Chitral Times

May 26, 2019

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • پلاننگ اینڈ ڈیویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ نے آٹھ ماہ کی کارکرگی رپورٹ جاری کردی

    May 3, 2019 at 12:20 am

    پشاور(چترال ٹائمزرپورٹ‌) پلاننگ اینڈ ڈیویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ حکومت خیبر پختونخوا نے اپنی آٹھ ماہ کی کارکردگی رپورٹ جاری کردی ہے۔ رپورٹ کے مطابق صوبائی اکانومی کے لئے سٹرٹیجگ پلاننگ سالانہ ترقیاتی پروگرام کی تشکیل، منصوبوں کی آگاہی اور جائز ہ لینا، مانیٹرنگ اینڈ ایولوایشن (ME) فارن ڈیویلپمنٹ اسسٹنس۔ ڈونرز کوآرڈی نیشن مینجمنٹ آف پراونشل سٹیٹسٹکس، نیشنل ڈیویلپمنٹ فورمز میں صوبائی نمائندگی، ریفارمز ایجنڈا پر عملدرآمد / کوآرڈی نیشن، محکموں کے مابین مسائل کا حل پی ایس ڈی پی منصوبوں کا استحکام/ترجیحی نئے منصوبوں کی منظوری کے لئے پی ڈی ڈبلیو پی کے باقاعدہ اجلاسوں کا انعقاد، پراجیکٹ سٹیئرنگ کمیٹی/ بورڈ اجلاس اور سی ڈی ڈبلیو پی اور جی سی این ای سی کے اجلاس پی اینڈ ڈی ڈیپارٹمنٹ کے فرائض ہیں۔پی اینڈ ڈی ڈیپارٹمنٹ کی کاکردگی سے متعلقہ رپورٹ میں بتایا گیا کہ پی اینڈ ڈی ڈیپارٹمنٹ 20.4 بلین روپے کی لاگت کے ضم شدہ علاقوں کے منصوبوں کی اے ڈی پی 2018-19 کی منظوری اور صوبائی سالانہ ترقیاتی پروگرام میں شامل کرنے پر سرگرمی سے کام کر رہا ہے۔ اسی طرح پی ڈی ڈبلیو پی نے 78 ترقیاتی سکیمیں منظور کی ہیں۔ محکمہ نے خیبر پختونخوا کی اے ڈی پی کی 371 سکیموں کے لئے فنڈز کی دستیابی یقینی بنائی ہے۔ یہ بھی بتایا گیا کہ پی اینڈ ڈی ڈیپارٹمنٹ محکموں غیر ملکی پارٹنرز اور دیگر سٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے ضم شدہ اضلاع کے دس سالہ ترقیاتی منصوبے پر توجہ مرکوز کئے ہوئے ہے۔حکومت خیبرپختونخوا نے میرٹ کی بنیاد پر ترقیاتی فنڈز کی مدمیں وسائل مختص کرنے کے عمل کو باقاعدہ بنانے کے لیے “سنٹرلائزڈ جی آئی ایس سسٹم کا قیام” کے نام سے ایک پروجیکٹ شروع کیا ہے اس پروجیکٹ کے تحت جی آئی ایس کی جدید ٹیکنیک کے استعمال کے ذریعے ہر ترقیاتی سکیم کے لیے موزوں جگہ کے انتخاب کو یقینی بنانے کے لیے ایک سنٹرلائزڈ جی آئی ایس سسٹم بنایا گیا ہے۔مختلف شعبوں کی ڈیجیٹلائزیشن کا عمل پہلے ہی سے شروع کردیا گیا ہے جبکہ باقی ماندہ شعبوں کی ڈیجیٹلائزیشن میں تکمیل کے مراحل میں ہے۔پروجیکٹ کا اصل مقصد ایک ہی کام کو دوبارہ کرنے سے روکنا اور عوام کی خواہشات اور ضروریات کی بنیاد پر فنڈز کی تقسیم یقینی بنانا ہے۔ایلیمنٹری اور سیکنڈری ایجوکیشن کے لئے جی ای ایس لیب بنایا گیا ہے،محکمہ منصوبہ سازی وترقیات نے سرمایہ کاری کی پہلی پالیسی کو حتمی شکل دے دیا ہے جس کا مقصد مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کو مساوی مواقوں قوم کی فراہمی، گورننس کی بہتری،ٹیکنالوجی اور انسانی وسائل کی منتقلی ہے۔محکمہ منصوبہ سازی وترقیات،پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اور پبلک انویسٹمنٹ مینجمنٹ پلان پر پیش رفت کر رہی ہے۔سسٹینیبل ڈیولپمنٹ گولزSDGs کے حصول کیلئے رضاکارانہ قومی جائزہ شروع کرنے کے لئے بہت زیادہ تیاری کی گئی ہے،سی پیک کے تحت رشکئی اسپیشل اکنامک زون کو حتمی شکل دی گئی ہے۔محکمہ منصوبہ سازی اور ترقیات سسٹینبل ڈویلپمنٹ سٹریٹجی 2023-2019 کو حتمی شکل دینے پر تیزی سے عمل پیرا ہے۔جو محکموں کے لئے پانچ سالہ سیکٹورل پلانز،مقامی اور ڈونر تعاون کو مربوط بنانے۔،ہر سیکٹر کے لئے سیکٹوریل اسٹریٹجیز سے ہم آہنگ قابل پیمائش ٹارگیس بنانا،سماجی شعبوں میں سرمایہ کاری اور آسانیاں پیدا کرنے کے ذریعے انسانی ترقی پرتوجہ پر محیط ہے۔یہ اسٹریٹجی مئی 2019 کے اوائل میں شروع کی جائے گی۔ابھی تک محکمہ نے پی ڈی ڈبلیو پی کے 14 اجلاسوں میں 232 سکیمیں منظور کر چکی ہے جن میں ضم شدہ اضلاع کی 78 سکیمیں شامل ہیں۔938 ایم اینڈ آئی رپورٹس تیار کی گئی ہیں،400 فیڈبیک رپورٹس موصول ہوئی ہیں،282 فالواپ مانیٹرنگ دورے بھی کیے گئے ہیں،سالانہ ایم اینڈ آئی رپورٹ 2017-18 شائع کیا گیا ہے،محکمہ منصوبہ سازی اور ترقیات کے تحت کام کرنے والے بیورو آف سٹیٹسٹکس نے دوسری اہم سٹیٹسٹیکل رپورٹس کے علاوہ ملٹیپل انڈیکیٹرز کلسٹر سروے(ایم آئی سی ایس) 2016-17 شائع کر چکا ہے۔

  • error: Content is protected !!