Chitral Times

Mar 3, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

تربیت اولاد کیا ہے؟چندغلط فہمیوں کاازالہ……. تحریر: ڈاکٹر محمدیونس خالد

Posted on
شیئر کریں:

عام طور پر تعلیم وتربیت کا لفظ ایک ساتھ کتابوں اور لیکچرز وغیرہ استعمال ہوتا ہے جس کی وجہ سے دونوں کو متراف خیال کیاجاتا ہے۔اس کے بارے میں ایک خیال یہ ہے کہ تعلیم اور تربیت ایک ہی چیز کے دونام ہیں۔ بعض لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ یہ دونوں اس طرح لازم وملزوم ہیں کہ تعلیم حاصل کرنے سے تربیت خود بخود حاصل ہوجاتی ہےتربیت کو الگ سے حاصل کرنے کی ضرورت نہیں۔ بعض لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ تعلیم اور تربیت اگرچہ دو الگ الگ چیزیں ہیں تاہم تعلیم دینے والے ادارے ہی بچوں کی تربیت کے بھی ذمہ دار ہیں چونکہ وہ بچوں کو تعلیم دے رہے ہیں لہذا ساتھ ساتھ تربیت بھی ہورہی ہے اس حوالے سے والدین کو الگ سے کچھ کرنے کی ضرورت نہیں۔ جبکہ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ تربیت زیادہ چھوٹی عمر میں بچوں کو دینے کی چنداں ضرورت نہیں بچے جب بڑے ہوجائیں تو شعورآنے پر خودبخود ٹھیک ہوجائیں گے بچپن میں تعلیم دینا ہی کافی ہے۔حقیقت یہ ہے کہ یہ سارے مفروضات درست نہیں ،تعلیم اور تربیت دوالگ الگ چیزیں ہیں دونوں کو باقاعدہ الگ سے سیکھنےکی ضرورت ہے تاہم یہ دونوں ایک دوسرے پر منحصر ضرور ہیں اور ایک دوسرے کو سپورٹ بھی کرتی ہیں۔اور دوسری بات یہ کہ تربیت کی شروعات بچپن سے ہی بلکہ بچے کی پیدائش سے بھی پہلے شروع ہوتی ہے جبکہ تعلیم عمر کے مناسب وقت پر شروع کی جاتی ہے۔اب یہ سوال کہ پیدائش سے پہلے تربیت شروع کرنے کا کیا مطلب ہے اس کا جواب کسی اور وقت بتائیں گے انشااللہ ۔
.
تعلیم شعور کی سطح کی چیز ہے اس سے شعور کی سطح کو بہتر بنایاجاسکتا ہےبچے کو معلومات دینے کے ساتھ ان معلومات کا تجزیہ کروایاجاسکتا ہے پھر ان سے نتائج اخذکرنے کا سلیقہ سکھا یا جاسکتا ہے۔ ابتدائی معلومات سے تفصیلات تک پہنچایاجاسکتا ہے ذہنی آدرش کو بہتر بنایاجاسکتا ہے اور ذہن میں علم و معلومات کی فصل کاشت کی جاسکتی ہے۔غرض یہ ساری چیزیں ادراک، فہم وشعور اور سمجھ سے تعلق رکھتی ہیں ۔ تعلیم سے چیزیں سمجھ میں آتی ہیں ان کی حقیقت تک رسائی حاصل ہوتی ہے۔ تاہم اس کے مقابلے میں تربیت کسی اور چیزکانام ہے تربیت کا تعلق انسانی ذہن کے تحت الشعور ، مزاج، عادت اور رویوں سے ہے، جس چیز کی تربیت حاصل ہوتی ہے وہ چیزانسان کے مزاج کا حصہ بن جاتی ہے وہ اس کے تحت الشعور میں جگہ پالیتی ہے اس کی عادت بن کررویوں کی شکل میں ڈھل جاتی ہے۔ دوسرے الفاظ میں ہم یوں کہہ سکتے ہیں کہ تعلیم کے ذریعے ہم کسی چیزکو اچھا یا بر ا سمجھ سکتے ہیں اس کو اچھا یا برا جا ن سکتے ہیں۔ یعنی اس کی اچھائی یا برائی ہماری سمجھ میں آتی ہے۔لیکن تربیت یہ ہے کہ اچھی چیز ہمیں اچھی لگنے لگتی ہے اور بری چیز ہمیں بری لگنے لگتی ہے۔ یعنی اس چیز کی اچھا ئی یا برائی کا احساس تحت الشعورمیں داخل ہوکر ہمارے مزاج کا حصہ بن جاتاہے یوں وہ چیزہمیں اچھی لگنے لگتی ہے یا بری لگنے لگتی ہے، جبکہ یہ کیفیت تعلیم سے حاصل نہیں ہوسکتی۔یہی وجہ ہے کہ آج تعلیم عام ہے اچھے اور برے کی تمیز سب کو ہے اچھی چیز اور بری چیز کا علم سب کو ہے نماز پڑھنا فرض ہے یہ بات سب کو معلوم ہے اور رشوت لینا حرام ہے یہ بھی سب کو معلوم ہے لیکن یہ سب ہمارے علم کی حد تک ہے تربیت نہ ہونے کی وجہ سے ہمارے مزاج کا حصہ نہیں بن سکا۔ہم نماز کی پابندی نہیں پاتے اور معلوم ہونے کے باوجود حرام سے بچنے کا اہتمام نہیں کرپاتے۔اچھی چیز کا علم رکھتے ہوئے ہمیں وہ اچھی نہیں لگتی اور بری چیز کے بارے میں معلوم ہوتے ہوئے وہ ہمیں بری نہیں لگتی۔ اس وقت اچھا مسلمان اور اچھے پاکستانی بننے کے لئے ہمیں اس طرح کی تربیت کی اشد ضرورت ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ آپ دنیا کے اعلی معلم ہونے کے ساتھ اعلی مربی بھی تھے، آپ علیہ الصلوۃ والسلام نے صحابہ کرام کی تربیت اس انداز سے کی تھی کہ ایمان و تقوی ، ایثار وعدل اورعالمگیر اعلی اخلاقیات ان کے تحت الشعور میں جگہ پاکر ان کے مزاج کا مستقل حصہ بن گئی تھیں جس سے ان کے رویوں میں وہ نکھار آگیا تھا کہ آج کے معاشرے میں اس کا تصور کرنا بھی مشکل ہے۔
.
تاریخی طور پر اسلامی معاشرے میں تعلیم وتربیت ہمیشہ ایک دوسرے کے ساتھ لازم وملزوم اسلئے رہی ہیں کہ دونوں کا باقاعدہ اہتمام کیا جاتا تھا۔اور دونوں ایک دوسرے کی تکمیل کا ذریعہ بھی رہیں۔اسلامی تعلیمات کے تناظر میں اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ ان دونوں کی ذمہ داری والدین کے اوپر ڈالی گئی ہے۔دورحاضر قریب میں جب مغربی نظام تعلیم ہمارے یہاں رائج ہوا تو دوبنیادی تبدیلیاں عمل میں آئیں ، پہلی تبدیلی یہ ہوئی کہ ایجوکیشن کے نام سے تعلیم کو تربیت سے الگ کیا گیا اور تربیت کی ضرورت کو سرے سے نظرانداز کرتے ہوئے اسے ایجوکیشن سسٹم سے بالکل جداکیا گیا ۔ اس وقت بھی ہمارے قومی تعلیمی نظام کے ڈھانچے میں تربیت کے لئے کوئی باقاعدہ جگہ متعین نہیں انفرادی سطح پر کوئی فرد یا کوئی ادارہ اس کے لئے فکرمند ہو وہ الگ بات ہے۔ بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب رہے گا کہ موجودہ نظام تعلیم کا ڈھانچہ تربیت کے لئے ڈیزائن ہی نہیں کیا گیا اور نہ اس کے لئے موزوں ہے۔اور دوسری تبدیلی یا غلطی یہ ہوئی کہ تعلیم کے ساتھ تربیت کی ذمہ داری بھی والدین نے موجود ایجوکیشن سسٹم پرچھوڑدیا اور خودکو اس ذمہ داری سے سبکدوش قراردیا جبکہ موجودہ سسٹم میں نسل کی اخلاقی تربیت کی گنجائش پہلے سے رکھی ہی نہیں گئی تھی۔ ان دونوں تبدیلیوں کا نتیجہ یہ ہوا کہ پڑھے لکھے جاہلوں کی فوج وجود میں آنے لگی بقول ایک بزرگ کوالیفائیڈ جاہل وجود میں آنے لگے ۔اس وقت پڑھے لکھے لوگوں کی معاشرے میں کمی نہیں تاہم اس کے باوجود معاشرے سے اخلاقی اقدار کا جنازہ نکلتا جارہا ہے۔
.
اصولا اپنے بچوں کی تعلیم وتربیت کی پوری ذمہ داری خودوالدین پر عائد ہوتی ہے ۔ تاہم اس مصروف دور میں اگرچہ والدین اپنے بچوں کی اچھی تعلیم کا انتظام اسکول اور مدرسہ سے کراواسکتے ہیں لیکن تربیت حقیقی طور پر والدین ہی کرسکتے ہیں والدین کے تعاون کے بغیر صرف اسکول ومدرسہ یا ان کے اساتذہ بچوں کی پوری تربیت کی ذمہ داری نہیں اٹھا سکتے جبکہ وہ جس سسٹم میں کام کررہے ہیں اس میں تربیت کی کوئی گنجائش بھی نہیں رکھی گئی۔اس سلسلے میں والدین کو اپنی ذمہ داریوں کا پوری طرح ادراک کرنا ہوگا اپنے بچوں کی تربیت کے لئے خود کو تیارکرنا ہوگا، خصوصا جبکہ اس دور میں ٹیکنالوجی کی عام مداخلت زندگی میں بڑھنے کے ساتھ شخصی آزادی کا مغربی رجحان بھی ہمارے معاشرے میں بڑھتا ہی جارہا ہے ایسے وقت میں اپنی اولاد کی اچھی تربیت والدین کے لئے ایک چیلنج سے کم نہیں۔ یہ چیلنج والدین کو قبو ل کرنا ہوگا اپنی ذمہ داری کا احساس کرنا ہوگا اور اس سے نمٹنے کے لئے اپنے آپ کو تیاربھی کرنا ہوگا ۔ دعا ہے کہ اللہ تعالی اپنے فرائض منصبی کو سمجھ کر احسن طریقے سے اسے ادا کرنے کی ہم سب کو توفیق عطافرمائے۔ آمین


شیئر کریں: