Chitral Times

Jan 28, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

جنگل کا قانون-(ہندو کش کے دامن سے چرواہے کی صدا)-عبدالباقی چترالی

شیئر کریں:

جنگل کا قانون-(ہندو کش کے دامن سے چرواہے کی صدا)-عبدالباقی چترالی

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک جنگل میں شیر، بھیڑیا اور لومڑی رہتے تھے۔ ایک دن وہ اکھٹے شکار کے لیے چلے گئے۔ تھوڑی دیر میں تینوں نے مل کر تین جانوروں کا شکار کیے۔ ان میں ایک زیبرا، دوسرا ہرن اور تیسرا خرگوش تھا۔شکار کرنے کے بعد شیر نے بھیڑیے سے کہا کہ ان جانوروں کو آپس میں تقسیم کریں۔ بھیڑیے نے کچھ دیر سوچ بچار کرنے کے بعد شیر سے کہا کہ جسامت کے لحاظ سے زیبرا بڑا جانور ہے لہٰذا اس پر آپ کا حق بنتا ہے۔ ہرن پر میں گزارا کر لوں گا اور خرگوش مکار لومڑی کے لیے کافی ہے۔ شیر نے بھیڑیے کے میرٹ پر کیا ہوا فیصلہ سن کر غصے میں آگیااور پنجہ مار کر بھیڑیے کی ایک آنکھ نکال دی۔

اس کے بعد لومڑی سے کہا، تمہیں اب ان جانوروں کو منصفانہ طریقے سے تقسیم کرنا ہے۔ اگر درست طریقے سے تقسیم نہیں کیا تو بھیڑیے کے انجام کو یاد رکھنا۔ مکار لومڑی بادشاہ کے مزاج سے خوب واقف تھے۔ وہ جانتا تھا کہ اگر وہ بھی بھیڑیے کی طرح شکار کردہ جانوروں کو میرٹ کی بنیاد پر تقسیم کرے گا تو اس کا انجام بھیڑیے سے بھی بد تر ہوگا۔ لہٰذا اس نے حالات کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے کہا کہ بادشاہ سلامت! زیبرا آپ کے دوپہر کے ظہرانے کے لیے ہے۔ ہرن شام کے عشائیے کے لیے ہے اور خرگوش کو صبح ناشتے میں تناول فرمائیے۔


لومڑی کا یہ فیصلہ سن کر شیر نے کہا، مجھے تم سے یہی منصفانہ فیصلے کی توقع تھی۔ تم نے ان جانوروں کو درست تقسیم کرکے انصاف کا بول بالا کردیا ہے۔ آئندہ کے لیے جنگل کے دوسرے جانور بھی تمہارے اس منصفانہ تقسیم کو ہمیشہ یاد رکھیں گے۔جنگل کی تاریخ میں تمہارا نام سنہرے حروف میں لکھا جائے گا۔


اس کے بعد لومڑی جلدی اس جگہے سے دور چلا گیا اور اللہ کا شکر ادا کیا کہ اگر شیر تقسیم کا فیصلہ پہلے مجھ پر چھوڑتے تو میں اس وقت بھیڑیے کی طرح اپنی ایک آنکھ سے محروم ہوچکا ہوتا۔ اللہ کا شکر ہے کہ اب جان تو میری بچ گئی باقی رہی کھانے کی بات تو آج اگر گوشت نہیں ملا تو کیا ہوا کل کو کسی طرح مل ہی جائے گا۔


بھیڑیے کے درست تقسیم کا فیصلہ جنگل کے بادشاہ کی خواہشات اور پسند کے مطابق نہیں ہوا تو بیچارے کو اپنی ایک آنکھ سے محروم ہونا پڑا۔ موجودہ جنگل کا بادشاہ بھی اپنے کارندوں سے لومڑی کی طرح فیصلے کرانا چاہتا ہے۔ جنگل کے دوسرے جانوروں کو بھیڑیے کے دردناک انجام سے ڈرارہا ہے۔ جنگل کے تمام جانوروں کو اپنی طاقت کے ذریعے تابع اور ماتحت رکھنا چاہتے ہیں تاکہ آئندہ کسی کو حکم عدولی کی جرأت نہ ہوسکے۔

جنگل کے بادشاہ کو کسی کا فیصلہ پسند نہ آئے تو پنجے مارکر آنکھیں نکال لیتا ہے۔ طاقت کے سامنے تمام چھوٹے بڑے جانور اپنی جان بچانے کی خاطر لومڑی کی طرح فیصلے کرتے ہیں تو ان کی جان تو بچ جاتی ہے مگر اس فیصلے کے اثرات جنگل کے دوسرے جانوروں کے لیے نقصان دہ ثابت ہوسکتے ہیں۔ جنگل کے بادشاہ کے ظلم و ستم سے تمام جانور بہت پریشان ہیں اور اس سے نجات حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ بادشاہ کے غلط فیصلوں کی وجہ سے ان کے بعض قریبی مشیر بھی ناراض دیکھائی دے رہے ہیں۔ بادشاہ سے نجات حاصل کرنے کے لیے بادشاہ کے کچھ کارندے جنگل کے طاقتور جانوروں سے رابطے کررہے ہیں۔ صلح مشورے کرہے ہیں۔
خدا جانے انجامِ گلستان کیا ہوگا؟


شیئر کریں: