Chitral Times

Dec 13, 2018

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • پولیو مرض سے زیادہ ہمارے لئے قومی ناسور بن چکا ہے…….کمشنرملاکنڈ

    December 6, 2018 at 8:34 pm

    سوات(چترال ٹائمز رپورٹ )کمشنر ملاکنڈ ڈویژن سید ظہیر الاسلام شاہ نے اعتراف کیا ہے کہ پولیو مرض سے زیادہ ہمارے لئے قومی ناسور بن چکا ہے جو ایک طرف ہمارے پھول جیسے بچوں کو ہمیشہ کیلئے اپاہج بنا دیتا ہے تو دوسری طرف عالمی سطح پر پاکستان کی بدنامی اور جگ ہنسائی کا باعث بن چکا ہے انہوں نے امید ظاہر کی کہ ہم ہنگامی بنیاد پر کوششیں کریں توپورا ملاکنڈ اگلے سال پولیو فری ڈویژن بن جائے گا انہوں نے تمام ڈپٹی کمشنرز کو ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ پانچ سال تک عمر کے بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلوانا یقینی بنائیں جبکہ اس ضمن میں مزاحمت کرنے والوں کے ساتھ سختی سے پیش آئیں اپنے دفتر میں پولیوکے خاتمے کیلئے ڈویژنل ٹاسک فورس کی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کمشنر ملاکنڈ ڈویژن نے کہا کہ حالیہ پولیو مہم فیصلہ کن ہونی چاہئے والدین اپنے بچوں کو پولیو کے قطرے پلاکر عمر بھر کی معذوری سے بچائیں اجلاس میں ملاکنڈ ڈویژن کے تمام ڈپٹی کمشنرز، محکمہ صحت کے سینئر افسران اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی کمشنر نے کہا کہ پولیو وائرس کا خاتمہ 2018 میں یقینی ہونا چاہیے تھا لیکن بد قسمتی سے ایسا نہیں ہوسکا پولیو وائرس کے خاتمے میں کسی کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں ہونی چاہیے انہوں نے تمام ڈپٹی کمشنروں کو ہدایت کی کہ وہ ذاتی نگرانی میں پولیو مہم کی بھر پور طریقے سے مانیٹرنگ کریں اس سلسلے میں افغان بارڈر بھی سیل کر دیا گیا ہے جبکہ مائیگریشن کو بھی روکا گیا ہے انہوں نے ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسرز کو بھی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی خدمات احسن طریقے سے انجام دیں اور مہم کے علاوہ بھی لوگوں کے ساتھ خندہ پیشانی سے پیش آئیں جبکہ دستیاب مفت ادویات بھی مریضوں کو مہیا کریں انہوں نے تسلیم کیا کہ انتظامیہ کو کئی چیلنجوں اور مشکلات کا سامنا ہے مگر ہمیں نا امید نہیں ہونا چاہیے بلکہ ہمیں ہر قیمت پر سسٹم کو آگے لے کر جانا ہے انہوں نے مزید واضح کیا کہ عوام کا پیسہ لوگوں پر ہی خرچ ہونا چاہیے اجلاس میں ملاکنڈ ڈویژن کے ای پی آئی ایریا کوآرڈینیٹر خواجہ عرفان نے پولیو خاتمے کے حوالے سے پراگریس رپورٹ پیش کی اور کمشنر ملاکنڈ ڈویژن کو تفصیلی بریف کیا سید ظہیر الاسلام شاہ نے ملاکنڈ ڈویژن میں پولیو کے خاتمے کے بارے میں رپورٹ کو بہت سراہا اور امید ظاہر کی کہ تمام متعلقہ حکام آئندہ اس سے بھی اچھا کام کریں گے۔


    دریں اثنا بل اینڈملینڈا گیٹس فاؤنڈیشن (بی ایم جی ایف) کے ایک وفد نے فاؤنڈیشن کی ڈائریکٹر مسٹر جے وینگر کی سربراہی میں خیبر پختونخوا کے وزیر صحت ڈاکٹر ہشام انعام اللہ خان سے ان کے دفتر میں جمعرات کے روزایک اجلاس منعقد کیاجس میں پولیو کے خاتمے سے متعلق امور پر تفصیلی بحث ہوئی اجلاس میں سیکرٹری صحت سید فاروق جمیل ، محکمہ صحت اور پولیو اریڈیکیشن کے اعلیٰ افسروں نے بھی شرکت کی اور خیبر پختونخوا سمیت ارد گرد قریبی علاقوں میں پولیوکی صورتحال پر تفصیلی گفت و شنید کی گئی جس میں پولیوکے خاتمے کیلئے کئے گئے اقدامات، مختلف مہمات اور پیش رفت سمیت پولیو کے خاتمے کیلئے کام کرنے والے محکمہ صحت کے اہلکاروں کو درپیش مسائل اور مشکلات کے امور بھی زیر غور آئے وفد کے ارکان نے صوبائی وزیر کو اپنی تنظیم کی طرف سے مکمل تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے بتایا کہ ان کی تنظیم دنیا کے مختلف ممالک میں بہت سارے اجتماعی عوامی مسائل پر مقامی حکومتوں کے ساتھ تعاون کر رہی ہے تا ہم پوری دنیا سے پولیو کے خاتمے کیلئے اقدامات کو اولیت دیتی ہے ۔ وزیر صحت نے اجلاس کو بتایا کہ موجودہ حکومت نے صحت کی سہولیات میں بہتری لانے کیلئے صحت ایڈوائزری کونسل قائم کی ہے جس میں صحت سے متعلق تمام ملکی اور غیر ملکی تنظیموں کو نمائندگی دی گئی ہے جہاں پر ایک جامع پالیسی ترتیب دی گئی ہے جس کے نتیجے میں آئندہ پانچ سالوں میں بنیادی اور درمیانی سطح پر عوام کو صحت کی سہولیات فراہم کرنے والے اداروں کو فعال بنانے کے ساتھ اعلیٰ اداروں کو مزید مضبوط بنایا جائے گاجبکہ اس پالیسی کو عملی شکل دینے کیلئے ایک لائحہ عمل تیارکیا گیا ہے جسکو وقتا فوقتا مزید بہتر بنانے کیلئے مشاورت ہوتی رہتی ہے جس کا مقصد شعبہ صحت کام کرنے والے تمام اداروں کو ایک سمت میں کام کرنے کیلئے اکٹھا کرنا ہے ۔ صوبائی وزیر صحت نے وفد کے ارکان کو ایڈوائزری کونسل کی آئندہ اجلاس میں شرکت کیلئے دعوت دی جسے انہوں نے قبول کیا ۔ اس موقع پر صحت کے مسائل میں صاف پانی کی اہمیت اور پختونخوا کی جنوبی اضلاع میں عوام کو درپیش مسائل بھی زیر بحث آئے جبکہ وزیر صحت نے وفد کے ارکان سے اس مسئلے میں مدد کرنے کی بھی اپیل کی ۔

  • error: Content is protected !!