟ یہ بات آج تک نہ کسی نے پو چھی ہے نہ کسی نے بتا ئی ہے پر وفیشنل کی بھر تی بھی ما ہرانہ طریقے سے ہو تی ہے اس کی پہلی قا بلیت یہ ہے کہ وہ پا کستان میں کا م نہ کر تا ہو کسی بین لاقوامی ادارے کا ملا زم ہو معین قریشی کی طرح سنگا پور یا کسی اور شہر میں کا فی پی رہا ہو کا فی پیتے ہوئے پا کستان سے فو ن پر اس کو دعوت دی جا ئے پا کستان آجا ؤ یہاں آسا می خا لی ہے وہ کہے گا میں 85لا کھ روپے تنخوا لے رہا ہوں،

پا کستان سے فون کرنے والا کہے گا فکر مت کرو تمہاری آمد نی اس سے زیا دہ ہوگی وہ کا فی کا خا لی کپ میز پر رکھنے کے بعد پیکینگ کے بارے میں سو چیگا اگلے دو مہینوں کے اندر پا کستان آکر بڑا عہدہ سنبھا لے گا اگلے دو سالوں کے اندر فیٹف (FATF) کی مہر با نی سے اس نو عیت کے 200پر و فیشنل پا کستان آکر بڑے عہدوں پر فائز ہو نگے والٹن کے تر بیت یا فتہ افیسروں کو کھڈے لائن لگا دیا جائے گا اگلے 25سالوں میں پا کستان کا وہی حشر ہو گا جو پرو فیشنل لو گوں کے ہا تھوں صو ما لیہ، سوڈان اور میانمر کا ہوا ہے چین، جنو بی کوریا، ویتنا م، تھا ئی لینڈ، سنگا پور، ملا ئشیا اور جا پا ن میں کوئی پر و فیشنل نہیں گیا کوئی ایڈ وائزر اور کنسلٹنٹ نہیں گیا ان ملکوں نے بے مثا ل ترقی کی جہاں بیرونی مما لک سے مشیروں کی فوج ظفر مو ج آئی ان کا معا شی ڈھا نچہ بھی تبا ہ ہوا معاشرتی اور سما جی ڈھا نچہ بھی بر باد ی سے دو چار ہوا پرو فیشنل انگریزی زبان کا لفظ ہے اور یہ لفظ ایک فتنہ بھی ہے پا کستان کی بیورو کریسی کے اختیارات پرو فیشنل لو گوں کو دیدیے گئے تو ملک کو نئے بحرانوں سے دوچار کر دینگے ان بحرانوں کی وجہ سے خدا نہ کرے ہمارا حشر بھی میانمر جیسا ہو جا ئے۔


شیئر کریں: