Chitral Times

Nov 15, 2019

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • سالانہ ترقیاتی پروگرام کے تحت جاری شدہ فنڈز کے استعمال کوبروقت یقینی بنائیں..وزیراعلیٰ

    November 8, 2019 at 11:15 pm

    پشاور(چترال ٹائمزرپورٹ)وزیراعلیٰ خیبرپختونخو امحمود خان نے سالانہ ترقیاتی پروگرام 2019-20کے تحت جاری شدہ فنڈز کے استعمال کوبروقت یقینی اور ترقیاتی سکیموں کی تکمیل میں غیر ضروری تاخیر سے اجتناب کرنے کی ہدایت کی ہے ۔ انہوں نے واضح کیا ہے کہ جن محکموں کی کارکردگی تسلی بخش نہیں ہے اور جاری ترقیاتی فنڈز کو بروقت بروئے کار نہیں لا سکتے تو وہ وقت پر متعلقہ محکمہ کو آگاہ کرے تاکہ وہی ترقیاتی فنڈ ز بروئے کار لانے کے لئے دوسرے محکموں کومنتقل کئے جاسکے۔ وزیراعلیٰ نے کہا ہے کہ ترقیاتی سکیموں کی تکمیل اور فنڈز کے بروقت اور شفاف استعمال میں کسی قسم کے تاخیری حربے برداشت نہیں کئے جائیں گے۔ انہوں نے تکمیل کے قریب سکیموں کو پہلی فرصت میں مکمل کرنے جبکہ ترقیاتی فنڈز کے استعمال کو مجوزہ ٹائم لائن کے اندر اندر بروئے کار لانے کی ہدایت کی ہے ۔وزیراعلیٰ نے کہا ہے کہ تمام بڑے اور اہم محکموں کو سو فیصد ترقیاتی فنڈز جاری کئے جائیں گے ، جبکہ ان محکموں کو ترجیحی سکیموں پر کام تیز کرنے کے لئے ایکسر سائز کرنے کی ہدایت کی ہے تاکہ ان سکیموں کو فنڈز کی فراہمی جلد یقینی بنائی جاسکے۔ باقی تمام محکموں کو ضرورت کے مطابق فنڈز جاری کئے جائیں گے ۔ انہوں نے بیرونی امداد سے مختص فنڈ ز کو زیادہ سے زیادہ بروئے کار لانے کی ہدایت کی ہے۔ وزیراعلیٰ نے قبائلی اضلاع کے لئے ایس ای نیز کی منظوری میں تاخیر پر برہمی کا اظہار کیا ہے جبکہ واضح کیا ہے کہ تمام محکمے پی سی ون اور دیگر زیر التواءاُمور کوجلد از جلد مکمل کرے۔ انہوں نے ترقیاتی فنڈز کے بروقت استعمال ، ترقیاتی سکیموں پر پیش رفت کے حوالے سے سالانہ ترقیاتی پروگرام پر ایک ماہ بعد دوبارہ جائزہ اجلاس بلانے کی ہدایت کی ہے ۔ وہ سول سیکرٹریٹ کے کیبنٹ روم میں صوبائی بشمول قبائلی اضلاع کے سالانہ ترقیاتی پروگرام کے حوالے سے جائزہ اجلاس کی صدارت کر رہے تھے ۔ اجلاس میں وزیر خزانہ تیمور سلیم جھگڑا ، وزیراعلیٰ کے پرنسپل سیکرٹری شہاب علی شاہ ، ایس ایم بی آر ، رجسٹرار پشاور ہائی کورٹ ، تمام انتظامی سیکرٹریز ، سپیشل سیکرٹری فنانس قبائلی اضلاع ، ڈی جی ایم اینڈ ای، پی اینڈ ڈی ڈیپارٹمنٹ ، سی ای ورکس اینڈ سروسز برائے قبائلی اضلاع و دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی ۔اجلاس کو صوبے بشمول قبائلی اضلاع کے سالانہ ترقیاتی پروگرام 2019-20 ، تمام محکموں کے ترقیاتی سکیموں پر پیش رفت، جاری شدہ فنڈز اوران کے استعمال کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی ۔اجلاس کو پورے صوبے بشمول قبائلی اضلاع میں شعبہ جاتی فنانشل پراگرس کے حوالے سے بھی بتایا گیا جبکہ سیکٹروائز پراگرس پر بھی تفصیلاً آگاہ کیا گیا۔ اجلاس کو تمام محکموں کو ترقیاتی سکیموں کیلئے مختص فنڈز اور اُس پر اب تک کی پیشرفت کے حوالے سے بھی بتایا گیا ۔ بیرونی امداد ی بجٹ سے محکموں کو مختص فنڈز اور ان کے استعمال پر بھی بتایا گیا ۔اجلاس کو مختلف سمریز کی منظوری کے حوالے سے بھی تفصیلاً بتایا گیا ۔ اسی طرح قبائلی اضلاع کی سالانہ ترقیاتی پروگرام میں فنانشل پراگرس کے حوالے سے بھی بتایا گیا ۔اجلاس کو قبائلی اضلا ع کیلئے ترقیاتی سکیموں کی سمریز کی منظوری کی صورتحال پر بھی آگاہ کیا گیا ۔اجلاس کو قبائلی اضلاع میں تیز تر عمل درآمد منصوبوں اور ان کیلئے مختص فنڈز پر بھی آگاہی دی گئی ،تیز تر عمل درآمد والے منصوبوں میں کل 20 محکمے شامل ہیں جن کیلئے کل 58,999.09 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ قبائلی اضلاع کیلئے جلد اثر انداز ہونے والے منصوبوں پر بھی اجلا س کو بتایا گیا ان میں کل 20 منصوبے شامل ہیں جن میں سے 19 کی منظوری ہو چکی ہے جبکہ 17 منصوبوں پر کام جاری ہے۔اس موقع پر وزیراعلیٰ نے قبائلی اضلاع میں ترقیاتی سکیموں کے لئے درکار اراضی کی فراہمی اور جگہ کی نشاندہی کے لئے قبائلی اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز ، ایس ایم بی آر اور لوکل گورنمنٹ حکام کو ہوم ورک کرنے کی ہدایت کی ہے ۔ قبائلی اضلاع کی ترقی میںوزیراعظم عمران خان خصوصی دلچسپی لے رہا ہے ۔ترقیاتی سکیموں کی بروقت تکمیل انتہائی اہم ہے جن محکموں کو سکیموں کی تکمیل میں مسئلے ہے وہ متعلقہ محکموں کے ساتھ مل بیٹھ کر ان مسائل کا فوری خاتمہ یقینی بنائے تاکہ قبائلی اضلاع کی ترقی میں کوئی رکاوٹ پیش نہ آئے ۔وزیراعلیٰ نے قبائلی اضلاع کے میگا پراجیکٹس ترجیحی بنیادوں پر مکمل کرنے کی ہدایت کی ہے ۔ انہوں نے کہا ہے کہ جو اعلانات وزیراعظم عمران خان اور صوبائی حکومت نے قبائلی اضلاع کے لئے کئے ہیں ان کو عملی جامہ پہنانا ہے ۔ انہوں نے محکمہ صحت اور محکمہ تعلیم کو قبائلی اضلاع میں یونیورسٹیوں اور میڈیکل کالجز کے قیام کے حوالے سے پیش رفت پر جلد تفصیلی بریفنگ دینے کی بھی ہدایت کی ہے اور عندیا دیا ہے کہ اس حوالے سے جلد اجلاس منعقد کیا جائے گا۔ تمام قبائلی اضلاع کو صوبے سے منسلک کرنے کے لئے روڈ انفراسٹرکچر کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کیا جائیگا۔ وزیراعلیٰ نے قبائلی اضلاع میں جلد اثر انداز ہونے والے منصوبوں کو مزید تیز کرنے جبکہ ایک ہفتے بعد اس حوالے سے جامع رپورٹ پیش کرنے کی بھی ہدایت کی ہے ۔ وزیراعلیٰ نے ہدایت کی ہے کہ تمام محکمے ترقیاتی سکیموں کے لئے مختص وسائل کا شفاف استعمال یقینی بناتے ہوئے اپنے ترقیاتی اہداف بر وقت مکمل کریں ۔ وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ پورے صوبے بشمول قبائلی اضلاع کی دیر پا ترقی کیلئے ترقیاتی سکیموں کو مجوزہ ٹائم لائن کے اندر اندر مکمل کرنا صوبائی حکومت کی ترجیحات ہیں ۔ اُنہوںنے مزید کہاکہ قبائلی اضلاع کے عوام کی ترقی اور خوشحالی جلد ممکن بنائی جائے گی جس کیلئے جلد اثر انداز ہونے والے منصوبوں کی فوری تکمیل انتہائی اہمیت کی حامل ہے ۔
    <><><><><><><>
    وزیراعلیٰ‌نے پشاورمیں پولیس سٹی پٹرول رائیڈرز کا افتتاح کردیا
    پشاور(چترال ٹائمزرپورٹ ) وزیراعلیٰ خیبرپختونخو امحمود خان نے صوبائی درالخلافہ میں امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے کیلئے پولیس لائنز پشاور میں پولیس سٹی پٹرول رائیڈرز کا باقاعدہ افتتاح کیا جس میں وزیراعلیٰ نے سٹی پٹرولنگ کیلئے 42 موٹر سائیکلز محکمہ پولیس کے حوالے کر دیں ۔ اس موقع پر وزیراعلیٰ نے کہاکہ سٹی پٹرول رائیڈرز پشاور شہرکی حفاظت کیلئے انتہائی اہم اور سنجیدہ اقدام ہے۔ یہ اقدام پشاور شہر کو محفوظ ترین شہر بنانے میں سنگ میل ثابت ہو گا۔ سٹی پٹرول رائیڈرز کا مقصد خصوصی طور پر سٹریٹ کرائم کاممکنہ حد تک خاتمہ کرنا ہے جس کیلئے رائیڈرز ہر قسم کے سٹریٹ کرائمز پر کڑی نظر رکھیں گے اور پہلی فرصت میں ہی فوری طور پر ریسپانڈ کریں گے جن میں سنیپ چیکنگ ، غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام اور ابتدائی طبی امداد فراہم کرنا شامل ہے ۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ محکمہ پولیس کے اس اقدام سے کمیونٹی پولیسنگ کو فروغ ملے گا جبکہ عوام اور پولیس میں روابط بھی مزید بڑھیں گے ۔ سٹی پٹرول رائیڈرز پوری پلاننگ کے ساتھ شہر کے مختلف پٹرولنگ علاقوں میں اپنی ڈیوٹی سرانجام دیں گے ۔ تقریب میں آئی جی پولیس ، سی سی پی او پولیس، پرنسپل سیکرٹری برائے وزیراعلیٰ شہاب علی شاہ اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی ۔ واضح رہے کہ پٹرول رائیڈرز کیلئے محکمہ پولیس کے 80 سے زیادہ کوالیفائیڈ ایلیٹ فورس اہلکار منتخب کئے گئے ہیں جو صبح 7 بجے سے رات 12 بجے تک پورے شہر کے مختلف علاقوں میں ڈیوٹی سرانجام دیں گے ۔ پٹرول رائیڈرز کیلئے موٹرسائیکلز کی خریداری پر 35 لاکھ روپے جبکہ یونیفارم اور دیگر آلات کی خریداری پر 20 لاکھ روپے تک لاگت آئی ہے جو کہ پولیس ڈیپارٹمنٹ کے بجٹ سے خریدی گئی ہیں۔ پٹرول رائیڈرز میں پہلی دفعہ دو خواتین پولیس اہلکار بھی شامل کی گئی ہیں جو خصوصی طور پر خواتین بازار اور فیملی پارکس میں ڈیوٹی سرانجام دیں گی ۔

  • error: Content is protected !!