Chitral Times

Jan 27, 2020

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • دوائے دل….پروفیسر شمیم اختر، اک شخص کتابوں جیسا تھا!…..تحریر:مولانا محمد شفیع چترالی

    January 10, 2020 at 1:05 am

    گزشتہ د نوں ہمارے انتہائی مہربان اور شفیق بزرگ حضرت مولانا مجاہد الحسینی کا ا نتقال ہوگیا تو یہ احساس دل و دماغ پر چھایا رہا کہ ہماری وہ نسل جس نے برصغیر کی آزادی کی جدوجہد میں حصہ لیا، جس نے وطن عزیز پاکستان کو بنتے دیکھا تھا، ہجرت کی صعوبت سہی اور جو پاکستان کی سات عشروں پر محیط تاریخ کے تلخ و شیریں واقعات کی چشم دید گواہ ہے، اب آہستہ آہستہ معدوم ہوتی جارہی ہے، نئی نسل کو تحریک آزادی کی خونچکاں داستان اب کتابوں میں ہی پڑھنے کو ملے گی۔ میں چند برس قبل مولانا مجاہد الحسینی کی خدمت میں حاضر ہوا تھا تو انہوں مجھے ایک اخبار کا 1949ء کا ایک شمارہ دکھایا، جس میں ان کا نام بحیثیت ایڈیٹر درج تھا۔ اس طرح میری معلومات کے مطابق وہ پاکستان کے سب سے قدیم صحافی اور مدیر تھے۔ ان کے پاس یادوں اور معلومات کا گویا ایک دفتر تھا، جس سے عالم اسلام اور پاکستان کی پون صدی کی تاریخ محفوظ تھی۔ راقم کو مولانا کی محبتیں اور شفقتیں میسر رہیں۔ میں مولانا کی یادوں پر کچھ لکھنے کاارادہ کرتے رہ گیا تاہم ہمارے دیگر کئی دوستوں نے ان کی شخصیت اور خدمات پر عمدہ تحریریں لکھیں جو شائع ہوچکی ہیں۔
    .
    اس وقت اک اور چراغ بجھا ہے اور تاریکی اور بڑھی ہے۔ بین الاقوامی امور کے ممتاز تجزیہ نگار، جامعہ کراچی کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات کے سابق سربراہ، سینئر کالم نگار، میرے انتہائی شفیق بزرگ پروفیسر شمیم اختر بھی داغ مفارقت دے گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ شمیم صاحب ایک شخص کا نہیں بلکہ ایک انجمن، ایک عہد کا نام تھے جو تمام ہوا۔ شمیم صاحب کی عمر 91 برس تھی اور وہ ان لوگوں میں سے تھے جنہوں نے ایک اسٹوڈنٹ لیڈر کی حیثیت سے تحریک پاکستان میں باقاعدہ حصہ لیا۔ وہ اپنی یاد داشتوں سے ان چشم دید واقعات کو مزے لے لے کر بیان کیا کرتے تھے جو تحریک پاکستان کے دوران پیش آئے۔ انہیں وہ منظر کبھی نہیں بھولتا تھا جب الہ آباد ریلوے اسٹیشن پر قائد اعظم کے استقبال کا پروگرام بنایا گیا تھا، ایک جم غفیر امڈ آیا تھا اور کچھ لوگ قائد اعظم کو قریب سے دیکھنے کی غرض سے کھڑکیوں پر اور ریل کی بوگیوں کے اوپر چڑھ گئے تھے اور قائد اعظم نے اس پر ناگواری کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ”ہم ایسا پاکستان نہیں چاہتا۔ ہم ڈسپلن والا پاکستان چاہتا ہے۔“
    .
    قیام پاکستان کے کچھ عرصہ بعد پروفیسر شمیم اختر 1954ء میں الہٰ آباد یونیورسٹی ایم اے کرنے کے بعد پاکستان آئے اور تدریس کا پیشہ اختیار کیا اور تاریخ میں بھی ایم اے کرلیا۔ کچھ عرصے بعد مزید تعلیم کے شوق میں امریکا چلے گئے اور وہاں ٹیکساس یونیورسٹی سے ایل ایل ایم اور (غالباً) بین الاقوامی امور میں ماسٹرز کیا اور ساٹھ کی دہائی کے آغاز پر جامعہ کراچی سے وابستہ ہوئے۔ جامعہ کراچی کے اس وقت کے وائس چانسلر اور معروف محقق وماہر تعلیم ڈاکٹر اشتیاق حسین قریشی، شمیم صاحب کی قابلیت اور شخصیت سے متاثر تھے، انہوں نے ہی انہیں جامعہ کراچی میں تدریس کی پیشکش کی تھی۔ شمیم صاحب ڈاکٹر اشتیاق حسین کی سربراہی میں اسلامی نظریاتی کونسل میں ریسرچ فیلو بھی رہے۔ جامعہ کراچی کے شعبہئ بین الاقوامی تعلقات میں اسسٹنٹ پروفیسر سے ترقی کرکے شعبے کے چیئرمین بنے۔ اس دوران 1972ء میں قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد کی خصوصی فرمائش پر دو سال آپ نے وہاں بھی پڑھایا۔ جامعہ کراچی سے ریٹائر ہونے کے بعد چند برس کوئٹہ میں ایک نجی یونیورسٹی میں بھی تدریس کے فرائض سرانجام دیے۔ تدریس کے دوران ان کی قابلیت کا شہرہ ہونے لگا اور ان کے تجزیے اور مضامین قومی اور بین الاقوامی ذرائع ابلاغ، اردو وانگریزی اخبارات میں شائع اور نشر کیے جانے لگے۔ پروفیسر شمیم اختر ساٹھ کی دہائی میں ”ایشیاسرخ ہے“ کے نعروں سے متاثر ہوئے اور ان کا شمار بائیں بازو کے ممتاز دانشوروں میں ہونے لگا۔ لیکن پھر جیسے جیسے حقیقت کھلتی گئی شمیم صاحب کے نظریات میں بھی تبدیلی آتی گئی اور آپ اسلامی تحریکوں کے قریب آتے گئے۔ ہم نے 1998ء میں جمعیت طلبہ اسلام کے زیراہتمام نظام تعلیم پر ایک سیمینار منعقد کیا تھا، جس میں پروفیسرشمیم اختر کو پہلی بار سننے اور ان سے ملنے کا موقع ملا تھا۔ آپ جس موضوع پر گفتگو کرتے، مکمل تیاری، ترتیب اور روانی کے ساتھ بات کرتے اور دلائل کے انبار لگادیا کرتے تھے۔ آپ بین الاقوامی تعلقات پر اتھارٹی کی حیثیت رکھتے تھے، اس کے علاوہ بین لاقوامی قانون، تاریخ، خاص طور پر یورپی تاریخ پر زبردست دسترس رکھتے تھے، مشرق وسطی کی تاریخ پر تو گویا ان کا کوئی ثانی نہیں تھا۔ اردو اور انگریزی کے علاوہ ہندی اور عربی سے بھی اچھی واقفیت رکھتے تھے۔ غالباً پہلا ایم ایم اے عربی میں ہی کیا تھا۔
    .
    راقم کی خوش نصیبی رہی کہ مجھے شمیم صاحب سے تقریبا سترہ برس تک نیاز مندی اور استفادے کا موقع ملا۔ میں 2001ء میں جب صحافت کے شعبے میں مبتدی کی حیثیت سے آیا تو سر منڈاتے ہی اولے پڑنے کے مصداق کچھ ہی عرصے میں اداریہ نویسی کی ذمہ داری سونپ دی گئی، جس کی ادائی میرے لیے ہمالیہ سر کرنے سے کچھ کم نہیں تھی۔ لیکن جلد ہی ادارے کی مہربانی سے اپنے اپنے شعبوں کے چند ممتاز ماہرین کی رہنمائی میسر آگئی۔ حضرت استاذ صاحب نے ایک دن مجھے پروفیسر شمیم اختر صاحب سے ملوا یا اور بعد میں مجھ سے فرمایا کہ”یہ معلومات کا ایک خزانہ آپ کے ہاتھ لگا ہے، اس سے جتنااستفادہ کرسکتے ہیں، کریں۔“ مجھے خزانے کی تلاش تو تھی لیکن خیال یہ تھا کہ یہ بڑی شخصیت ہیں، شاید ان سے رابطے کے مواقع زیادہ نہ ہوں، لیکن بعد میں تجربہ یہ ہوا کہ ان سے رابطہ سب سے آسان تھا۔ سترہ اٹھارہ برسوں میں ایسا تو بہت دفعہ ہوا کہ پروفیسر صاحب نے کال کی اور میں دستیاب نہیں ہوسکا، مگر ایسا بہت کم ہوا کہ میں نے رابطہ کیا ہو اور انہوں نے فون نہیں اٹھایا یا کال بیک نہ کی ہو۔ کسی بھی بین الاقوامی ایشو پر اداریہ لکھنا ہوتا تو میں ان سے رابطہ کرتا، وہ نہایت تسلی کے ساتھ بہترین معلومات فراہم کرتے، اگلے روز فون کرکے کھل کر داد دیتے اور کمال شفقت سے فرماتے: ”ارے! ایسا تو میں بھی نہیں لکھ سکتا تھا۔“ شمیم صاحب ڈان اخبار میں لکھتے تھے لیکن نظریاتی کج روی پر دل برداشتہ ہوکر وہاں لکھنا چھوڑ دیا او ر اسلام کی محبت میں روزنامہ ”اسلام“سے وابستہ ہوگئے۔ ان کے کالم تحقیقی انداز کے ہوتے تھے جن میں بسا اوقات باریک نکات، قانونی اصطلاحات، بھاری بھرکم الفاظ اور نایاب معلومات ہوتیں، اوپر سے ان کا خط کچھ ایسے انداز کا تھا کہ ہر کمپوزر کے لیے اس کا سمجھنا کارے دارد ہوتا۔ اس پر اگر کوئی لفظ غلط چھپ جاتا تو اگلے روز شمیم صاحب کی ڈانٹ سننے کے لیے تیار رہنا پڑتا۔ وہ ان ہستیوں میں سے تھے جن کی ڈانٹ سننے میں بھی مزہ آتا تھا۔
    .
    میں نے ایک دفعہ ان سے عرض کیاکہ سر! غلطی ہائے مضامین ایک عالمگیر مسئلہ ہے، کمپیوٹر کی آمد نے اس کو حل کرنے کی بجائے مزید الجھا دیا ہے، اس لیے آپ ایک دفعہ ہماری معذرت قبول فرمالیجیے، باقی ہم کوشش تو پوری کرتے ہیں۔ اس پر کہا نہیں جتنی غلطیاں کالم میں ہوں گی، اتنی ہی جھڑکیاں آپ کو سہنی پڑیں گی، اس پر کوئی سمجھوتا نہیں ہوگا!۔ اس کے علاوہ اخبار کے اداریوں اور سرخیوں میں انگریزی الفاظ کے غیر ضروری استعمال پر تقریباً ہر ہفتے متنبہ کرتے اور ہر دفعہ ان سے معذرت کرنا پڑتی تھی۔ میں آخری چند برسوں میں غلطی ہائے مضامین پر ان کی ڈانٹ کے جواب میں ان کے ساتھ ایک نفسیاتی کھیل کھیلتا، ان کی ڈانٹ سننے کے دوران ہی عرض کرتاسر! یہ ایک غلطی تو رہ گئی ہے مگرماشاء اللہ کالم بہت پسند کیا گیا ہے! اس پر ان کی طبیعت کھل اٹھتی اور غصہ کافور ہوجاتا۔ ان کے بڑے دل چسپ تبصرے ہوتے تھے۔ ملکی سیاست سے طبیعت مکدر ہوجاتی تو کہا کرتے کہ یہ اللہ کی طرف سے شاید میرے غرور کی سزا ہو، میں فخر کیا کرتا تھا کہ میں نے چرچل کو سنا ہے، جناح اور گاندھی کا دور پایاہے، ابولکلام آزاد کو دیکھا ہے، اب مجھے نواز اور زرداری کو بھگتنا پڑرہا ہے!
    .
    شمیم صاحب انتہائی سادہ طبیعت کے اور نہایت شفیق اور محبت کرنے والے درویش مزاج انسان تھے۔ جامعہ کراچی کے نزدیک ایک سادہ ساگھر اور عام سی گاڑی ان کی کل متاع تھی۔ ڈرائیور دستیاب نہ ہوتا تو بس میں بیٹھ کر چلے آتے۔ نوے برس کی عمر میں بھی ان کی صحت، یاد داشت اور جذبات قابل رشک تھے۔ ویسے تو ان کے کالم اور مضامین دلائل سے مبرہن ہوتے لیکن جب بات ناموس رسالت پر حملوں اور مغرب کی دوغلی پالیسیوں اور استعماری ہتھکنڈوں کی آتی تو ان کا قلم تلوار بن جاتااور وہ اہل مغرب کو خود ان کے قوانین کے حوالے دے دے کر وہ کچھ بھی سنا دیتے جو کوئی اور اس طرح سے نہیں سناسکتا تھا۔ پچھلے دنوں ناروے میں قرآن مجید جلانے کا واقعہ پیش آیا تو شمیم صاحب نے فون کیا اور کہا کہ میں اس وقت ہسپتال میں ہوں، پیشاب کی نلکی لگی ہوئی ہے، لکھ اور زیادہ بول نہیں سکتا لیکن آپ میرا بیان لگوادیں کہ قرآن مجید جلانے کا یہ اقدام بین الاقوامی دستور کی فلاں دفعہ کی فلاں شق کے تحت سنگین جرم ہے اور اس کو روکنے کی کوشش نہ کرنے پر ناروے کی حکومت بھی اس جرم میں شریک ہے۔ یہ شاید ان کا آخری بیان تھا جو کسی اخبار میں شائع ہوا۔ اللہ کی ذات سے امید ہے کہ یہ بیان ہی ان شاء اللہ ان کی مغفرت کا ذریعہ بنے گا۔ شمیم صاحب کی رحلت راقم کا ایک ذاتی صدمہ ہے، ایک اور انتہائی شفیق اور مہربان ہستی زندگی سے نکل گئی ہے جس کی کمی ہمیشہ محسوس ہوگی۔ قارئین سے شمیم صاحب کے لیے خصوصی دعائے مغفرت کی درخواست ہے۔

  • error: Content is protected !!