Chitral Times

Nov 19, 2018

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • 2018کے انتخابات کی انہونیاں………… محمد شریف شکیب

    July 29, 2018 at 8:29 pm

    2018کے انتخابات میں بہت سی انہونیاں ہوئی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انتخابات کے نتائج بعض حلقوں کو آسانی سے ہضم نہیں ہوپارہے۔ ملک بھر میں بڑے بڑے سیاسی برج الٹ دیئے گئے۔ سونامی تو کسی سے پوچھ کر نہیں آتی۔ الیکشن کمیشن کے مطابق قومی اسمبلی کے انیس حلقوں میں خواتین نے مردوں سے زیادہ تعداد میں ووٹ پول کئے۔جس کی مثال پاکستان کی اکہتر سالہ سیاسی تاریخ میں نہیں ملتی۔پورے ملک میں خواتین کی ووٹنگ کی سب سے زیادہ شرح تھرپارکر میں رہی جہاں 72اعشاریہ83فیصد خواتین نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔ خیبر پختونخوا میں یہ اعزاز صرف این اے ون چترال کو حاصل ہوا۔ جہاں 61اعشاریہ57فیصد خواتین نے اپنا ووٹ پول کیا۔جبکہ اس حلقے میں مردوں کی ووٹنگ کا ٹرن آوٹ 60اعشاریہ 96فیصد رہا۔ جبکہ قبائلی ضلع کرم کی 43اعشاریہ 87فیصد خواتین اور 42اعشاریہ 63فیصد مردوں نے ووٹ پول کرکے نئے قبائلی اضلاع میں پہلی پوزیشن حاصل کرلی۔جہاں خواتین کے زیادہ ووٹ پول ہوئے ان میں پنجاب کے پندرہ اور سندھ کے دو اور خیبر پختونخوا کے دو حلقے شامل ہیں۔بلوچستان کے کسی بھی حلقے کو یہ اعزاز حاصل نہیں ہوسکا۔ چترال اور کرم کے علاوہ جن حلقوں میں خواتین نے اپنا زور دکھا دیا ان میں اٹک، روالپنڈی ٹو، چکوال، جہلم، گجرات، سیالکوٹ، ناروال، مظفر گڑھ، ڈیرہ غازی خان شامل ہیں۔جن حلقوں میں خواتین نے زیادہ ووٹ ڈالے ان میں سے سات میں پی ٹی آئی، پانچ میں مسلم لیگ ن ، چار میں پیپلز پارٹی، دو میں مسلم لیگ ق اورایک میں متحدہ مجلس عمل کو کامیابی ملی۔ خیبر پختونخوا میں قومی اسمبلی کی چودہ اور صوبائی اسمبلی کی چونتیس جنرل نشستوں پر خواتین نے قسمت آزمائی کی ۔ مگر کسی ایک نشست پربھی انہیں کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔ تاہم توقع یہی ہے کہ اگر خواتین پورے ملک میں یونہی اپنا حق رائے دہی استعمال کرتی رہیں تو اسمبلیوں میں بھی خواتین کی بڑی تعداد نظر آئے گی۔ اب تو الیکشن کمیشن بھی تحریک تحفظ نسواں کا علم اٹھائے میدان میں آگیا ہے۔ الیکشن کمیشن نے پہلے ہی اعلان کیا تھا کہ جن حلقوں میں خواتین کے ووٹوں کی شرح دس فیصد سے کم رہی۔ ان حلقوں کے نتائج منسوخ کرکے دوبارہ انتخابات کرائے جائیں گے۔ انتخابات کے بعد ایک قبائلی حلقے اور ضلع شانگلہ کے نتائج اسی بنیاد پر منسوخ ہونے کا خطرہ ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ اگر دوسری بار بھی خواتین کے ووٹوں کی شرح کم رہی تو پھر کیا ہوگا۔؟کہتے ہیں کہ ہرکامیاب مرد کے پیچھے ایک عورت کا ہاتھ ہوتا ہے۔ اس کہاوت کے حق اور مخالفت میں بہت سی دلیلیں دی جاسکتی ہیں۔ مثال کے طور پر شیخ رشید کو لے لیں۔ وہ کوئی پانچویں چھٹی بار الیکشن جیت چکے ہیں۔ انہوں نے اب تک شادی ہی نہیں کی۔ سکندر اعظم نے پینتیس سال کی عمر میں آدھی دنیا فتح کرلی تھی۔ مگر وہ بھی کنوارہ تھا۔کامیاب کنواروں کی فہرست بنائی جائے توبات بہت دور تک جائے گی۔ لیکن اس کہاوت کے حق میں بھی دلائل کی کمی نہیں۔ 2018کے انتخابات میں عمران خان کی ملک گیر کامیابی میں ان کی تیسری بیگم کے ہاتھ کو کسی طور نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ان کی پہلی بیوی بھی اب تک انہیں بھرپور سپورٹ کرتی ہے البتہ دوسری نے ہاتھ بٹانے کے بجائے انہیں ہاتھ کی صفائی دکھادی۔یہ بات طے ہے کہ خواتین کی آپس میں بہت کم ہی بنتی ہے۔ وہ اپنی ہم جنسوں سے زیادہ مردوں کو سپورٹ کرتی ہیں۔ زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں۔اپنے گھر میں ہی دیکھ لیں۔ مائیں اپنی بیٹیوں سے زیادہ بیٹوں کا
    خیال رکھتی ہیں۔انہیں اچھا کھلاتی، پلاتی اور پہناتی ہیں۔ بیٹی بیچاریاں زیادہ تر باپ ، بھائی، چچا اور ماموں پر انحصار کرتی ہیں۔بہرحال مرد حضرات کو اپنی اور برادری کے وسیع تر مفاد میں خواتین کے ساتھ بناکر رکھنا چاہئے۔ بصورت دیگر وہ خواتین کے سپورٹ میں نکل آئیں تومردوں کا سیاسی، سماجی، معاشی اور معاشرتی مستقبل خطرے میں پڑسکتا ہے۔ تھوڑی دیر کے لئے فرض کر لیں کہ چترال، تھرپارکر، کرم ، ناروال اور مظفر گڑھ کی طرح پورے ملک کی خواتین اپنا حق رائے دہی ہر صورت میں استعمال کرنے کی ٹھان لیں اور مردوں کے بجائے خواتین کو ووٹ دینے کا تہیہ کرلیں تو ملکی ایوانوں میں خوردبین سے بھی مرد نمائندے نظر نہیں آئیں گے۔اس کے بعد جو ہوگا ۔ اسے دیکھنے کے لئے کون جیتا ہے؟

  • error: Content is protected !!