Chitral Times

May 28, 2020

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

یونیورسٹی کے طالب علم کی پکار ….خالد محمود ساحر

شیئر کریں:

پاکستان میں وائرس کے پھیلتے ہی 13 مارچ کو ملک کے تمام تعلیمی ادارے بند کئے گئے اور وائرس کی روک تھام تک تعلیمی ادارے بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا. اسکولوں اور کالجوں میں مارچ کا مہینہ امتحانات کا ہوتا ہے جس کے بعد نئے تعلیمی سال کا آغاز کیا جاتا ہے لیکن وائرس کے پھیلاؤ کی وجہ سے وزارت تعلیم نے ملک کے تمام اسکولوں اور کالج کے گیارہویں بارہویں کے طالب علموں کو پروموٹ کرنے کا فیصلہ کیا جس کا سرکاری طور پر وزیر تعلیم شفقت محمود نے اعلان کیا. 13 مارچ کو ہی ملک کی تمام تر یونیورسٹیاں بند کی گئیں اور تاحال بند ہیں لیکن یونیورسٹی کے طالب علموں کو پروموٹ کرنے یا تعلیمی سلسلہ بحال رکھنے کا طریقہ کار وضع نہیں کیا گیا.ملک کی تمام تر یونیورسٹیاں ہائر ایجوکیشن کمیشن کے ماتحت ہیں اور ہائیر ایجوکیشن کمیشن نے تمام یونیورسٹیوں کو اپنی اپنی ایس او پیز کے مطابق کام کرنے کا حکم دیا ہے جس کے بعد یونیورسٹیوں کے طالب علموں کے درمیاں آن لائن لرننگ اور سمسٹر رکوانے کا سروے کیا گیا. جس کے مطابق اکثریت نے سمسٹر رکوانے کے بجائے آن لائن لرننگ کا فیصلہ کیا ہے اور یکم جون کے بعد قوی امکان ہے کہ ملک کی تمام یونیورسٹیاں آن لائن لرننگ شروع کریں گے. 

ایسی صورتحال میں ان طالب علموں کی تعلیم متاثر ہوجائے گی جن کے پاس نیٹ کی سہولت موجود نہیں. لوئیر چترال اور اپر چترال کے بہت سے طالب علم پشاور اسلام آباد لاہور کراچی مردان اور دیگر شہروں کے یونیورسٹوں میں زیر تعلیم ہیں اور اس صورتحال میں ان تمام طالب علموں کا وقت,تعلیم اور مستقبل داؤ پر لگنے کا خدشہ ہے. چترال خصوصا اپر چترال میں 2G کی سہولت میسر ہے جس میں آن لائن تعلیم حاصل کرنا ناممکن امر ہے.میں بطور یونیورسٹی کا طالب علم ضلعی قیادت, صوبائی قیادت اور حکومت وقت سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ اس مسئلے پر غور فرمائیں. میری بساط کے مطابق اس مسئلے کے دو حل ہیں جو زیر توجہ لائی جائیں.

 پہلا اپر چترال کے تمام تر طالب علموں کو چترال میں رہائش اور وائی فائی کی سہولت دی جائے تاکہ وہ اپنا تعلیمی سلسلہ جاری رکھ سکیں. تعلیم میں رکاوٹ ملک کی ترقی کے سامنے رکاوٹ ہے.دوسری اپر چترال میں بہترین نیٹ کی سہولت کو یقینی بنایا جائے تاکہ طالب علم گاؤں گاؤں میں اپنے گھروں میں بیٹھ کر بغیر رکاوٹ کے اپنا تعلیم جاری رکھ سکے. اپر چترال میں 2G کو 4Gمیں اپگریٹ کیا جائے.اپر چترال میں صرف ٹیلی نار پاکستان (TELENOR PAKISTAN)  نیٹ ورک مہیا کررہا ہے جس سے گزارش ہے کہ وہ اپنی وسیع ترین نیٹ ورک کی وساطت سے ہماری تعلیم کو متاثر ہونے سے بچائے اور 4G کی سہولت میسر کرے.G کی سہولت میسر کرے.


شیئر کریں: