Chitral Times

Mar 2, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

مسلمان بمقابلہ مسلمان……..پروفیسررحمت کریم بیگ

Posted on
شیئر کریں:

ماضی قریب میں جب چترال کٹور خاندان کے آخری دور کے مظالم کے نیچے سسکیاں لے رہاتھا اور حکمران اور رعایا میں ایک گہری خلیج قائم ہوچکی تھی، دونوں ایک دوسرے کے پیچھے کمر کس کر لگے ہوئے تھے، تو اس وقت عوام کی قیادت اس وقت کے علمائے دین کی ہاتھ میں تھی، حکمران ان پر ظلم کے پہاڑ توڑتے تھے، ان کو سر عام کوڑے مارے جاتے تھے، قید و بند میں رکھا جاتا تھا، بھوکا رکھا جاتا تھا، ان کے اہل خاانہ کے ساتھ بد ترین سلوک روا رکھا جاتا تھا، مگر یہ علمائے دین انتہائی حد تک سخت جان تھے، انہوں نے ہر ظلم کو برداشت کیا ظاہر ہے ان کو مالی مراعات کی پیشکش بھی ہوتی تھی مگر انہوں نے مسلم لیگ کے پرچم کو بلند رکھا علمائے دین کی دیانت داری پر آنچ نہیں آنے دیا، کوڑے برداشت کئے، ایک ظالم نے ایک دفعہ، بیان کا جاتا ہے کہ ایک مولانا کو لاکر پولو گرائنڈ میں اس پر ڈنڈے برسائے اور کفر کے الفاظ اس کی زبان سے نکلنے لگے.کہ اب تمہارا خدا تمہیں ہم سے کیسے بچاتا ہے. مگر مولانا صاحب نے ہار نہیں مانی، ان نامور علاماء میں مولانا نور شاہدین، مولانا شہاب الدین، قاضی نظام، مولونا عبدلاکریم، مولانا عبدلاللہ، مولانا حضرت الدین، مولانا خطیب محمد زمان اف آیون وغیرہ تھے اور جو نام مجھ سے بھول گئے ہیں ان کے لئے میں معذرت خواہ ہوں، یہ لوگ تھے جو ظالم بادشاہ کے سامنے حق بات کہنے سے ڈرنے والے نہیں تھے اور انہوں نے اپنی پیہم کوششوں سے چترال کی ریاستی مظالم کو للکارا اور اس فرسودہ بادشاہت کے نظام کو زمین بوس کرکے رکھ دیا۔ان کے عزم کو سلام کرنا چاہئے کہ ان کے مقابلے میں پوری ریاستی مشینری ان کی بیخ کنی کے لئے لگائی گئی تھی اور مراعات یافتہ طبقہ بھی متفقہ طور پر ان علماء کے خلاف تھا۔ ان کی یہ کوشش تاریخ میں سنہرے خروف میں لکھنے کے قابل ہے،یہ وہ حضرات تھے جنہوں نے پندرہ پندرہ، بیس بیس سال علم دین سیکھنے میں لگایا تھا اور وہ صحیح معنوں میں علمائے دین تھے، ان میں قیادت کی بھی بے پناہ صلاحیت موجود تھی قوت برداشت تھی،کوء کسی کو بریلوی یا اہل حدیث یا دیوبندی کے نام سے یاد نہیں کرتا تھا بس سب مسلمان تھے، اکھٹے تھے، مقصد ایک تھا اس اتحاد کے نتیجے میں ان کا جو ٹارگٹ تھا حاصل ہوگیا۔
ان کی ان صفات کی وجہ سے ساری ریاست کی آبادی متحد ہوگئی، اس ملک گیر اتحاد میں اسماعیلی، سنی، شیعہ، کالاش، بریلوی، وہابی سب متحد تھے اس لئے target achieveہوگیا، لوگ مظالم کی چکی میں پسنے سے بچ گئے اور جاکر ان قبر والوں کو بھی اواز دی کہ اے اہل قبور! سنو! آج ہم ریاست کی بیگار اور مظالم سے آزاد ہوگئے ہیں کیونکہ یہ بات بعض اہل قبور کی وصیت تھی جو پوری کر دی گئی۔ آج ہم میں یہ علماء موجود نہیں آج نفرت پھیلانے والے معاشرے پر چھاگئے ہیں، مسلمانوں کو تقسیم کر دیا گیا ہے، لڑایا جارہا ہے، ایک فرقہ دوسرے کو برداشت کرنے کے لئے کسی طرح تیار نہیں، وہ مسلم لیگی علماء مخلص تھے، دین اسلام کی صحیح روح کو سمجھ گئے تھے مگر افسوس آج ہمیں یہ جذبہ کہیں نظر نہیں آتی،آج ہمارے دینی پیشوا چند سال چند کتابیں پڑھ کر فتاوی جاری کرنے اور ان پڑھ مسلمانوں کو اسلام سے خارج کرنے کے دھندے میں مزہ محسوس کرتے ہیں دینی تعلیم کی میعاد آٹھ سالہ کی جگہ تیئس سالہ ہونا چاہئے تبھی اسلام کی اصل روح دل کی تہ تک پہنچ پائیگی، جن علمائے کرام نے ریاست کے خلاف متحد ہوکر تحریک چلائی وہی ہمارے اصل محسن ہیں۔


شیئر کریں: