Chitral Times

Oct 17, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

دو اضلاع اور ایک ایم پی اے ……….محمد شریف شکیب

Posted on
شیئر کریں:

الیکشن کمیشن نے حالیہ مردم شماری کے نتائج کی روشنی میں قومی اور صوبائی اسمبلیوں کی نشستوں میں آبادی کے لحاظ سے کمی بیشی کے ابتدائی اعدادوشمار جاری کئے ہیں۔جس کے تحت قومی اسمبلی کی نشست کے لئے آبادی کی مطلوبہ شرح سات لاکھ 80ہزار اور صوبائی حلقے کے لئے تین لاکھ آٹھ ہزارمقرر کی گئی ہے۔ سماجی رابطوں کی ویپ سائٹ پر خیبر پختونخوا اسمبلی کی 99نشستوں میں مردم شماری کے اعدادوشمار کے مطابق نشستوں کی تقسیم کا جدول جاری کیا گیا ہے۔ جس کے مطابق آبادی کم ہونے کی وجہ سے چترال،چارسدہ، ایبٹ آباد، ہری پور اور صوابی کی ایک ایک صوبائی نشست کم کی جائے گی جبکہ انہی پانچ نشستوں میں سے تین پشاور ایک سوات اور ایک لوئر دیر کو دی جائے گی۔مردم شماری کے ان اعدادوشمار کے مطابق چترال سے قومی اسمبلی کے حلقہ میں ضلع اپردیر کے کچھ علاقے بھی شامل کئے جاسکتے ہیں جبکہ ضلع لوئر اور اپر چترال کو صوبائی اسمبلی کی صرف ایک نشست ملے گی۔ الیکشن کمیشن کے ترجمان نے ابتدائی رپورٹ کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ نئی حلقہ بندیوں کے لئے مردم شماری کی رپورٹ کو اصولی طور پر پیش نظر رکھا جارہا ہے۔ جس پر مشاورت اور بحث و مباحثے کے بعد الیکشن کمیشن کی طرف سے حلقہ بندیوں کی حتمی فہرست جاری کی جائے گی۔محکمہ شماریات کی اس رپورٹ کی بنیاد پر سوشل میڈیا میں طویل بحث چھڑ گئی ہے۔ کوئی اسے تبدیلی لانے والوں کی مہربانی قرار دے رہا ہے تو کوئی چترال کو دو انتظامی یونٹوں میں تقسیم کرنے کا مذاق اڑا رہا ہے۔ چترال سمیت ملک بھر میں مردم شماری محکمہ شماریات نے کرائی ہے۔ جو وفاقی حکومت کے ماتحت ادارہ ہے۔ خیبر پختونخوا، پنجاب، سندھ یا بلوچستان کی حکومت کا ان اعدادوشمار اور حلقہ بندیوں کے فارمولے سے کوئی تعلق نہیں۔ چترال کو صوبائی اسمبلی کی دو نشستیں دینے کا فیصلہ اس کی پسماندگی اور وسیع رقبے کی بنیاد پر کیا گیا تھا۔ کیونکہ ارندو سے لے کر بروغل تک ساڑھے چودہ ہزار مربع کلو میٹر رقبے پر پھیلی ہوئی آبادی تک کوئی ایک نمائندہ پہنچ سکتا ہے نہ ہی ایک ایم پی اے کے قلیل فنڈز سے اتنے بڑے علاقے کے مسائل میں کمی لائی جاسکتی ہے۔صوبائی حکومت نے چترال کی دورافتادگی، پسماندگی اور انتظامی مسائل کی وجہ سے حال ہی میں اسے دو انتظامی اضلاع لوئر اور اپر چترال میں تقسیم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اگر محکمہ شماریات کے اعدادوشمار اور الیکشن کمیشن کے فارمولے کے تحت ضلع کی ایک صوبائی نشست ختم کی جاتی ہے تو اسے انتظامی لحاظ سے دو اضلاع میں تقسیم کرنے کا عوام کو کوئی خاطر خواہ فائدہ نہیں پہنچے گا۔یہاں مردم شماری کے نتائج پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔انیس سال بعد ہونے والی مردم شماری میں بھی ضلع کی آبادی کو صرف چار لاکھ 47ہزار دکھایاگیا ہے۔ جو لوگ ملازمت، تعلیم یا محنت مزدوری کے لئے ضلع یا ملک سے عارضی طور پر باہر گئے ہیں۔ خانہ و مردم شماری میں ان کا شمار ہی نہیں کیا گیا۔اگر حقیقت پسندانہ مردم شماری کرائی جائے تو چترال کی آبادی چھ سے سات لاکھ کے درمیان ہے۔آبادی کی بنیاد پر ہی وسائل کی تقسیم ہوتی ہے۔ چترال، کوہستان، کالام، دیر، بونیر، شانگلہ، بٹگرام جیسے دور افتادہ علاقوں کو پشاور، پنڈی، فیصل آباد، لاہور، کراچی اور حیدر آباد کے ساتھ ترازو میں رکھنا زیادتی ہے۔ اور پھریہ کوئی خدائی حکم تو نہیں کہ خیبر پختونخوا اسمبلی کی نشستوں کی تعداد 99ہی رہے۔ عوامی مفاد اور انتظامی سہولت کے لئے ان کی تعداد بڑھا کر 120بھی تو کی جاسکتی ہے اور قومی اسمبلی کے ارکان کی تعداد بھی آبادی کے لحاظ سے بڑھاناپارلیمنٹ کا اپنا کام ہے۔ چترالی قوم خیبر پختونخوا حکومت سے بجاطور پر یہ توقع رکھتی ہے کہ انتظامی طور پر چترال کو دو اضلاع میں تقسیم کرنے کے بعد اگر صوبائی نشستوں کی تعداد بڑھا نا ممکن نہیں تو تعداد کم کرنے کے خلاف اپنی بھرپور آواز اٹھائے گی اورہر ضلع میں کم از کم ایک ایم پی اے کی نشست رکھے گی۔اگر تورغر کی ایک لاکھ ستر ہزار کی آبادی کے لئے ایک نشست مختص کی جاسکتی ہے۔ توساڑھے آٹھ ہزار مربع کلو میٹر رقبے پر پھیلے ہوئے ضلع اپر چترال کی ڈھائی لاکھ کی آبادی کو ایک ایم پی اے کی نشست کیوں نہیں مل سکتی۔ چترال سے قومی اور صوبائی اسمبلی کے منتخب ارکان، سیاسی جماعتوں ، دانشوروں ، ادیبوں ، اساتذہ اور اہل قلم کو بھی اس حوالے سے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔


شیئر کریں: