Chitral Times

Dec 1, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

ترش و شیرین…….. چترال میں اجتماعی قربانی، عبادت یا کاروبار؟…….، نثار احمد

Posted on
شیئر کریں:

یہ اسلامی قمری سال کے بارہویں مہینے ذوالحجہ کے ایک گرم دن کے سہ پہر کا وقت تھا۔ قربانی کے لیے گنجائش کے دائرے میں مناسب جانور ڈھونڈتے ڈھونڈتے تھک ہار کر ہم چنار کے سائے میں ڈھلان پر نیم دراز ہو گئے اور اسی حالت میں چترال پولو گراؤنڈ (جُنالی) کے وسیع دامن میں عید قرباں کی مناسبت سے لگی ہوئی مویشی منڈی میں جاری بھاؤ تاؤ برائے خرید و فروخت کے دلچسپ مناظر سے لطف اندوز ہونے لگے۔ پولو گراؤنڈ میں قائم اس چند روزہ “میلہ مویشیاں” میں نہ صرف مختلف قد و قامت و جسامت کے چھوٹے بڑے جانور گاہکوں کے منتظر تھے بلکہ خود گاہک بھی بیوپاریوں کی کند چھری تلے ذبح ہونے کے لیے جوق در جوق جُنالی کی طرف چلے آ رہے تھے۔ جُنالی میں جہاں ایک طرف خوبصورت، فربہ و پُرگوشت جانور قربانی کا فریضہ سرانجام دینے کے جوش و ولولے سے سرشار اولاد ابراہیم کی توجہ اپنی طرف کھینچنے کے لیے موجود تھے، وہاں دوسری طرف ایسے مریل قسم کے نحیف و لاغر جانور بھی رینگتے اُونگھتے چر رہے تھے کہ جن کے لئے خود پل صراط عبور کرنا معرکہ محسوس ہو رہا تھا، چہ جائے کہ اپنے قربان کنندہ کو بھی پشت پہ لاد کر اسے پار کر سکیں.

ہم چنار کے ٹھنڈے سائے میں تکان اتار کر تازہ دم ہو کر نئے عزم کے ساتھ میدان بھاؤ تاؤ میں گھسنے ہی والے تھے کہ سیف اللہ لال پر نظر پڑی. یہ سوچ کر انہیں بھی ساتھ لیا کہ ان کی موجودگی میں کوئی تیز طرّار بیوپار اپنی چکنی چپڑی باتوں کا طلسم پھونک کر دو سال سے کم عمر کا جانور ڈھائی تین سالہ بنا کر چکما نہیں دے سکے گا۔ جانور تلاش کرنے کے دوران ایک دینی ادارے کے نمائندے کا چُن چُن کر چھوٹے، کمزور اور ڈھانچہ ٹائپ جانوروں کو خریدنے کے عمل نے ہمیں اپنی طرف متوجہ کئے رکھا. گلے میں سیاہ بیگ لٹکائے اِن صاحب کی نظر جونہی کسی کمزور جانور پہ پڑتی، فوراً اس کے مالک سے بھاؤ تاؤ کرنے لگتے اور ایک متفقہ قیمت پر معاملہ ڈَن کرنے کے بعد یہ صاحب کالے بیگ میں ہاتھ ڈال کر نوٹ نکالتے، تسلی سے گنتی کرتے اور بیوپاری کو نوٹ پکڑانے کے بعد رسی جانور کے گلے میں ڈالتے اور چلتے بنتے. اِدھر ہماری گفتگو کا رُخ اُس طرف پھر جاتا اور سیف اللہ لال اُنگلی لہرا لہرا کر ہمیں قائل کرنے کی کوشش کرتے کہ ان مریل قسم کے بچھڑوں کی عمر بمشکل اگر ڈیڑھ سال ہے بھی، تو دو سال کسی صورت بھی نہیں ہے۔

بہرحال دوسروں کے پیسوں سے ایسے لاغر جانور خرید کر قربانی کرنے میں اس کالے بیگ والے کا قصور بس سہولت کاری کی حد تک تھا. یہ صاحب ایک دینی ادارے کے ملازم ہونے کے ناتے ادارے کو ٹرسٹ کی طرف سے عنایت کردہ قربانی کے لیے جانور خریدنے آئے تھے. جس شخص کو ٹرسٹ والوں کی طرف سے ٹاسک ہی کم سے کم پیسوں میں قربانی کا جانور خریدنے کا ملا ہو وہ مناسب جانور لے بھی کیسے سکتا ہے؟؟

دراصل ہوتا یہ ہے کہ جیسے ہی عید الاضحٰی نزدیک آتی ہے، لوگوں کو چترال میں اجتماعی قربانی کی طرف راغب کرنے کے لیے رفاہی کاموں کے نام پر سودا بیچنے والے مختلف ٹرسٹوں کی طرف سے مہم کا آغاز کیا جاتا ہے. کراچی کے مختلف علاقوں میں بینرز لگائے جاتے ہیں. گائے فی حصہ پینتیس سو تا چار ہزار روپے مقرر کرکے پوری گائے کے لیے چھبیس تا تیس ہزار روپے کی رقم لی جاتی ہے. یوں عید آتے آتے متعلقہ ٹرسٹ کے پاس قربانی کی مد میں بہت ساری رقم جمع ہو جاتی ہے. یہ رقم اُن لوگوں کی ہوتی ہے جو اپنی گنجائش کے حساب سے سستی قربانی کرکے حکم خداوندی کی بجا آوری سے سبکدوش ہونے کے آرزو مند ہوتے ہیں۔ قربانی سستی ہونے کے علاوہ دوسرا فائدہ یہ ان کے پیش نظر یہ ہوتا ہے کہ قربانی کا گوشت غریب لوگوں تک پہنچے۔ دراصل سستی قربانیوں کا بیوپار کرنے والے ان ٹرسٹوں کی طرف سے لوگوں کو یہ کہہ کر ترغیب دی جاتی ہے کہ چترال میں لوگ غربت کے باعث عید قرباں میں بھی گوشت کے ذائقے سے نا آشنا رہتے ہیں، آپ کی قربانی کا گوشت لاچار و نادار لوگوں کے منہ میں جائے گا۔۔۔ جس سے متاثر ہو کر ایک سے زیادہ قربانیاں کرنے والے متمول حضرات بھی ثواب کی نیت سے ان ٹرسٹوں پہ اندھا اعتماد کرتے ہیں۔

اگلہ مرحلہ قربانیوں کی تقسیم کا آتا ہے، چنانچہ ٹرسٹ کے ذمے دار افراد اپنی جان پہچان والوں اور خاص مصاحبین میں قربانیاں بانٹ دیتے ہیں۔ مثلاً ٹرسٹ کے پاس اگر ایک گائے کی قربانی کے لئے تیس سے پینتیس ہزار روپے جمع ہوئے ہیں تو قربانی لینے والے فرد کو ٹرسٹ کی طرف سے بائیس تا پچیس ہزار روپے بھیج دیئے جاتے ہیں۔ اب وہ اس بات کا پابند بنتا ہے کہ اسی قیمت میں ایک عدد “خوبصورت” جانور خریدے، ذبح کرے اور اُس کا گوشت بیشتر عزیز و اقارب اور کچھ غرباء و مساکین میں تقسیم کر دے۔

اس عمل میں بسا اوقات قربانی کی ذمے داری لینے والے مقامی فرد کی ناسمجھی سے لوگوں کی قربانی خراب ہو جاتی ہے. مثلاً ماضی میں ایسا بھی ہوا ہے کہ ٹرسٹ کی طرف سے قربانی کے لیے ایک شخص کو بائیس ہزار روپے ملے لیکن جانور چوبیس ہزار کا پڑ رہا ہے تو ایسے میں یہ فرد اپنی جیب سے ہزار دو ہزار ملا لیتا ہے. حالانکہ قربانی کے جانور میں شرکاء کے علاوہ کسی اور کے پیسے لگانے سے قربانی ضائع ہو جاتی ہے۔

کبھی کبھار ایسا بھی ہوتا ہے کہ قربانی کی ذمے داری لینے والا مقامی شخص جانور کی عمر کے معاملے میں حساسیت کا مظاہرہ نہیں کرتا. چونکہ اسے مخصوص گنجائش والی رقم کے عوض جانور لینا ہوتا ہے، اس لئے اس کا مطمح نظر بھی بس کسی طرح جانور خرید کر اُسے کاٹنا اور اس کا گوشت انجوائے کرنا ہوتا ہے۔ جانور کی عمر کے معاملے میں اس کی یہ غیر سنجیدگی قربانی پر پانی پھیر دیتی ہے ۔ مجھے یاد ہے پانچ چھ سال پہلے میرے ایک جاننے والے نے اپنے نو ماہ کا بکرا عید کی رات کو قربانی کے لیے ایک صاحب کو فروخت کر دیا. عید کے دوسرے دن جب میں نے اُس سے پوچھا کہ آپ نے ایسا کیوں کیا تو اُس کا جواب تھا: “بکرا سامنے موجود تھا، خریدنے والے نے دیکھنے کے بعد ہی خریدا تو اس میں میرا کیا قصور؟ مجھے پیسوں کی ضرورت تھی، میں نے فروخت کرنے کے لئے پیش کر دیا، اس نے دیکھتے بھالتے خرید لیا۔۔۔” حالانکہ قربانی کے بکرے کی عمر کا کم از کم ایک سال ہونا ضروری ہے، البتہ بھیڑ کا حکم الگ ہے۔

اسی طرح گزشتہ دنوں میرا ایک دوست اپنے ایک جاننے والے کے ہاں بچھڑا خریدنے گیا تو اُس نے یہ کہہ کر معذرت کی کہ عید الاضحٰی قریب آ رہی ہے. قربانی کے لیے مجھے اس کے زیادہ پیسے ملیں گے. حالانکہ اس بچھڑے کی عمر ابھی قربانی کی ہوئی ہی نہیں تھی.

“سستی” قربانیوں کے حالات و واقعات کی اس حکایت کا مقصد اس بات کی طرف توجہ دلانا ہے کہ گوشت کے لالچ میں ان ٹرسٹیوں سے قربانی کے پیسے لیتے وقت آنکھیں بند کرکے “جو بھی ملے” قبول نہیں کرنا چاہیے. قربانی کے لیے نارمل دو سالہ جانور جتنی رقم کے عوض مل رہا ہے، وہ پوری رقم لے کر ہی قربانی کی ذمے داری قبول کرنی چاہئے۔ اگر ذبح قصاب سے کروانا ہے تو اصولی طور پر یہ خرچہ بھی اپنی جیب سے ادا کرنے کی بجائے ٹرسٹ والوں سے لینا چاہیے. ٹرسٹ والے قربانی کی مد میں حصہ داروں سے اٹھائیس ہزار روپے لے کر آپ کو تئیس ہزار پکڑا کر پانچ ہزار خود کھرے کر لیتے ہیں تو کم پیسے قبول کرکے لوگوں کی عبادتوں کو منفعت بخش کاروبار بنانے میں آپ بھی حصہ ڈال رہے ہیں۔ فی گائے ہزار، پندرہ سو روپے انتظامی اخراجات کے لئے کافی ہیں، فی قربانی چار پانچ ہزار روپے بچانے کا کوئی جواز نہیں ہے، یہ کاروبار ہے اور ایسا قبیح کاروبار ہے، جس سے لوگوں کی واجب عبادت ہی ذبح ہو جاتی ہے۔ یقینا یہ لوگ اللہ کے مجرم ہیں، اگر توبہ تائب نہ ہوئے تو اللہ کی پکڑ میں یہ ضرور آئیں گے، مگر ہمیں بھی جانتے بوجھتے اس جرم میں شریک نہیں ہونا چاہئے، ورنہ ہم بھی پکڑ میں آ سکتے ہیں۔

اسی طرح عید کے موقع پر جانور فروخت کرنے والے بیوپاریوں کو بھی تھوڑا خیال رکھنا چاہیے. پیسہ دو پیسے کے فائدے کے لیے دو سال سے کم عمر کا بچھڑا دو سالہ باور کراکر فروخت کرنا کہاں کی مسلمانی ہے؟؟ یہ نہ صرف دھوکے سے مال فروخت کرنے کا گناہ ہے، بلکہ دھوکا دہی کے ساتھ ساتھ یہ لوگوں کی قربانیاں ضائع کرنے کا موجب بھی ہے۔ اللہ تعالی ہم سب کو دین اور دنیا کا بہتر شعور عطاء فرمائے اور ایک دوسرے کو شیشے میں اتار کر اپنا الو سیدھا کرنے کی بری عادت سے چھٹکارا دے، آمین۔


شیئر کریں: