Chitral Times

Oct 19, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

وزیراعظم کے معاون خصوصی ذولفی بخاری کا چترال کیلئے سفیر بننے کا اعلان۔۔تحریر:عجب خان

شیئر کریں:

آج سوشل میڈیا میں ایک خبر وائرل ہوگئی ہے کہ معاون خصوصی وزیراعظم پاکستان زلفی بخاری نے چترال کے لیے سفیر بننے کا اعلان کیا ہے ہم موصوف کے اس عمل کو سراہتے ہیں مگر یہ ہمارے لئے کوئی انہونی بات نہیں۔ کیونکہ پاکستان تخریک انصاف کی اعلی قیادت ہمیشہ چترال کے سفیر کا کردار ادا کرتے آرہے ہیں اور یہاں کے مسائل حل کرنے میں حد درجہ دلچسپی لیتے آئیے ہیں اس کا ثبوت یہ ہے کہ 2013 کے الیکشن میں جب چترال کے نمائیندگان اپوزیشن کے بینجوں میں جا بیٹھے تو پی ٹی آئی کی اعلی قیادت نے مخصوص نشست پر ہمیں نمائدگی دی۔ یہی نہیں اس دوران چترال کے دو بڑے مسائل چترال کو دو ضلعوں میں تقسیم کرنا اور یونیودسٹی کا قیام جیسے درینہ مطالبات کو بھی پایا تکمیل تک پہنچایا۔


عوام پی ٹی آئی قیادت کے چترال سے خصوصی لگاؤ اور دلچسپی کو مد نظر رکھتے ہوئے پی ٹی آئی کو پروموٹ کرنے کے بجائے اسی دوراں ہونے والے بلدیاتی انتخابات میں خوشکن نعروں کی پیروی کرتے ہوئے دوسرے جماعتوں کو منڈیت دی یہی نہیں 2018 کے عام انتخابات میں بھی انہی جماعتوں نے عوام کو ٹرک کے بتی کے پیچھے لگانے میں کامیاب رہے اور نتیجہ یہ ہے کہ وہ لوگ عوام کی نمائیندگی کرتے ہوئے یہاں کے مسائل حل کروانے کے بجائے اپنی ناکامی کا رونا رو رہے ہیں ان کے منشور ابھی تک کلاس فور ملازمین سے آگے نہ بڑھ سکا۔ مگر ان سب حالات کے با وجود پی ٹی آئی کی اعلی قیادت نے چترال کے فرزند وزیر زادہ صاخب کو صوبائی اسمبلی میں اقلیتی نشست دے کر ایک بار پھر صوبائی اسمبلی کے دروازے اس دھرتی کی نمائندگی کے لئے کھول دئیے بغد میں اسے وزیر اعلا کے معاون خصوصی کا عہدہ دے دیا۔


اس سے بڑھ کر سفارتکاری کیا ہو سکتی ہے آج زلفی بخاری صاخب کا یہ وعدہ بھی بہت خوش آئیند بات ہے ہمیں یقین ہے کہ موصوف بھی ہمارے اس پسماندہ دھرتی کے مسائل حل کروانے میں کردار ادا کرینگے۔
مگر ضرورت اس امر اور سوچ کی ہے کہ کیا ہم (چترال کے عوام) خواب غفلت سے بیدار نہیں ہو سکتے ہم کب تک ان پارٹیوں اور ان لوگوں کے بہکاوے میں آینگے جو نہ خود اپنے لئے اور نہ اس دھرتی کے لئے کچھ کرنے کے پوزیشن میں ہیں اور نہ ہونگے۔ کب تک ہم اپنے قیمتی ووٹوں سے خسب اختلاف کی کرسیاں سجاتے رہیں گے اور اپنے مسائل کا رونہ روتے رہینگے۔ کیا یہ بہتر نہیں ہوگا کہ ہم اپنوں میں سے ووٹ کے زریعے اپنے نمائیندے اور سفیر چنیں اور سوات اور گلگت کی طرح ترقی کی راہ میں گامزن ہو جائیں۔


میری تحریر سے کسی کی دل آزاری ہوئی ہو تو معزرت خواہ ہوں۔ مگر ہمیں ضرور سوچنا ہوگا اپنی خاطر نہیں تو اس مٹی کی خاطر۔۔


شیئر کریں: