Chitral Times

Dec 13, 2018

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • وزیراعلیٰ‌کا سیاحتی مقامات پر کمرشل تعمیرات کی روک تھام کیلئے اقدامات کی ہدایت

    December 6, 2018 at 9:01 pm

    پشاور(چترال ٹائمز رپورٹ )وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے صوبے کے سیاحتی مقامات پر کمرشل تعمیرات کی روک تھام کے سلسلے میں حکومتی ہدایات پر عمل درآمد یقینی بنانے اور سیاحوں کو معیاری سہولیات دینے کیلئے متعلقہ محکموں کو سیاحتی علاقوں میں فعال کرنے خصوصاً صحت کی موبائل سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔ انہوں نے ضلعی سطح پر سیاحوں کیلئے سہولت سسٹم اور رجسٹریشن کا عمل متعارف کرانے اور سیاحوں کو این او سی کی ضرورت سے استثنیٰ دینے کے حوالے سے ٹاسک فورس کی سفارشات سے اصولی اتفاق کرتے ہوئے صاف اور واضح طریقہ کار وضع کرنے کی ہدایت کی اور واضح کیا کہ سیاحوں خصوصاً غیر ملکی سیاحوں کو رہنمائی اور زیادہ سے زیادہ سہولت فراہم کی جائے گی قلعہ بالا حصار ، پائیتھوم عمارت سوات ، پختونخوا ہاؤس کالام اور گلف کورس سوات کو سیاحتی مقاصد کیلئے استعمال میں لانے کی منظوری دی گئی اور معاملے کو اپیکس کمیٹی خیبرپختونخوا کے آئندہ اجلاس میں لے جانے کا فیصلہ کیا گیا تاکہ مذکورہ عمارتوں کی صوبائی حکومت کو واپس منتقلی ممکن ہو سکے۔ وہ وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ پشاور میں سیاحت پر قائم ٹاسک فورس کے دوسرے اجلاس کی صدارت کر رہے تھے۔ سینئر صوبائی وزیر برائے کھیل و سیاحت محمد عاطف خان کے علاوہ صوبائی وزراء شوکت یوسفزئی، اکبر ایوب، اشتیاق ارمڑ، سلطان محمد خان، صوبائی حکومت کے ترجمان اجمل خان وزیر، ایڈیشنل چیف سیکرٹری شہزاد بنگش، انسپکٹر جنرل پولیس صلاح الدین محسود، ایس ایم بی آر، متعلقہ محکموں کے انتظامی سیکرٹریز اور دیگر اعلیٰ حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔اجلاس میں ٹاسک فورس کے پہلے اجلاس کے فیصلوں پر عمل درآمد کا جائزہ لیا گیا اجلاس کو آگاہ کیا گیاکہ فیصلے کے مطابق مختلف محکموں سے مزید نئے اراکین کو ٹاسک فورس میں شامل کر دیا گیا ہے جس کا باضابطہ اعلامیہ جاری ہو چکا ہے وزیراعلیٰ کی سربراہی میں ٹاسک فورس مجموعی طورپر اب21 اراکین پر مشتمل ہے جن میں 6 صوبائی وزراء، چیف سیکرٹری، اے سی ایس ، آئی جی پی، انتظامی سیکرٹریز اور دیگر محکموں کے نمائندے شامل ہیں وزیراعلیٰ نے سیاحتی مقامات پر کمرشل تعمیرات پر پابندی لگانے کیلئے متعلقہ ٹی ایم ایز کو فعال کرنے اور فیصلے پر عمل درآمد کی پیش رفت سے آگاہ کرنے کی ہدایت کی۔ ٹورازم پولیس کی تشکیل کے حوالے سے بتایا گیا کہ بنیادی طور پر محکمہ پولیس 3 سال کیلئے ڈپوٹیشن پر افرادی قوت فراہم کرے گا بعد ازاں ایک مستقل ادارہ قائم کیا جائے گا جس کیلئے نیا قانون بنایا گائے گا ٹورازم پولیس کی تربیت کا انتظام محکمہ سیاحت کرے گا سیاحوں کو این او سی کے مسئلے کو حل کرنے کیلئے ٹاسک فورس کی سفارشات سے اصولی اتفاق کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے رجسٹریشن کے عمل کو پیچیدگیوں سے بالا تر اور آسان بنانے کی ہدایت کی انہوں نے ہدایت کی کہ یہ بھی واضح کیا جائے کہ کونسا علاقہ محدود ہے اور کونسا اوپن ہے، کس کو این اوسی کی ضرورت ہے اور کس کو نہیں۔ وزیراعلیٰ نے سیاحتی علاقوں تک سیاحوں کی آسان رسائی یقینی بنانے کیلئے سڑکوں کی تعمیر و بحالی کی مجوزہ فہرست پر نظر ثانی کرنے اور ترجیحات کا تعین کرنے کی ہدایت کی انہوں نے کہا کہ سیزن میں سیاحوں کو درپیش ٹریفک کا مسئلہ حل کرنا ہے ہزارہ اور ملاکنڈ میں سیاحو ں کیلئے سہولت مراکز اور سروس ایریاز قائم کرنے کیلئے درکار اراضی کی فراہمی کی بھی ہدایت کی گئی اور واضح کیا گیا کہ سیاحت سے متعلقہ تمام تعمیرات دکانیں ، ٹک شاپس ، باتھ رومز اور دیگر سہولیات ماسٹر پلان کے تحت تعمیر کی جائے گی سب میں یکسانیت ہوگی اور اس عمل کیلئے باضابطہ قانون ہوگا وزیراعلیٰ نے سیاحوں کی سہولت کے پیش نظر زیر تعمیر مالم جبہ روڈ کی بروقت تکمیل کی ہدایت کی اجلاس میں قلعہ بالا حصار ، پائیتھون عمارت گل بہار سوات، گلف کورس کبل سوات اور پختونخوا ہاؤس کالام کو سیاحتی مقاصد کیلئے استعمال میں لانے کا فیصلہ کیا گیا اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ قلعہ بالال حصار اور دوسری عمارتیں جو ابھی تک پاک فوج کے زیراستعمال ہے ان کی صوبائی حکومت کو منتقلی کے بعد ہی سیاحت کیلئے استعمال کی جا سکتی ہے اجلاس نے اس معاملے کو اپیکس کمیٹی کے اجلاس میں لے جانے کا فیصلہ کیا اور اس مقصد کیلئے جامع تجویز تیار کرنے کی ہدایت کی گئی وزیراعلیٰ نے اس موقع پر کیلاش میں بھی فی الحال ہوٹلز وغیرہ کی تعمیر پر پابندی لگانے کی ہدیت کی اور واضح کیا کہ ماسٹر پلان کے تحت ہی تعمیرات کی جائیں گے انہوں نے محکمہ سیاحت کے ساتھ رابطے کیلئے دیگر متعلقہ محکموں کے فوکل پرسن نامزد کرنے کی بھی منظوری دی۔

  • error: Content is protected !!