Chitral Times

Jan 28, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

یوم پاکستان۔….تحریر :صوفی محمد اسلم

شیئر کریں:

23 مارچ 1940 کو لاہور کے منٹو پارک میں قائد اعظم محمد علی جناح کے زیر صدارت مسلم لیگ کے جلسے میں سکندر مرزا کی ایک تحریری قراداد کو شیر بنگال مولوی فضل الحق نے پیش کیا۔ اس قرارداد کو قراداد لاہورکہتے تھے بعد میں قرارداد پاکستان کا نام دیا گیا۔

جس کی بنیاد پر مسلم لیگ نے برصغیر میں مسلمانوں کے جدا وطن کے حصول کے لیے تحریک شروع کی اور سات برس کے بعد 14 اگست 1947 کو اپنا مطالبہ منظور کرانے میں کامیاب ہوگۓ۔

اگر ہم تحریک پاکستان کے پس منظر کا جائزہ لیں تو ہمیں بات محمد بن قاسم سے شروع کرنا ہو گی ۔ محمد بن قاسم سندھ کے راستے سے برصغیر میں داخل ہوکر سندھ اور ملتان کے علاقوں پر قبضہ کر  برصغیر میں اسلام کا پہلا جنڈا لہرایا ۔ پھر آہستہ آہستہ یہاں مسلمانوں کی حکومت قائم ہوتی گئی۔ قطب الدین ایبک برصغیر کا پہلا مسلمان بادشاہ تھا۔ پھر مختلف مسلمان خاندانوں نے حکومت کی جن میں خاندان غلامان، تغلق لودھی ، سادات اور سوری شامل ہیں۔ آخر کار 1526 میں بابر نے مغلیہ حکمرانی کی بنیاد ڈالی۔ انگریز یہاں تجارت کے بہانے آئے اور آہستہ آہستہ حکومت پر قبضہ کرلیا۔ مسلمانوں نے انہیں یہاں سے نکالنے کی کوششیں کیں۔ سراج الدولہ‘ سلطان ٹیپو اور سلطان حیدر علی ہماری تاریخ کے ہیرو ہیں۔ انہوں نے انگریزوں کو نکالنے کے لئے ان سے بہت سی جنگیں کیں۔

1857 کی جنگ آزادی اس سلسلے کی آخری کوشش تھی اس جنگ میں  ناکام ہوئے اور ملک مکمل طور پر انگریزوں کے قبضے میں چلا گیا اور مسلمانوں کی حکمرانی مکمل طور پر ختم ہو گئی۔

1857 ء کی جنگ آزادی کے بعد مسلمانوں کے ساتھ بہت زیادہ سختیاں اور زیادتیاں کی گئیں ۔ بہت علماء کو شہید کیے گۓ۔ مسلمان بے حد مایوس ہو چکے تھے ۔سر سید احمد خان روشنی کا ستارہ بن کر نمودار ہوئے انہوں نے جدید تعلیم کی طرف توجہ دیں۔ سر سید احمد خاں برصغیر میں دو قومی نظریے کے بانی کہلاتے ہیں۔ انہوں نے مسلمانوں کے لیئے پہلی مرتبہ قوم کا لفظ استعمال کیا ۔ 1906 کو مسلم لیگ کا قیام عمل لایا گیا ۔نواب وقار الملک، نواب سلیم اﷲ، قائداعظم محمد علی جناح مسلم لیگ کی قیادت کیں۔ مسلمان رہنماؤں نے مسلمانوں کے حقوق کے تحفظ کے لئے کام کیا ان میں محسن الملک ، وقار الملک مولانا، محمد علی جوہر، آغا خان ، علامہ اقبال، لیاقت علی خان اور بے شمار دوسرے رہنما شامل ہیں۔ انگریزوں کی غلامی کے بعد کانگریس پارٹی چاہتی تھی کہ ہندوستان انگریزوں سے آزاد ہو کر ہندوؤں کے ہاتھوں میں آۓ لیکن مسلمانوں کو یہ بات قبول نہ تھی۔ ہندوں کے ہاتھوں مسلمانوں کے تہذیب و ثقافت مذہب اور روایات کے تحفظ کا کوئی امکان نہیں تھا ۔

علامہ اقبال نے 1930 ء میں الٰہ آباد کے مقام پر مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس میں اپنے صدارتی خطبے میں مسلمانوں کیلئے آزاد وطن کا تصور پیش کیا۔ ان کا خیال تھا کہ برصغیر کے جن صوبوں میں مسلمان اکثریت میں ہیں یعنی پنجاب، سرحد، سندھ اور بلوچستان انہیں آپس میں ملا کرمسلمانوں کا علیحدہ آزاد اور خودمختار ملک بنا دیا جائے۔

1933 چودری رحمت نے اس تصوراتی ملک کا نام پاکستان اپنے ایک کتابچہ” اب یا کبھی نہیں“میں تجویز کیا۔ پاکستان کا لفظی مطلب ہے پاک جگہ یا پاک سرزمین۔

کانگرس مسلمانوں کو ایک قوم کی حیثیت سے تسلیم کرنے کو تیار نہ تھے۔ جب بھی موقع ملا مسلمانوں کے تہذیب و ثقافت کو ختم کرنے کی کوشش کی۔ اس سے مسلمانوں میں آزادی کا جذبہ بڑھتا چلا گیا ۔ 1938 ء میں سب سے پہلے سندھ مسلم لیگ نے ہندوستان کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کامطالبہ کیا۔ آخرکار 23 مارچ 1940 ء کو پیش کی جانے والی قرارداد سے مسلمانوں منزل کا تعین ہو گیا ۔ اسلئے تاریخ جدوجہد پاکستان میں اس  قرارداد کی بڑی اہمیت ہے۔

1940 کو قرارداد پاکستان منظور ہونے کے بعد سات سال کے عرصے میں بے شمار قربانیوں کے بعد مسلمان اس قابل ہو سکے کہ انگریزوں اور ہندوؤں کی غلامی سے نجات حاصل کر سکے۔

اکتوبر 1941 قائد اعظم محمد علی جناح نے کہا کہ انگریزوں کا آئین ہمارے لیے مسائل کا بہترین حل ہے۔قائد اعظم آئینی کمزوروں سے خوب واقف تھے۔ اس محاز پر وہ لڑنا بھی جانتے تھا۔ اخر مسلمانوں کو ایک آزاد کی ضرورت کیوں پیش ائ۔ کانگرسی ہندوں لیڈران  کے تنگ دلی اور بغض مسلمانوں کے جزبات اکساتے رہے ۔ یہاں تک ک  مسلمان متحد ہنستان میں تصور نہیں کرسکتے تھے کہ کھبی ہندوں کی تعصب سے ازادی حاصل ہوگی۔ جو اپنے ہی طبقے 6کرور عوام کو اچھوت بنا رکھے تھے۔

اس طرح 14 اگست 1947 ء کو یہ پیارا ملک پاکستان وجود میں آیا۔ 

اس قرارداد کی بدولت دنیا میں ایک مخصوص نظریے اور مذہب کی بنیاد پر دنیا کی سب سے پہلی ریاست قائم ہوئی۔  یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اتحاد ‘ تنظیم اور یقین محکم کے اصولوں پر عمل کر کے مسلمانوں نے اپنی منزل حاصل کی تھی ۔ اب ہمارا فرض بنتا ہے کہ ہم اپنے ملک کی ترقی اور استحکام کیلئے کام کریں اور پاکستان کو عظیم سے عظیم تر بنا دیں۔ یقیناً خدا ہمارے ساتھ ہے۔


شیئر کریں: