Chitral Times

Nov 16, 2018

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • شکریہ… شہزادہ سکندر الملک….شکریہ پی ٹی آئی

    November 9, 2018 at 6:40 pm

    قومیں تحریک سے اٹھتی ہیں، لیڈر قوم کو محرک رکھتا ہے، قوم کی آواز بن جاتا ہے، قوم کا اعتماد ہوتا ہے اور قوم کی طاقت بن جاتا ہے۔
    خوش نصیب ہے وہ قوم جو اپنے لئے مخلص لیڈر یا رہنما چنتی ہے، اس کے نقشِ قدم پر چلتی ہے اور ریاست کی تعمیر و ترقی میں اپنا کردار ادا کرتی ہے ۔ بقولِ شاعر
    زمانہ کہ رہا ہے میں نئی کروٹ بدلتا ہوں۔
    انوکھی منزلیں ہیں کچھ نرالے رہنما چن لیں۔۔

    جی ہاں! اللّٰہ رب العزت کی ہم پر بے شمار مہربانیوں میں سے ایک مہربانی یہ ہے کہ خدائے بزرگ و برتر نے ہمیں کچھ نرالے اور نایاب رہنما عطا فرمایا ہے۔ اللّٰہ تبارک وتعالیٰ سے دعا یہ ہے کہ ہمیں وہ شعور بھی عطا فرمائے جس سے ہم ان نرالے اور ممتاز رہنماؤں کو سمجھ سکیں اور انھیں اپنی راہنمائی کی زمے داری سونپیں۔ آمین

    شہزادہ سکندر الملک، فخرِ قومِ کھو، عزتِ چترال کسی تعارف کا الحمد لله محتاج نہیں، ان کی سماجی ،سیاسی، ثقافتی خدمات شمار سے زیادہ ہیں اور معاشرے کی تعمیر و ترقی کے لئے ان کی لگن، کوشش اور محنت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔

    ان کی شخصیت کو نہ صرف چترال بلکہ پاکستان سمیت دنیا بھر میں قدر و عزت کی نگاہ سے دیکھی جاتی ہے ان کی کئی صفات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ وہ ایک با اثر انسان ہیں جس کا ثبوت دینے کے لئے یہ چھوٹی سی ویڈیو کافی ہے ۔

    سال 2017 میں وزیر اعلیٰ خیبر پختونخواہ پرویز خٹک نے کئ بار کوشش کی کہ شہزادہ اسکندر المک کو پارٹی میں لایا جائے اور پارٹی کو مظبوط بنایا جائے، بہت کوششوں کہ بعد بلاخر پرویز خٹک صاحب سکندر الملک کو قائل کرنے میں کامیاب ہوئے مگر اسکندر الملک نے صرف ایک شرط پر پارٹی میں شمولیت اختیار کرنے پر حامی بھرلی کہ اپر چترال کو الگ ضلع بنایا جائے ۔

    اب یہ مطالبہ عمل درامد کروانے کے لئے سب سے مشکل تھا، یہ لواری ٹنل منصوبے سے بھی بڑا مطالبہ تھا جس کا ثبوت یہ ہے کہ ٹنل بھی بلاخر بن ہی گئی مگر ضلع اپر چترال نہ بن پایا، وہ اس لئے کہ ضلع بنانے میں حکومتی خزانے سے ہر سال اربوں روپے جاری کرنے ہوتے ہیں اور قانونی پیچیدگیوں کی وجہ سے اس مطالبے کو ماننا نہایت مشکل مرحلہ تھا، مگر چونکہ اسکندر الملک کی پارٹی میں شمیولیت سے پارٹی ناقابلِ یقین طور پر مظبوط ہوسکتی تھی لہذا پرویز خٹک سمیت جناب عمران خان صاحب نے نہ صرف یہ دیرینہ مطالبہ تسلیم کیا بلکہ 4 جولائی 2017 کو شہزادہ صاحب کے قلعے واقع مستوج میں تشریف لاکر ان کو پارٹی میں شمولیت کی دعوت دی۔

    شہزادہ صاحب نے دعوت قبول کرلی اور فرمایا کہ میں بے شک ایک کارکن کی حیثیت سے پارٹی کے لئے کام کرونگا مگر آپ کو میرے مطالبے پر جلد از جلد عملدرآمد کروانا ہوگا، آپ نے واقعی ایک کارکن کی حیثیت سے کام کیا اور آج تک پارٹی کے لئے بے شمار خدمات انجام دے چکے ہیں، یہی وجہ ہے کہ تحریک انصاف آج چترال میں ناقابل شکست جماعت بن کر ابھر رہی ہے ۔

    8 نومبر 2017 کو چترال میں جلسہ منعقد ہوا، جلسے میں پی ٹی آئی کے مرکزی چیرمین جناب عمران خان بھی تشریف لائے تھے، اس وقت کے وزیر اعلیٰ جناب پرویز خٹک نے نئے ضلعے کا باقاعدہ اعلان کیا اور قانونی پیچیدگیوں کے باعث ٹھیک ایک سال کے بعد یعنی آج خیبر پختونخواہ کی صوبائی اسمبلی میں ضلع اپر چترال کے باقاعدہ قیام کا بل بھی پاس ہوگیا۔

    یہ معرکہ بلاخر سر ہوگیا، سلام ہے قوم کے اس باعث فخر فرزند پر جس نے آج ثابت کردیا کہ وہ واقعی میں اسکندر الملک ہیں ۔
    آپ کے علاوہ پی ٹی آئی چترال کی قیادت، خصوصاً جناب عبدالطیف صاحب، جناب حاجی رحمت غازی صاحب اورجناب اسرار صبور صاحب سمیت تحریک انصاف چترال کے ہر اس لیڈر یا کارکن کو عوام کا سلام جن کی کوششوں سے یہ ناقابلِ یقین مشکل حل ہوگئ۔

    اقلیتی سیٹ پر منتخب ہونے والے قابل احترام فرزند ایم پی اے وزیر زادہ کا بھی ہم مشکور ہیں کہ انھوں نے بل پاس کرانے میں نہایت ہی اہم کردار ادا کیا۔

    انشا اللّه چترالی قوم اپنی وفا شعاری کی وجہ سے دنیا بھر میں مشہور ہے لہذا ہم آپ کو یقین دلاتے ہیں کہ ہم شہزادہ اسکندر الملک اور تحریک انصاف کی ان بے مثال خدمات کو کبھی نہیں فراموش نہیں کرینگے اور ہم ان کی اور وہ ہماری طاقت بن کر فلاحی معاشرے کا سفر جاری رکھیں گے ۔ ایک بار پھر شکریہ شہزادہ اسکندر الملک، شکریہ پی ٹی آئی چترال۔

    منجانب: اہلیانِ یارخون، لاسپور

  • error: Content is protected !!