Chitral Times

Nov 21, 2018

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • کالاش قوم کی تاریخ کا پہلا ایم پی اے…….. محمد شریف شکیب

    August 2, 2018 at 9:12 pm


    سکندر اعظم کے لشکری قافلے سے موسوم چترال کے کالاش قبیلے کی بھی آخر کار سن لی گئی۔ پاکستان تحریک انصاف نے متحرک کالاش نوجوان وزیرزادہ کو اقلیتی نشستوں پر دوسری ترجیح کا امیدوار نامزد کیا تھا۔ پی ٹی آئی کو صوبے میں جب بھاری اکثریت مل گئی تو وزیرزادہ کی قسمت بھی جاگ اٹھی اور وہ کالاش قبیلے کا پہلا فرد بن گیا جسے قیام پاکستان کے بعد پہلی بار صوبائی اسمبلی تک رسائی مل گئی۔ وزیرزادہ کی اچانک کامیابی پر وادی کالاش کے تینوں دیہات بمبوریت ، بریر اور رمبور میں کئی دنوں سے جشن کا سماں ہے۔ ڈھول کی تھاپ پر روایتی کالاش رقص رات گئے تک جاری رہتا ہے۔بکریاں ذبح کرکے ضیافتیں اڑائی جارہی ہیں۔ اپنی منفرد ثقافت، اقدار اور سماجی پس منظر رکھنے والے کالاش قبیلے کا یہ جشن چلم جوشٹ یا کسی مذہبی تہوار وغیرہ کا حصہ نہیں۔ وہ وزیرزادہ کی صورت میں صوبائی اسمبلی میں نمائندگی ملنے کا جشن منارہے ہیں۔ کالاش قبیلے کا قومی سیاسی دھارے میں شامل ہونا ان لوگوں کے لئے بلاشبہ ناقابل بیان خوشی کا موقع ہے۔ وزیرزادہ اس قبیلے کا ہردلعزیز سماجی کارکن ہے۔34سالہ وزیرزادہ نے پشاور یونیورسٹی سے پولیٹیکل سائنس میں ماسٹر کی ڈگری حاصل کررکھی ہے۔ لوکل سپورٹ آرگنائزیشن سے عملی زندگی کا آغاز کرنے والے سماجی کارکن نے متعدد سماجی اور فلاحی تنظیموں میں کام کیا۔ وزیرزادہ نے 2008میں پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کی۔اور دس سالہ بے لوث خدمات کا انہیں آخر کار صلہ مل گیا۔وزیرزادہ کا کہنا ہے کہ کالاش قبیلے کی فلاح و بہبود اور ترقی کا جوخواب انہوں نے دیکھا تھا۔ صوبائی اسمبلی کا ممبر بننے کے بعد ان خوابوں کو تعبیر کا جامہ پہنانے کا انہیں موقع ملا ہے۔ وزیرزادہ کا کہنا تھا کہ کالاش ثقافت کو فروغ دینا ان کا مشن ہے۔ چترال پر کالاش قبیلے نے طویل عرصہ حکمرانی کی ہے اور کالاش دور کی تعمیرات کے آثار ضلع بھر میں پائے جاتے ہیں۔ وہ ان آثار کو محفوظ بنانے پر کام کریں گے۔ اور صوبائی اسمبلی میں کالاش قبیلے کے تحفظ اور ترقی کے لئے قانون سازی کے لئے اپنا کردار ادا کریں گے۔ 124ارکان پر مشتمل خیبر پختونخوا اسمبلی میں وزیرزادہ کی صورت میں ایک اقلیتی رکن کا چناوبادی النظر میں کوئی بڑی خبر نہیں۔ تاہم تاریخی تناظر میں دیکھا جائے تو یہ غیر معمولی واقعہ ہے۔ قدیم تاریخ و ثقافت کا حامل کالاش قبیلہ صدیوں سے یہاں مقیم ہے۔ لیکن انہیں 1973میں پہلی بار قومی سطح پر شناسائی ملی۔ جب ذوالفقار علی بھٹو نے کالاش کے وفد کو اسلام آباد بلایا اور میڈیا سے پہلی بار انہیں متعارف کرایاگیا۔تب سے اندرون و بیرون ملک سے سالانہ ہزاروں کی تعداد میں لوگ کالاش قبیلے کے تہواروں میں شرکت کے لئے بمبوریت جاتے ہیں۔ روایتی لباس میں رقص کرتی خواتین کی تصویریں اور وڈیوز بناتے ہیں ان کے ساتھ سیلفیاں لیتے ہیں۔ مگر ان کے مسائل، مشکلات اور پریشانیوں کو جاننے اور ان کا معیار زندگی بہتر بنانے پر کسی نے توجہ نہیں دی۔وادی کالاش کو کافرستان کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ ہمارے ملک بلکہ اس صوبے میں بھی اکثر لوگ چترال کو وادی کالاش کا دوسرانام سمجھتے ہیں۔ یہ درست ہے کہ کئی صدیوں پہلے چترال پر کالاش قوم کی حکومت رہی ہے۔ چترال ٹاون کو سب ڈویژن مستوج کے ساتھ ملانے والا چیو پل کالاش حکمرانوں کی ہی نشانی ہے۔ کالاش حکمران کے تعمیر کئے ہوئے لکڑی کے پل کی جگہ اب آر سی سی پل تعمیر کیا گیا ہے مگر اس کا نام اب بھی چیوپل ہی ہے۔اب کالاش قوم کی آبادی سمٹ کر کالاش گوم کے تین دیہات بمبوریت، رمبور اور بیریر تک محدود ہوکر رہ گئی ہے۔ چترال کی ساڑھے سات لاکھ کی آبادی میں کالاش قبیلے کی آبادی تین چار ہزار سے زیادہ نہیں۔وادی کالاش میں بھی بیشتر آبادی مسلمانوں کی ہے۔ تاہم مسلمان اور کالاش پرامن بقائے باہمی کے اصولوں کے مطابق پرسکون زندگی گذار رہے ہیں۔ اب تک صوبے میں آباد مسیحی، ہندو اور سکھ برادری کو قومی اور صوبائی سطح پر اقلیتی نشستوں پر نہ صرف نمائندگی ملتی رہی بلکہ انہیں وزارتیں بھی ملتی رہی ہیں۔ اب پہلی بار کالاش قبیلے کو ایوان میں نمائندگی دینا پاکستان تحریک انصاف کا کارنامہ ہے۔

  • error: Content is protected !!