Chitral Times

Nov 16, 2018

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • نجی سکول اور حکومتی رٹ…….. محمد شریف شکیب

    November 7, 2018 at 6:23 pm

    خیبر پختونخوا کے مشیرتعلیم نے خوش خبری سنائی ہے کہ موجودہ حکومت امیر و غریب کے درمیان فرق ختم کرنا چاہتی ہے۔ اگرچہ مشیر تعلیم نے اپنے محکمے کے حوالے سے یہ بات کی ہے تاہم یار لوگوں نے سیاق و سباق سے ہٹا کر بات کو یہ رنگ دینے کی کوشش کی ہے۔ کہ غریب کو امیر بنانا تو ممکن نہیں۔ شاید حکومت امیروں کو بھی غریب کرکے سب کو ایک ہی سطح پر لاناچاہتی ہے۔امیر و غریب ازل سے معاشرے کے دو اہم طبقے رہے ہیں اور ابد تک یہ نظام قائم رہے گا۔ دونوں طبقوں میں تفاوت ختم کرنے کی کوشش قانون فطرت کے منافی ہے۔ لیکن تعلیم کا شعبہ ایسا ہے جہاں تفاوت کا خاتمہ ضروری ہے۔بنیادی فرق سکول کی عمارت، دستیاب سہولیات اور اساتذہ کی تعدادکا نہیں۔بلکہ نصاب اور طریقہ تدریس کا ہے۔ سرکار کے سکولوں میں تمام بنیادی سہولیات موجود ہیں۔ ان کے پاس اساتذہ کی بھی پوری فوج ہوتی ہے۔ ان میں انتہائی قابل اساتذہ بھی شامل ہیں۔ لیکن وہ بچوں کو جو کچھ پڑھاتے ہیں وہ مواد فرسودہ اور زائد المعیاد ہوچکا ہے۔ چالیس سال قبل پرائمری جماعت کے نصاب میں جو مضامین شامل تھے۔ آج بھی بچوں کووہی مضامین پڑھائے جا رہے ہیں۔ جب تک نصاب کو عصری تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں کیا جاتا۔ بڑی بڑی عمارتوں کی تعمیر اور تمام سہولیات کی فراہمی سے بھی کوئی فرق پڑنے والا نہیں۔ جس کا ثبوت یہ ہے کہ گذشتہ پندرہ بیس سالوں سے صوبے کے کسی تعلیمی بورڈکے کسی بھی امتحان میں سرکاری سکول کا کوئی طالب علم پوزیشن نہیں لے سکا۔ دوسری اہم بات مشیر تعلیم نے یہ کی ہے کہ نجی تعلیمی اداروں کو ریگولیٹ کرنے کے لئے ریگولیٹری اتھارٹی کو ہدایات دی گئی ہیں۔زمینی حقائق حکومتی دعووں کے برعکس ہیں۔نجی تعلیمی ادارے کبھی حکومت کے کنٹرول میں رہے اور نہ آئندہ اس کے امکانات ہیں۔ نجی تعلیمی ادارے ریاست کے اندر الگ ریاست ہیں۔ان میں پڑھنے والے بچوں کی بھی حکومت سرپرستی نہیں کرتی۔اور ان کے حوالے سے حکومت کا رویہ سوتیلی ماں جیسا رہا ہے۔ نجی اداروں پر عدالتوں کا بھی حکم نہیں چلتا۔ جس کا ثبوت یہ ہے کہ عدالت عالیہ اور پرائیویٹ سکولز ریگولیٹری اتھارٹی نے گرمائی تعطیلات سے قبل پرائیویٹ سکولوں کو احکامات جاری کئے تھے کہ وہ بچوں سے چھٹیوں کی نصف فیس وصول کریں اور ٹرانسپورٹ فیس وصول نہ کریں۔ سگے بہن بھائیوں کو فیسوں میں قانون کے مطابق رعایت دی جائے۔ اور ریگولیٹری اتھارٹی کی اجازت کے بغیر کوئی سکول فیسوں میں اضافہ نہیں کرسکے گا۔ نجی سکولوں کے مالکان یہ کیس سپریم کورٹ لے گئے۔ عدالت عظمیٰ نے کیس واپس ہائی کورٹ کو بھیجا کہ والدین کا موقف بھی معلوم کرکے ایک مہینے کے اندر فیسوں کے حوالے سے حتمی فیصلہ کیا جائے۔اسی دوران پرائیویٹ سکولوں نے بچوں سے نہ صرف پوری فیس وصول کرلی بلکہ ٹرانسپورٹ فیس بھی والدین سے بٹور لی۔ فیس نہ دینے والے بچوں کو سکول میں داخل ہونے سے روک دیا گیا۔ والدین نے بچوں کے تعلیمی مستقبل کی خاطراس یقین دہانی پر پوری فیسیں جمع کرادیں کہ اگر عدالت نے آدھی فیس کا فیصلہ برقرار رکھا تو اسے نومبر دسمبر کی فیس میں ایڈجسٹ کیا جائے گا۔اپنا زور دکھانے کے لئے نجی سکولوں نے فیسوں میں بیس سے تیس فیصد اضافہ بھی کردیا۔ اور سالانہ ترقیاتی فنڈ کے نام پر والدین سے الگ تین سے پانچ ہزار روپے فی بچہ وصول کیا۔تاکہ حکومت اور والدین کو یہ باور کرایا جاسکے۔ نجی سکولوں پر حکومت کا قانون نہیں چلتا۔یہ تمام حقائق ڈھکے چھپے نہیں ہیں۔ صوبائی وزراء، ارارکین قومی و صوبائی اسمبلی ،اعلیٰ سرکاری افسران اور سرکاری تعلیمی اداروں کے اساتذہ کے بچے بھی پرائیویٹ سکولوں میں پڑھتے ہیں۔اس لئے حکومت اور محکمہ تعلیم کے پاس یہ جواز نہیں کہ انہیں عدالتی اور سرکاری احکامات نجی سکول مالکان کی طرف سے جوتی کی نوک پر رکھنے کا علم نہیں تھا۔اگر واقعی عوامی حکومت تعلیم کے شعبے میں امیروغریب کا فرق ختم کرنا چاہتی ہے تو سرکاری سکولوں میں بھی وہی نصاب لاگو کرے جو پرائیویٹ سکولوں میں پڑھایا جاتا ہے۔ اور نجی سکولوں کے حوالے سے فیصلوں اور احکامات پر عمل درآمد کرکے ثابت کرے کہ ریاست کی رٹ ناقابل چیلنج ہے۔

  • error: Content is protected !!