Chitral Times

May 28, 2020

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

عید کا دن….. ایک عظیم سنت پر عمل کرنے کا نادر موقع….. تحریر: محمد ضیاء اللہ زاہد شجاع آبادی

شیئر کریں:

عید کا دن ہے ۔ ہر طرف خوب گہما گہمی ہے، چہل پہل ہے۔ سبھی کے چہرے خوشی سے کھل رہے ہیں۔ہر کسی نے نئے کپڑے پہنے ہوئے ہیں، خوشبوئيں لگائی ہوئی ہیں۔ سبھی لوگ اپنے بچوں کے ساتھ عیدگاہ کی طرف رواں دواں ہیں۔بچے اپنے بڑوں کے ساتھ اٹھکیلیاں کرتے ہوئے ، خوشی سے چہکتے ہوئے عید گاہ کی طرف جارہے ہیں۔گلی کے اس نکڑ پر ایک بچہ کھڑا رو رہاہے ۔ اس کے کپڑے بھی پھٹے پرانے ہیں۔وہ حسرت سے ان بچوں کی طرف ایک نظر اٹھا کر دیکھتا ہے اور پھر زور سے رونے لگتا ہے۔ کوئی اس بچے کو چپ کرانے والا نہیں ہے۔ سبھی اس کو روتا دیکھ کر خاموشی سے گزر جاتے ہیں۔اب تقریباً عید نماز کا وقت پورا ہوچکا ہے۔بس ابھی عید نماز ہوگی اور سبھی ایک دوسرے کو گلے ملیں گے، عید کی مبارکباد دیں گے۔اچھے اچھے اور انواع و اقسام کے کھانے پکائے اور کھائے جائیں گے۔ وہ دیکھو! اس گلی سے ایک اور یتیم درمیانی اور نپی تلی چال کے ساتھ آرہا ہے، جب اس کی ذلفیں ہوا کے دوش پر لہراتی ہیں تو ان سے ایک خوشبو اٹھتی ہے جس سے ساری گلی معطر ہورہی ہے۔ لوگ دور سے اسے دیکھ کر خوش ہورہے ہیں کہ ابھی عید کا خطبہ ہوگا اور نماز پڑھی جائے گی۔ اب وہ یتیم چلتے ہوئے اس روتے ہوئے بچے کے قریب پہنچ کر رک رک جاتاہے۔وہ شفقت سے بچے کے سر پر ہاتھ پھیرتا ہے اور اس سے پوچھتا ہے کہ بیٹا کیوں رو رہے ہو اور تم نے آج نئے اور صاف ستھرے کپڑے کیوں نہیں پہنے۔ بچہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگتا ہے اور کہتا ہے کہ ” میں یتیم ہوں ، میرا ابو جنگ میں شہید ہوگیا ہے۔میں اس لیے رو رہا ہوں کہ اگر آج میرے ابو زندہ ہوتے تو میں بھی صاف ستھرے کپڑے پہنتا اور ان بچوں کی طرح اپنے ابو کی انگلی پکڑ کر خوشی خوشی عیدگاہ جاتا “۔ وہ یتیم جو یتیموں کا والی ہے۔جس کا نامِ نامی اسمِ گرامی محمدﷺ ہے اس بچے کی انگلی پکڑتا ہے اور اسے کہتا ہے کہ” اے بچے کیا تو اس بات پر خوش نہیں کہ آج سے میں محمدؐ تیرا ابو اور عائشہ صدیقہؓ تیری ماں ہو“۔ گھر جاکر نبیِ کریمﷺ حضرت عائشہؓ سے کہتے ہیں کہ عائشہؓ اس بچے کو نہلاو نہلاو دھلاٶ اور اچھے کپڑے پہناٶ۔ خدا کی قسم میں اس وقت تک عید نہیں پڑھوں گا جب تک کہ اس بچے کو مسکراتا ہوا نہ دیکھوں۔چنانچہ ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہؓ اس بچے کو نہلاتی ہیں، صاف ستھرے کپڑے پہناتی ہیں اور پھر میرے آقاﷺ اس بچے کو اپنے ساتھ لے کر عیدگاہ کی طرف اس طرح جاتے ہیں کہ بچے نے آقاﷺ کی انگلی پکڑی ہوتی ہے اور وہ مسکرا رہا ہوتا ہے۔ دوستو ! کل ہم نے بھی عید نماز کےلیے عیدگاہ کی طرف جانا ہے۔ہمارے راستے میں بھی کئی ایسے بچے کھڑے ہوں گے کہ جنہوں نے میلے کچیلے کپڑے پہنے ہوئے ہوں گے۔جن کے چہروں پر غموں کے پہرے ہوں گے۔ تو سوچیں کہ ہمیں کرنا کیا چاہیے اور ہم کرتے کیا ہیں؟ کیا ہم بھی ان بے کس و لاچار بچوں کے سر پر ہاتھ پھیر کر انہیں تسلی دیتے ہیں ، انہیں کپڑے اور کھانا وغیرہ دیتے ہیں یا پھر خاموشی سے گزر جاتے ہیں؟۔کیا ہم بھی یتیمِ مکہ محمدعربیﷺ کی طرح ان بچوں سے پیار کرتے ہیں یا ان دیکھی کرتے ہوئے چلے جاتے ہیں؟ کیا جب ہمیں اپنے نبی ﷺ کی اس سنت پر عمل کرنے کا موقع ملتا ہے تو ہم اس پر عمل کرتے ہیں یا غفلت سے پہلوتہی کرتے ہیں؟اگر پہلے ہم غفلت کرتے چلے آئے ہیں تو اس کی اللہ سے معافی مانگیں اور کل اس سنت پر اگر عمل کا موقع ملے تو اسے ہاتھ سے نہ جانے دیں ، ہوسکتا ہے کہ اس سنت پر عمل کرنے کا یہ ہمارا آخری موقع ہو۔


شیئر کریں: