Chitral Times

Dec 11, 2018

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • مولانا صاحب۔ این جی اوز کو نہیں مسائل کوختم کرنے کی ضرورت ہے….. (اعجاز احمد)

    August 3, 2018 at 8:50 pm

    …………………………………………………………….ادارے کا مراسلہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں‌!
    پاکستانی ووٹرز کا ایک طبقہ ملک کی بدحالی کا ذمہ دار صرف اور صرف کرپشن یعنی مالی بدعنوانی کو گردانتاہے ، وہ سمجھتاہے کہ نظام کی خرابی نے اسے پیچھے دھکیل دیا ہے جب تک کوئی مسیحا نہ آئے اور کرپٹ لوگوں کو سولی پہ نہ چڑھائے اس اسلامی جمہوریہ میں بہتری نہیں آنی ، اس طبقے کو حالیہ الیکشنز میں کامیابی ملی ہے اور آئیندہ چند ایک ہفتوں میں ہمارا نیا دور ہماری آنکھوں کے سامنے ہوگا۔ یہ مسیحا بس آنے کو ہے، وہ سارا نظام ٹھیک کردے گا۔ ایک صبح ہم اٹھیں گے کہ نئے دور میں داخل ہوچکے ہوں گے، اپنے آس پاس ناروے، سویڈن کا ماحول ہوگا جہاں وزیراعظم سائیکل پر دفتر جارہا ہوگا، ایم این ایز اور ایم پی ایز قانون سازیوں میں مصروف اور سرکاری افسران عوام کی خدمت میں مشعول فوج بیرکوں میں بیٹھی ہوئی ہوگی اور منتخب نمائندوں کے احکامات کی منتظر، پاکستان کی پارلیمنٹ سیاہ و سفید پر قادر۔ آرمی چیف ہر صبح منتخب عوامی وزیراعظم کو ناشتے سے قبل سلیوٹ کرنے حاضر ہوگا ، اطراف کے ممالک سے سٹوڈنٹس تعلیم کیلئے ہماری یونیورسٹیوں پر یلغار کریں گے اور لوگ مزدوری ڈھونڈنے آدھمکیں گے۔ لیکن ٹھہریئے، ابھی اس تبدیلی میں کچھ وقت لگے گا،پہلے حلف تو اٹھالینے دو۔
    انہی ووٹروں میں دوسرا طبقہ بھی ہے، کرپشن کا خاتمہ اس طبقے کا بھی ہدف ہے لیکن زیادہ توجہ اس پر نہیں، وہ کہتاہے کہ اس ملک کی بدحالی کی واحد وجہ ہماری بداعمالی ہے، جس دن فجر کی نماز میں تمام صفیں بھرجائینگی اُس دن ہماری خوشحالی اور ہمارے دشمنوں کا زوال شروع ہوجائے گا۔نماز روزے کی پابندی کو اپنے تمام تر معاشرتی اور اقتصادی مسائل کا حل سمجھنے والے اس طبقے کو چترال سے جیت ملی ہے۔ الیکشن میں کامیابی کے بعد مورخہ 28 جولائی کو اظہار تشکر کے سلسلے میں دروش بازار میں بیچ سڑک پر اجتماع منعقد کرکے ٹریفک کو ڈیڑھ گھنٹے کیلئے بند کیا اور نومنتخب ایم این اے جناب مولانا چترالی صاحب یوں گویا ہوئے “چترال میں سرگرم این جی اوز اب محتاط رہو، اب کسی جگہ بے حیائی کی اجازت نہیں دی جائے گی، پارلیمنٹ میں ختم نبوت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، اس سلسلے میں اگر پارلیمنٹ سے بھی نکلنا پڑا تو یہ کوئی بڑی قربانی نہیں ہوگی، ہم کمیشن کو حرام سمجھتے ہیں وغیرہ وغیرہ”
    اس طبقے کو بھی آپ باآسانی اِن ہی باتوں سے بہلاسکتے ہیں، چونکہ مولانا صاحب اس طبقے کے نمائندہ ہیں تو انہیں تو اپنے ووٹر کو بہلانے پہ یدِ طولیٰ حاصل ہونا ہی چاہئے۔ اس تقریر کی ویڈیو موجود ہے اور آپ حاضرین کی جانب سے نعروں کی صورت میں مولانا کی تائید کا نظارہ دیکھ کر حیران ہوجائیں گے۔ اب یہ سوال کہ کونسی این جی او نے چترال میں بے حیائی پھیلائی ہے۔ ہزار کوششوں کے باوجود ہمیں کسی نے ایسی کسی این جی او کے بارے میں نہیں بتایا۔ اگر یہ گزارش نامہ خود مولانا صاحب کی نظروں سے گزرے تو ہمیں تفصیلات سے آگاہ کرنے کی التماس ہے۔ اگر بے حیائی کا مطلب مولانا کے ہاں خواتین کو روزگار دینا ہے ، تو اس سے قبل بھی مولانا صاحب پورے پانچ سال کیلئے ایم این اے رہ چکے ہیں اور مرکز اور صوبے میں حکومتیں بھی اُن کی تھیں تو اُس دور کے خواتین کیلئے ایسے حیادار روزگار کے مواقع ہمیں بتادیں جو انہوں نے چترالی خواتین کیلئے مہیا کئے اورہمیں ایسی بے ہودہ خواتین کا پتہ بتائیں جنہوں نے مولانا صاحب کے پیدا کئے ہوئے روزگار کے مواقع کو مسترد کیا اور این جی اوز کو ترجیح دی، اس کے بعد ہم نمٹ لیں گے ایسی خواتین سے۔ دوسری بات یہ کہ کیا مولانا صاحب ایسا کوئی ڈیٹا اکھٹا کرواچکے ہیں کہ چترال میں اس وقت کتنی این جی اوز کام کررہی ہیں اور کتنی خواتین اس وقت این جی اوز کی ملازم ہیں۔ کیا مولانا صاحب معلوم کراسکتے ہیں کہ چترال میں کتنے لوگوں کو این جی اوز نے ہنر سکھایا، اور وہ اب با عزت روزگار کمارہے ہیں۔ کتنے دیہات میں انہی این جی اوز نے پینے کا صاف پانی پہنچایا؟ کتنی وادیوں کو پُل اور سڑکوں کے ذریعے باہم مربوط کیا؟کتنے پاؤر ہاؤسز تعمیر کروائے؟ کتنے سکول اور کالج اس وقت چترال کے نوجوانوں کو تعلیم دے رہے ہیں؟ کیا مولانا صاحب این جی اوز کے ہسپتالوں اور سرکاری ہسپتالوں کا معیار جانتے ہیں؟ مجھے مولانا صاحب چترال کے کسی سرکاری ہسپتال کے ایک نرس کانام بتائیں جو ایک سالہ بچے کو “کینولہ” لگاسکتاہے۔ مولانا صاحب کیا آپ کو معلوم ہے کہ جن جن سڑکوں کو استعمال کرکے آپ ضلع چترال کے کونے کونے میں بروقت پہنچے اور کامیاب الیکشن مہم چلائی وہ سڑکیں این جی اوز نے بنائی ہیں، چترال سے بونی روڈ بھی ایک این جی او (سی اے ڈی پی) کا پروجیکٹ تھا، آپ کی حکومت آئی اور چلی گئی لیکن اُس این جی او کے کام کی نشانی اب بھی اودھر آپ کا منہ چڑارہی ہے، اُس کی خستہ حالت آپ ٹھیک کرلیں یہ سڑک بنانے والی این جی او جاچکی ہے۔
    بات لمبی گرچہ ہوہی گئی ہے تو مولانا صاحب سے چند ایک سوالات اور بھی کرلیتے ہیں، پاکستان میں این جی اوز کا سب سے بڑا نیٹ ورک مدارس کو قرار دیا جاتا ہے۔ این جی او کا مطلب غیر سرکاری ادارہ لیا جائے تو مدارس اس درجے پر پورا اترتے ہیں کیا مولانا صاحب دینی مدارس کو بھی دھمکی دے رہے ہیں؟ اوہ سوری میں تو بھول گیا مولانا صاحب این جی اوز سے بغض نہیں رکھتے وہ بے حیائی کو ٹارگٹ کرتے ہیں ، پھر دیکھ لیتے ہیں کون بے حیائی پھیلاتا ہے لیکن پہلے وضاحت کرلیتے ہیں کہ فرق کیا ہے۔ مدارس اور روایتی این جی اوز میں فرق اتنا ہے کہ مدارس کو فنڈ ملکی مخیر حضرات اور خلیجی ریاستوں سے ملتاہے جبکہ روایتی این جی اوز کو حکومت اور مغربی ممالک سے ۔ یہی وجہ ہے کہ این جی اوز کو مغرب کا نمائندہ سمجھتا جاتاہے لیکن مدارس کو خلیجی ممالک کا یجنٹ نہیں قرار دیاجاتا ۔ مغربی ممالک کے پیسے حرام اور خلیجی ممالک کی رقم حلال ہے جبکہ دنیا کے کسی ایک اسلامی ملک میں بھی فی الوقت سود سے پاک بینکنگ موجود نہیں ہے۔ روایتی این جی اوز پر ایک الزام یہ بھی ہے کہ مغربی ممالک کا ایجنڈا یعنی خواتین کو بااختیار بناکر وہ دراصل ہماری اسلامی اقدار کو کمزور کررہی ہیں۔ کیا مولانا صاحب کبھی متحدہ عرب امارات گئے ہیں؟ سعودی عرب کے بعد مدارس کا سب سے بڑا ڈونر عرب امارات کی ریاستیں ہیں کیا امارات میں اسلامی اقدار کی پاسداری ہوتی ہیں؟
    این جی او ز کے کسی ملازم کا نام بتائیں جس کسی سپاہی کا سر قلم کیاہو ۔ صاف ستھرے کپڑوں میں دفتر جانا بے حیائی ہے یا پیسے کمانے کیلئے غلط کام کرنا ، بھیک مانگنا اور قتل کرنا؟ خواتین کو بااختیار بنانا اگر بے حیائی ہے تو یہ کام اب سعودی عرب میں بھی شروع ہوگیا ہے، خواتین کو ووٹ کا اختیار دینے، ڈرائیونگ لائسنس رکھنے، کاروبار کرنے اور بغیر وارث کے گھر سے نکلنے کی اجازت دی جاچکی ہے اور اس حوالے سے قانون سازی کا عمل زورشور سے جاری ہوگیا ہے۔ اب مولانا صاحب کو اپنے ووٹرز کو مطمئن کرنا ہوگا کہ وہ منتخب ہوچکے ہیں اُن کی خواتین کو گھر بیٹھے کونسا کام کرنا ہوگا جس سے وہ اپنا پیٹ بھرلیں۔ مولانا صاحب کے ووٹر کو بھی سوچنا ہوگا کہ انہوں نے مولانا صاحبان کو اپنے معاشی مسائل حل کرنے کیلئے منتخب کیا ہے یا معاشرتی مسائل پیدا کرنے کیلئے۔ ہم صرف مولانا صاحب کو ہی مشورہ دے سکتے ہیں وہ یہ کہ مولانا صاحب، چترال سے این جی اوز کو بھگانے کی نہیں چترال کے مسائل حل کرنے کی کوشش کریں، جب مسائل نہیں ہوں گے تو این جی اوز کو کس چیز کیلئے فنڈ ملے گا؟

  • error: Content is protected !!