Chitral Times

Nov 27, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

یہ عذاب ہی تو ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ڈاکٹر عبد المجید

Posted on
شیئر کریں:

انسان اور دیگر مخلوقات کی پیدائش نہ تو کوئی حادثہ ہے اور نہ ہی کوئی عبث قسم کا اڈونچر۔ اﷲ رب العزت نے تمام مخلوقات کو بندگی اور اپنے پہچان کے واسطے تخلیق فرما یا ‘ پھر انسان کو اشرف المخلوقات ہونے کے واسطے دنیا کی نیابت اور خلافت عطا ء فرما ٰٰٰٰٰٰٰٰئی۔انسان کی رہنمائی کے لئے وقتاً فوقتاً رسلاء اور انبیاء ؑ کا نزول بھی ہوتا رہااور نافرمانی کرنے والوں پر عذاب بھی نازل ہوتے رہے‘ قوم نوح، عاد، ثمود اور شعیبؑ پر مسلط کردہ عذاب تاریخ کا حصہ ہیں۔ نبی کریم ﷺ کی تشریف او ری اور اسلام کے جلو ہ افروز ہونے کے بعد باقی مذاہب کلعدم قرار دئے گئے اور صرف اسلام ہی کو فلاہی اور کامیابی کا ذریعہ قرار دیا گیا ‘ چنانچہ حکم دیا گیا کہ ’ تم بندگی کروگے ،حقوق ﷲ اور حقوق العباد کی بجا آوری کروگے ، نیک کاموں کا حکم دوگے اور برائی سے روکو گے، کسی کا ناحق خون نہیں بہاؤگے ، نیز زمین پر فساد نہیں پھیلاؤگے‘ گرچہ نبیﷺ کی امد کے ساتھ نزول انبیاؑ ء کا سلسلہ ہمیشہ کے لئے منقطع ہوگیا تاہم امت پران کے اعمال کے سبب مختلف نوعیت کے عذاب نازل ہوتے رہیں گے ۔اخری امت پر عذابوں کا سلسلہ تا قیامت جاری رہیگا بجز اس کے کہ وہ اپنے رب کی طرف نہیں لپکتے۔ ہاں آخری امت پہ اﷲ کا ایک خصوصی احسان یہ ہے کہ ان پر اجتماعی اور رسواکن عذاب نازل نہیں کئے جائیں گے جسطرح پہلے اقوام پر مسلط کر دئے گئے اور وہ بھی پیارے نبی کے طفیل اور ان کی دعاؤں کی بدولت۔
آج اگر ہم اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی کا بغور تجزیہ کرے اور اپنے اعمال کا جائیزہ لے تو ایک بہت ہی دھندلی تصویر نظروں کے سامنے آجاتی ہے۔کیا ہم نے اﷲ کی رسی کو مظبوطی سے پکڑا اور تفرقے کو پس پش ڈالا ہوا ہے؟ کیا حقوق ا لعباد اور حقوق اﷲ کی ادائیگی میں کوتاہیاں نہیں برتی جاتی؟ مسلکی بنیادوں پر ایک دوسرے پر کفر کے فتوے نہیں لگائے جاتے؟۔ در حقیقت ہم تنزل اور گمراہیوں کے بھیانک درجوں کو چھو رہے ہیں۔زندگی کے ہر پہلوں میں نا انصافی، بدعنوانی، حق تلفی، جھوٹ، فریب اور مکاری نمایاں ہیں۔ سنی شیعہ ایک دوسرے کے خون کے پیا سے ہیں، بریلوی اور دیو بندی اختلافی مسائل اور الزامات در الزامات پر اپنی توانائیاں ضا ئع کر رہے ہیں،سگا بھائی پانچ دس مرلے ٹکڑا زمین پر اپنے ہی بھائی کے خون سے ہاتھ رنگ لیتا ہے،اولاد والدین کی نافرمانیوں میں مشغول، مزدور اپنی مزدوری سے اور ملازمین اپنے فرائض سے غافل،زخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری میں ہمارا کوئی ثانی نہیں۔ایسی حالت میں ہم پر یشانیوں اور بے چینی کا رونا کیونکر روئے اور سکون کہاں تلاش کریں۔

کلاسیکل فزکس کا ایک مشہور قانون ہے ’عمل اور رد عمل‘۔ اس قانون کے مطابق ہر عمل کا رد عمل ہوتا ہے، عمل اور رد عمل مقدار میں برابر لیکن سمت میں مخالف ہوتے ہیں، مثلاً اب گیند کو دیوار کی طرف پھینکتے ہیں تو یہ عمل ہے، رد عمل کے طور پر گیند دیوار سے واپس اپ کی طرف لپکتا ہے، جتنی شدت سے آپ گیندکو دیوار کی طرف پھینکتے ہے اتنی ہی شدت سے یہ واپس مڑ کر آپ کی طرف آئیگا۔ یہی قانون اﷲ کے ہاں بھی عمل پذیر ہے۔صبح شام نا فرمانیوں اور گناہوں سے بھرے ہمارے فائلز اﷲ کی خدمت اقدس میں پیش کئے جاتے ہیں‘ ان فائلوں میں کرپشن ، زنا، خون ناحق، ظلم و تکبراور نا انصافیوں پر مبنی ہمارے اعمال درج ہوتے ہیں‘ یہی اعمال باعثِ نزول آسمانی فیصلوں کے ہوں گے۔قدرت کے فیصلے زمین والوں کی عمل کے رد عمل کے طور پر نازل ہوں گے۔ جو اعمال ہم کرتے ہیں اور جتنی شدت سے کرتے ہیں تو پھر اسی نوعیت کی اور اتنی ہی شدید رد عمل کی توقع بھی کرنی چھاہئیے۔ پس اگر ہم سکون کے لئے ترس رہے ہیں، مہنگائی سے تنگ ہیں، ظلم اور نا انصافی کا رونا رو رہے ہیں، خودکش حملوں میں اپنے پیاروں کو کھو رہے ہیں، کرپشن نے جینا حرام کیا ہوا ہے، عدالتوں سے انصاف کے فیصلے نہیں آرہے، زر زن زمین پر قتل و غارت کا بازار گرم ہے تو سمجھ لینا چھا ہئیے کہ یہ اﷲ کا عذاب ہے جو ہم پر ہمارے اعمال کی بدولت مسلط کر دیا گیا ہے۔لھذابہت ضروری ہے کہ اپنے اعمال کی درستگی کی بسیار کوشش کی جائے اور خود احتسابی کے عمل کی شروعات کی جائے تاکہ قدرت کو ہم پر رحم آجائے ۔


شیئر کریں: