Chitral Times

Aug 23, 2019

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • بزمِ درویش……….قربانی…………تحریر:پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

    August 5, 2019 at 8:27 pm

    وہ بیس سال بعد مُجھ سے ملنے آیا تھا پہلی نظر میں اُسے پہچان بھی نہ سکا اُس کا چہر ہ شناسا ضرور لگا جب وہ بولا تو بھی آشنائی کی جھلک نظر آئی پھر میری طاقتور یاداشت نے کام کیا تو میں نے اُسے پہچان لیا وہ میرا گریجوایشن کا کلاس فیلو تھا چھوٹے قد کا کھلنڈرا شریر سا دیہاتی جوان مستقل مسکراہٹ اورمثبت رویہ اُس کے چہرے کا خاصا تھا ہر دوست کے کام آنے کی کوشش کر تا اُس کے چھوٹے قد کی وجہ سے ہم سب اُس کا مذاق اڑاتے تو وہ مسکرا کر ٹا ل دیتا اور ایک ہی بات کر تا چھوٹے قد کے لو گ زیادہ مضبوط اور طویل عمر پاتے ہیں اُس کی پھرتی چالاکی شرارتوں کی وجہ سے میں نے اُس کا نام شیر خان رکھ دیا تھا میری دیکھا دیکھی سارے دوست بھی اُس کو شیر خان بلاتے وہ اِس لقب پر بہت خوش ہو تا وہ جب بھی آتا ہم پکارتے لو جی شیر ببر آگیا ہے اب مزہ آئے گا اور واقعی اُس کی موجودگی محفل کو زعفران بنا دیتی‘ اپنے چچا کی لڑکی سے بچپن میں ہی منگنی ہو گئی تھی ہم اکثر اس حوالے سے بھی اُسے بہت تنگ کر تے وہ ہر بات مسکرا کر ٹال دیتا زندگی کی مشکل سے مشکل تکلیف دہ بات کو وہ مسکرا کر ٹال دیتا یا حل کرنے کا طریقہ بتا دیتا‘ میں اُس وقت بھی اُس کی بہت عزت کر تا تضحیک نہ کرتاایسی بات سے گریز کر تا جس سے اُس کی دل آزاری ہو تی ہو‘ میرے اِس مثبت روئیے کا اُسے احساس تھا اِس لیے جب بھی ہم دونوں تنہائی میں ملتے تو وہ تحسین آمیز نظروں سے میری طرف دیکھتا اور کہتا یا ر بھٹی تم میری دل سے قدر کرتے ہو‘میں جپھی ڈال کر کہتا شیر خان تم ہو ہی اِس قابل میری قدر دانی حوصلہ افزائی پر اُس کی آنکھیں نم ہو جاتیں‘ بی اے کا امتحان ہوا میں پاس ہو کر یونیورسٹی میں آگیا لیکن وہ فیل ہو گیا تین چار بار کوششوں کے بعد بھی بی اے نہ ہوا گاؤں میں جو تھوڑی سی زرعی زمین تھی اُس پر کھیتی باڑی شروع کر دی اب میرا کالج فیلوز سے رابطہ کم ہو گیا تھا ایم اے کے بعد کوہ مری میں نوکری لگی تو روحانیت تصوف کی وادی میں ایسا گم ہوا کہ اپنی بھی ہوش نہ رہی ایک دو بار کسی دوست کی شادی پر ملاقات ہوئی پھر یہ رابطہ مستقل بند ہو گیا آج تقریبا ً بیس سال بعد میں آفس سے گھر آیا تو چھوٹے قد کا نحیف کمزور شکستہ حال چھوٹے قد کا ڈھلتی عمر کا پریشان حال شخص میرا منتظر تھا سلام دعا آشنائی کے بعد ماضی کا شیر خان بڑھاپے کی دہلیز پر کھڑا میرے سامنے بیٹھا تھا جب وہ مسکرانے کی کو شش کرتا تو غربت جسم کی کمزوری چھلک پڑتی میں اُس کے ساتھ اپنے حجر ے میں بیٹھا تھا جہاں ہم دونوں نے کھانا کھایا چائے پی فروٹ کھایا شیر خان نے خوب جی بھر کر کھانا کھایا ساتھ میں وہ اللہ کا شکر بھی ادا کر تا جارہا تھا قد تو اُس کا پہلے ہی چھوٹا تھا بڑھتی عمر بڑھاپے کی دستک نے اُس کے جسم کو اور بھی کمزور کر دیا تھا‘ وہ بتا رہا تھا اللہ تعالی نے اُسے پانچ بیٹیوں کی رحمت سے نوازا ہے بیٹا نہیں دیا اُس کی کوئی حکمت ہو گی میری بیٹیاں بھی بیٹوں کی طرح ہیں اور وہ خوش تھا بڑی بیٹی کی شادی کر دی تھی دو بیٹیا ں کالج جبکہ ایک میٹرک کی طالبہ تھی آخری بیٹی پانچ جماعتوں کے بعد گھر بیٹھ گئی تھی وہ ماں کاکام کاج میں ساتھ دیتی تھی مہنگائی اور اخراجات میں زیادتی کی وجہ سے میں آخری بچی کو پڑھانے کی سکت نہیں رکھتا تھا اِس لیے اِس بات کا شیر خان کو ملال بھی تھا آخری بیٹی کا ذکر کر تے ہو ئے اُس کی دھندلی آنکھوں کے کنارے بھیگ گئے تھے تھوڑی زرعی زمین کے ساتھ بڑی مشکل سے اُس نے سفید پو شی کا بھرم رکھا ہو ا تھا اُس کی گفتگو سے واضح طور پر پتہ چل رہا تھا کہ وہ مہنگائی کے منہ زور جن کے سامنے شکست کھاتا جارہا تھا مہنگائی کی زیادتی کی وجہ سے بنیادی ضروریات زندگی کے لیے بھی اُسے شدیدمشکل پیش آرہی تھی اُس کے لہجے کی شگفتگی زندہ دلی شرارتیں سالوں پہلے اُس سے روٹھ چکی تھی میں اُس کے موڈ کو نارمل کر نے کی پوری کو شش کر رہا تھا اُس کے چچا کی بیٹی جواب اُس کی بیوی تھی جس کے بارے میں ہم اُس چھیڑا کر تے تھے اُس کا حال احوال پو چھا کہ اُس سے محبت آج بھی قائم ہے تو وہ مسکرا یا جی محبت قائم ہے اوریہ محبت آخری سانسوں تک قائم رہے گی اُس کی بیٹیوں کی عمروں کے بارے میں مزاجوں کے بارے میں شکل و صورت اور ذہانت کے بارے میں باتیں کیں‘ والدین فوت ہو گئے تھے پھر میں نے کالج کے دنوں کی باتیں شروع کردیں‘ کالج اور جوانی کے دن کسی بھی انسان کا سنہرا اثاثہ ہو ئے ہیں اور اگر کلاس فیلو مل جائے جو بہت قریبی رہا ہو تو نشہ دوبالا ہو جاتا ہے‘ کالج کے دنوں کی شرارتیں باتیں ختم ہو ئیں تو شیر خان نے میرے روحانی سفر کے بارے میں پو چھنا شروع کر دیا کہ میں کس طرح روحانیت فقیری کی طرف آگیا کیونکہ وہ کالج میں میرے قریبی دوستوں میں تھا میں بھی اُس وقت عام پاکستا نی جوانی کی طرح شرارتی کھلنڈرا سپورٹس لور تھا جو دن رات دوستوں اور کھیل کے میدانوں میں نظر آتا تھا یا دوستوں کے ساتھ سینما ہالوں کا رخ کر تا وہ میر ی زندگی کے اُس دور سے بخوبی واقف تھا اِس لیے وہ حیران تھا کہ میں زندگی کی ساری رنگینیاں چھوڑ کر کس طرح راہ سلوک کی پرخار وادی کو چنا اور پھر مستقل طور پر اِس وادی پر خار کا مسافر بنا‘ ہمیں باتیں کر تے ہوئے تین گھنٹے سے زیادہ کا وقت ہو چکا تھا کھانا چائے خوب گپوں کے بعد اب میں اِس انتظار میں تھا کہ شیر خان جائے تو میں گھر کے کاموں پر دھیان دے سکوں لیکن شیر خان جانے کو تیار نہیں تھا اب میں نے بغور اُس کا جائزہ لیا تو بات سمجھ میں آگئی کہ وہ کسی ضرورت کام یا بات کے لیے میرے پاس آیا ہے اب اُسے حوصلہ نہیں ہو رہا تھا با ت کر نے کا‘ شرمندگی سفید پوشی یا وضع داری نے اُس کی زبان بند کر رکھی تھی اب میں نے اُسے حوصلہ دیا شیر خان کو ئی بات ہے تو کرو مجھے خوشی ہو گی آخر کار بڑی کوششوں کے بعد اُس کے تھر تھراتے ہونٹوں سے الفاظ پھسلنا شروع ہو ئے یار عید قریب ہے میرے پاس قربانی کے وسائل نہیں میرے گھر میں غربت کا ڈیرہ ہے ہو شربا مہنگائی نے تو سانسیں بند کر نا شروع کر دی ہیں میں نے سوچھا ہے چھوٹی بیٹی کو کسی کے گھر کام پر لگا دو اُس کے پیسوں سے باقی بچیوں کی پڑھائی اور بیوی کی دوائی کے اخراجات پو رے ہو جائیں گے‘ بیٹی میرے جگر کا ٹکڑا ہے کسی کے گھر بھیجنے کو دل نہیں مانتا تم تو اُس کے چاچے لگتے ہو کیا تم میری بیٹی کو اپنے گھر کام پر رکھ سکتے ہو‘ میری بیٹی کی اِس قربانی سے میری باقی بچیاں آسانی سے پڑھ سکیں گی اب وہ اپنی بیٹی کی خوبیاں اچھا کام وغیر ہ بتا رہا تھا الفاظ پگھلتے ہو ئے سیسے کی طرح میری سماعتوں کے جلا رہے تھے مجھے لگ رہا تھا جیسے کسی نے مجھے کباب والی سلاخ پر پرو کر آگ کے انگاروں پر رکھ دیا ہو میں سر سے پاؤں تک شل ہو کر پتھر کا لگ رہا تھا وہ نظریں جھکائے اپنی بیٹی کی تعریفیں کر رہا تھاآنکھوں سے آنسو ٹپ ٹپ فرش پر گر رہے تھے‘ مہنگائی نے اُسے سفید پوش سے گدا گر بنا دیاتھا وہ اپنی لاڈلی بیٹی کو قربان کر نے آیا تھا میری آنکھوں سے بھی موسلا دھار برسات بہنے لگی میں اٹھا شیر خان کو گلے سے لگایا اور بولا یار میری خواہش تھی کسی بیٹی کو پڑھاؤں آج سے تیسری بیٹی میری بیٹی ہے تمہارے اکاؤنٹ میں ہر ماہ اُس کے اخراجات پہنچ جایا کریں گے اُس کو جا کر پڑھاؤ اپنی آنکھوں کے سامنے رکھو اُس کی شادی پر مجھے ضرور بلانا شیر خان بچوں کی طرح بلک بلک کر رونے لگا پھر ہم دونوں نے آنکھوں کے چھپر کھول دئیے آنکھوں کا سمندر بہنے لگا۔

  • error: Content is protected !!