Chitral Times

Oct 16, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

سیرۃ النبیﷺ کا اخلاقی پہلو۔۔۔۔۔سردار علی سردارؔ اپر چترال

شیئر کریں:

آج کا یہ دن ہم سب کے لئے بہت ہی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ اس مبارک دن کے موقع پر ہم اپنے پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کے حضور اپنی عقیدت و محبت کے پھول نچھاور کرنے کے لئے اپنے احساسات اور خیالات کا اظہار کرتے ہیں۔آج کا یہ دن ہمیں دعوتِ فکر دیتا ہے کہ آج سے چودہ سو سال قبل ایک پریشان کن انسانی زندگی کی پھر سے آباد کاری کے لئے  بارگاہِ خداوندی سے ایک عظیم ہستی امید کی کرن بن کر دنیائے رنگ وبو میں تشریف فرما  ہوئی۔یہ وہ وقت تھا جب انسان یاس اور ناامیدی کے گرداب میں گرا ہوا تھا ۔ چنانچہ یہ ہی وہ عظیم ہستی ہیں جس نے حیاتِ انسانی کی کشتی کو بھنور سے نکال کر جاودانی زندگی عطا کی ۔ یہ ہستی مجسم رحمت، پیکرِ خیرو برکت، ازل تا ابد خالقِ حقیقی کا ایک بےبدل شاہکار تھی جس نے سراجاِِ منیر اور رحمۃََ اللعلمین  کی حیثیت سے انسانی زندگی کو مصفّا کردیا ۔ گویا خداوندِ کریم نے مومنین پر احسان عظیم کیا کہ اُس نے انہیں میں سے ایک پیغمبر اُن کے لئے بھیجا جیسا کہ ارشادِ خداوندی ہے۔ لَقَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ إِذْ بَعَثَ فِيهِمْ رَسُولًا مِّنْ أَنفُسِهِمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَإِن كَانُوا مِن قَبْلُ لَفِي ضَلَالٍ مُّبِينٍ  ٘ (3.164) 

 ترجمہ: بیشک مسلمانوں پر اللہ تعالٰی کا بڑا احسان ہے کہ انہیں میں سے ایک رسول ان میں بھیجا  جو انہیں اس کی آیتیں پڑھ کر سناتا ہے اور انہیں پاک کرتا ہے اور انہیں کتاب اور حکمت سکھاتا ہے یقیناً یہ سب اس سے پہلے کھلی گمراہی میں تھے۔

تاریخ گواہ ہے کہ حضرت محمد ؐکی آمد سے قبل عرب معاشرہ گمراہی میں ڈوبی ہوئی تھی۔روحانی اور اخلاقی قدروں کو پامال کیا جاچکا تھا ۔لوگوں میں انسانیت نام کی کوئی چیز باقی نہ رہی تھی۔اُن میں مختلف قسم کی اخلاقی بیماریاں  سرائیت کرگئی تھیں۔ ایسے حالات میں ایک ایسی ہستی کی آمد ہوئی جس نے انسانوں کو ایسا کندن بنادیا جس سے جوہر انسانیت کے خدوخال یکسر نکھر  گئے۔

اہلِ دانش کو معلوم ہے کہ رحمت ِ دوعالم، فخرِ موجودات، نورِ ھدیٰ حضرت محمد ؐکی ذات والا صفات کے بارے میں کچھ بیان کرنا عام انسانوں کی عقل اور علم سے ماوریٰ ہے اور سورج کو چراغ دیکھانے کے مترادف  ہے کیونکہ آپ ؐکی عظمت و بزرگی کو دیکھ کر عقل حیران رہ جاتی ہے تو پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک عام آدمی اپنی جزوی عقل سے ایسی ہستی کی صفات بیان کرے جس کا ثناخوان خود خدا ہو۔ یہی وجہ ہے کہ غالب نے کہا تھا۔

غالبؔ ثنائے خواجہ بہ یزدان گزاشتیم                  کان ذات پاک مرتبہ دانِ محمد است۔

ترجمہ: غالب نے آقا کی ثنا خوانی خدائے بزرگ وبرتر پر چھوڑ دی ہے اس لئے کہ اللہ پاک خود ہی محمد ﷺ کی قدر و منزلت  کو صحیح طور پر جاننے والا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ آپ ؐ کی عظمت و بزرگی اور جاہ وجلالت کو کبھی بھی بیان نہیں کیا جاسکتا ۔ جب سے یہ دنیا  بنی ہے لوگ آپ ؐ کی مدح و ثنا کے گیت گاتے رہتے ہیں لیکن آپؐ کی تعریف کرتے کرتے وہ خود تو تھک جاتے ہیں لیکن آپ ؐ کی شانِ اقدس اور بڑھتی چلی جاتی ہےکیونکہ خداوندِ کریم نے آپؐ کے ذکر کو بلند کردیا ہے ارشاد ہوتا ہے۔ وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ۔   (94.4)

  ترجمہ:  اور ہم نے  آپؐ کے لئے آپؐ کا    ذکر بلند کر دیا ہے۔

لہذا ایسے عظیم المرتبت ہستی کا ذکر عقلِ جزوی سے کیسے توقع  کیا جاسکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ احمد جامی نے کہا کہ۔

لاَ یُمکنُ الثَناَ کَماَ کاَنَ حَقَّہُ                        بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر

ترجمہ: اے نبی ﷺ آپؐ کی تعریف کا جو حق ہے اُس کو بیان کرنا ممکن ہی نہیں ہے۔مختصر یہ کہ دنیا میں خدا کے بعد آپ ؐہی عظیم ترین  ہستی ہیں۔

مختصر یہ کہ آپ ؐکی تعریف کرنا سورج کو چراغ دیکھانے کے مترادف ہے ہاں اگر تائید الہی رہی تو آپ ؐکی زندگی کے صرف ایک پہلو یعنی اخلاق حُسنہ کے متعلق چند کلمات ادا کرنے کی جسارت کریں گے۔

تاریخ کا مطالعہ کیا ہوا انسان جانتا ہے کہ پیغمبر اسلام ؐ کی ولادت ایک ایسے موقع پر ہوئی جس میں انسان یاس اور ناامیدی کے گرداب میں گرا ہوا تھا بھائی بھائی کا دشمن تھا انسانیت نام کی کوئی چیز نہیں تھی۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ آپ ؐ کی ولادت سے قبل عرب معاشرہ کس حد تک پستی کی طرف گرا ہوا تھا کیونکہ ہردانشمند کو یہ بات معلوم ہے کہ جب معاشرے کا اخلاقی سطح  پستی کی طرف آتی ہے یا انسان زندہ رہتے ہوئے بھی لامحالہ حیوانیت کے درجے پر آتا ہے تو اُسے اخلاقی پستی سے نکالنے کے لئے مسیحائے روزگار بھی ظاہر ہوتا ہےتاکہ وہ انسانیت کے لئے خِضر راہ بن جائے، خود مشکلات برداشت کرکےنوعِ انسان کی مقصد حیات کی طرف رہنمائی کرے، خود مصائب اور تکالیف برداشت کرےلیکن دوسرے انسانوں کو سکھ دے، خود پتھر کھائے دوسروں کو دعائیں دے، خود بھوکا پیاسا رہے دوسروں کو کھانا کھلائے۔ چنانچہ مزکورہ بالا یہ تمام صفات نبیؐ کی ذات اقدس میں جمع تھیں۔ یہی وجہ تھی کہ خداوندِ کریم نے فرمایا۔لَّقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ۔ (33.21) 

ترجمہ: یقیناً تمہارے لئے رسول اللہ میں عمدہ نمونہ (موجود) ہے

پس جو کوئی نبی ؐ کے اس نمونہ عمل کی پیروی کرے گا وہ یقیناََ جہالت کی تاریک دنیا سے نکل کر ہدایت کی روشن دنیا میں پہنچ جائے گا۔ جب آپ ؐ نے نبوت کا اعلان فرمایا تو قوم کے لوگوں نے آپؐ کو طعنہ دینا شروع کیا اور طرح طرح کے مظالم آپ پر ڈھائے گئے یہاں تک کہ لوگوں نے آپؐ سے سوشل بائیکاٹ بھی کیا لیکن آپؐ نے اس کے جواب میں کچھ ردّ عمل نہیں کیا بلکہ اپنے چچا حضرت ابو طالب کے ہمراہ شعب ابی طالب میں تین سال تک صبرو تحمل سے برداشت کرتے رہے۔” ظائف کی وہ شام بھی کس قدر بھیانک تھی جب شہر کے لڑکے پیغمبر ِ اسلام کو پتھر مار مار کر شہر سے باہر لے جارہے تھے۔ یہ شریر لڑکے اس وقت تک آپ ؐ کا پیچھا کرتے رہے جب تک سورج نے غروب ہوکر آپؐ کے اور اُن لڑکوں کے درمیان تاریکی کا پردہ نہ ڈال دیا ۔ آپؐ  کا جسم زخموں سے چور تھا سر سے پاؤں تک آپؐ خون میں نہائے ہوئے تھےمگر آپؐ کی زبان سے اس انتہائی سنگین موقع پر اپنے دشمنوں کے خلاف کوئی برا کلمہ نہیں نکلا بلکہ آپ ؐنے فرمایا: خدا یا اُن کو صحیح راستہ دیکھا کیونکہ وہ نہیں جانتے کہ وہ کیا کررہے ہیں” اللہ کے رسول کا یہی اخلاق تھا جس نے آپؐ کے دشمنوں کو اس طرح  زیر کیا کہ سارے عرب نے آپ ؐکے پیغام کو قبول کرلیا۔ آپؐ کے اعلیٰ کردار کے آگے کوئی تعصب، کوئی عداوت اور کوئی ہٹ دہرمی ٹھر نہ سکی۔ آپؐ کی بلند سیرت لوگوں کو جادو کی طرح مسخر کرتی چلی گئی”۔ (پیغمبرِ انقلاب، سیرت پاک کا علمی اور تاریخی مطالعہ ، مولانا وحیدالدین خان ، 2005 ء ، ص 36)

جنگِ اُحد میں نبی کریم صلعم کے دندانِ مبارک شہید ہوئے اور آپ ؐکے چچا حضرت حمزہ  کی شہادت ہوئی اُس کے باوجود بھی آپؐ نے دشمنوں سے بدلہ نہیں لیا بلکہ صبر کرتے رہے۔ صداقت و امانت کا یہ عالم تھا کہ عالمِ شباب ہی میں آپؐ کو امین اور صادق کے ناموں سے یاد کیا جاتا تھا ۔ آپ ؐکے عفودرگزر سے کون واقف نہیں آپؐ نے اُس عورت کی بھی عیادت کی جو آپؐ  پر بلاناغہ کوڑا پھینکا کرتی تھی۔ جب مکہ فاتح ہوا  اور مسلمان فاتحانہ انداز میں مکہ میں داخل ہوگئے تو آپؐ نے ماضی کے تمام تلخ یادوں کو بھول کر عام معافی کا اعلان فرماتے ہیں۔ قَالَ لَا تَثْرِيبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ۔ (12.92)

   ترجمہ:  آج کے دن تم پر کوئی الزام نہیں۔

اگر حقیقت  کی نگاہ  سے دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ وہ کونسی ازیتیں اور مصبتیں نہ تھیں جو کفار کی جانب سے آپؐ  پر نہ کی گئی تھیں اُن کی وجہ سے اپنے وطن کو چھوڑنا  پڑا ، آپؐ  پر خون ریز حملے ہوتے رہے، دوست اور رشتہ دار خاک اور خون میں تڑپتے رہے لیکن آج وہی لوگ آپؐ کے سامنے تھے جنہوں نے آپؐ کو تکلیف دی تھیں یہ بدلہ لینے کا بہترین موقع تھا مگر اس کے باوجود آپؐ نے سب کو معاف کردیا کیونکہ آپؐ محسنِ انسانیت تھے، یہی وجہ ہے کہ خداوندِ تعالیٰ کے اخلاق حسنہ کو خلقِ عظیم کے نام سے یاد فرمایا ہے ارشاد ہوتا ہے ۔  وَإِنَّكَ لَعَلَىٰ خُلُقٍ عَظِيمٍ۔ (68.4) 

ترجمہ: بےشک آپ ﷺ اخلاق کے اعلیٰ درجے پر فائز ہیں۔

ان تمام واقعات اور حقائق سے واضح ہے کہ جناب رسولؐ  کی ذات اقدس پیکر ِ رحمت تھی۔ جس نے اسلام کی صحیح ترجمانی اپنے حسنِ اخلاق سے کی۔ یہی وجہ ہے کہ آپؐ کا اخلاق بالخصوص عالمِ اسلام اور بالعموم عالمِ انسانیت کےلئے مشغلِ راہ ہے۔ دوست تو دوست اغیار بھی اُن سے استفادہ حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔

آپؐ نہایت شرین کلام اور باکمال فصیح تھے گفتگو ایسی دلاویز ہوتی تھی کہ سننے والے کے دل و روح پر قبضہ کرلیتی تھی۔ سلسلہ سخن ایسا مربوط ہوتا تھا جس میں لفظاََ و معناََ کوئی خلل نہ ہوتا تھا الفاظ ایسی ترتیب سے ادا فرماتے کہ اگر سننے والا چاہے تو الفاظ کا شمار کرسکتا تھا ۔چنانچہ خداوندِ تعالیٰ نے اس شرین زبان کے متعلق یوں ارشاد فرمایا ہے۔فَبِمَا رَحْمَةٍ مِّنَ اللَّهِ لِنتَ لَهُمْ ۖ وَلَوْ كُنتَ فَظًّا غَلِيظَ الْقَلْبِ لَانفَضُّوا مِنْ حَوْلِكَ ۖ فَاعْفُ عَنْهُمْ وَاسْتَغْفِرْ لَهُمْ وَشَاوِرْهُمْ فِي الْأَمْرِ ۖ ۔   (3.159)

ترجمہ:  پھر اے رسول ! اللہ تعالیٰ کی رحمت کے سبب سے تم نے اُن سے نرمی برتی اور اگر تم درشت مزاج اور سخت دل ہوتے تو یہ لوگ ضرور تیرے ارد گرد بھاگ جاتے پس تم اُن سے درگزر کرو اور اُن کے لئے معفرت چاہو اور معاملات میں اُن سے مشورہ کرلیا کرو۔

 چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کی یہی وہ شرین زبان تھی جس نے عالمِ انسانیت کو اخوت، رواداری،محبت، امن و آشتی، عفودرگزر، قوتِ برداشت اور حلیمی جیسی اعلیٰ صفات کا درس دیا اور فرمایا ۔اِنّیِ بُعِثتُ لِاُتَمِمَ مَکَرِمَ الاخلاَق ۔

ترجمہ: یعنی کہ میں بھیجا گیا ہوں تاکہ بہترین اخلاق کی تکمیل کرسکوں۔

 (مولانا محمد حفیظ الرحمن ، اخلاق اور فلسفہ اخلاق ، 1976 ء ، ص 104)

دنیا کو معلوم ہے کہ حضورؐ ہجرتِ مدینہ کے موقع پر مواخات کا درس دیتے ہوئے یہ بھی فرمایا تھا کہ اَلخلَقُ عَیاَلُ اللہِ ۔

   ترجمہ: مخلوق سارے خدا کے کنبے کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمیں اپنے اپکو اللہ کا مخلوق تصّور کرتے ہوئے اس کے سارے مخلوق سے رنگ،نسل، خاندان اور نسب جیسے اختلافات سے بالاتر ہوکر محبت اور حسنِ اخلاق سے پیش انا چایئے ۔ اگر کوئی خدا سے محبت کا دعویٰ کرتا ہے تو اُس کے لئے لازم ہے کہ خدا کے مخلوق سے محبت کرے۔ اُن کے دکھ درد کا ملجا و ماویٰ  ہو اُن کی مصیبت میں اُن کا غمگسار ہو کیونکہ خدا کے نزدیک وہی ہوسکتا ہے جو دکھی انسانوں سے محبت کرتا ہے۔

آج کا یہ دن ہمیں دعوت فکر دیتا ہے کہ ہم پیغمبر اسلام کے اسوہ حسنہ کو اپنے لئے مشغلِ راہ بنانے کا تہیہ کریں اور اپنے اندر احترامِ انسانیت ، قوتِ برداشت،بے سہارا انسانوں کی مدد،  رواداری، معافی، اعتدال پسندی، چغلخوری سے اجتناب ، علم وحکمت ، اچھی نصیحت ، حلیمی ، عدل وانصاف ، فراخدلی، اور اخلاقی اقدار جیسی اہم صفات پیدا کریں۔یہیں وہ آفاقی اور عالمگیر اصول ہیں جو ہر دور میں ہمارے لئے رہنما ہیں ۔ اس وقت پوری دنیا میں ایک وبا پھیلی ہوئی ہے لوگ ذہنی، تعلیمی اور معاشی لحاظ سے متاثر ہوتے جارہے ہیں۔ایسے حالات میں ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلمان اپنے اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر اسلام کی دائمی تعلیمات کی روشنی میں ایک پرآمن اور مثالی معاشرہ قائم کرتے ہوئے غریبوں اور بےسہارا لوگوں کی مدد  کریں تاکہ اسلام کا حقیقی چہرہ اپنی اصل روح کے ساتھ نظر آسکے ۔  خدا اور اس کے رسول ؐہم سے راضی ہوں اور ہم دین و دنیا  دونوں میں سرخرو اور کامیاب ہوں۔

 وہ دانا ئے سُبل ختمِ الرسل مولائے کل جس نے           غبارِ راہ کو بخشا فروعِ وادی سینا  ۔

 (کلیات اقبال حّصہ بالِ جبریل، 2004 ء ، ص 121 )


شیئر کریں: