Chitral Times

Jan 23, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

ریشن کو دریائے یارخون سے لاحق خطرہ ۔ نویدالرحمن

شیئر کریں:

اپر چترال کے ابتدا میں واقع خوبصورت اور تاریخی بستی ریشن قدیم الایام سے ہی وقتا فوقتا قدرتی آفات کی زد میں رہا ہے کیونکہ اس کے اوپر جا بجا گلیشیر ہیں اور نیچے سے بےرحم دریا یارخون پورے آب و تاب کے ساتھ بہتی ہے۔


گلوبل وارمنگ کی وجہ سے گلیشیرز تیزی سے پگھلنے لگے جس کی وجہ سے دریا کی سطح بلند ہورہی ہے جس کے نتیجے میں 2010 سے لے کر اب تک یہ خوبصورت علاقہ تباہ کن سیلاب کی وجہ سے بری طرح متاثر ہوتا رہا اور کئ قیمتی انسانی جانیں ضائع ہوئیں، زرعی اراضیات ، رہائشی مکانات، باغات و جنگلات دریا برد ہو کر صفحہ ہستی سے مٹ گئ۔ اور رہی سہی علاقے کو بھی آئندہ کے لئے تباہ و برباد ہونے کا یقینی اندیشہ ہے۔


بدقسمتی سے اس عرصے میں علاقہ کو محفوظ بنانے کے لئے کوئی ٹھوس اقدامات نہیں اٹھائی گئی اور علاقے کے باشندوں کی جانب سے متفقہ و سنجیدہ کوشیشن نہیں کی گئی جس کی وجہ زندہ دلان ریشون کی زندہ دلی ہے جو ہر دکھ و مصیبت سہنے کے بعد بھول جاتے ہیں۔


اب بھی موقع ہے کہ ہمارے بزرگ اور نئی نسل اس حوالے سے سنجیدہ جدوجہد کا آغاز کرے اور اپنے خوبصورت سرزمین کو مزید تباہ و بربادی سے بچانے کے لیے ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر علاقے کے بہترین مفاد میں ایک آواز بن کر اپنی صلاحیتیں اور قابلیتیں بروئے کار لائے تاکہ آئندہ کی نسلوں کے لیے ہم اپنا کردار ادا کر سکیں محفوظ ریشن ہر ایک کے بہترین مفاد میں ہے آئیے ہم سب مل کر اس خوبصورت سرزمین کو مزید تباہی سے بچانے کے لئے عہد کر لے یہی وقت کا تقاضہ ہے۔ اللہ تعالی ہماری کوششوں میں یقینا برکت عطا فرمائے گا۔


نوید الرحمن چترال

chitraltimes reshun river erosion washed away chitral mastuj road
akah volunteers at reshun flood6

شیئر کریں: