Chitral Times

Apr 18, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

عالمی تنہائی کا حکومتی اعتراف………. محمد شریف شکیب

Posted on
شیئر کریں:

قومی سلامتی سے متعلق وزیراعظم کے مشیر ناصر جنجوعہ نے اعتراف کیا ہے کہ عالمی برادری دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں کو قدر کی نگاہ سے نہیں دیکھتی۔امریکہ نے کشمیر پر بھارت سے گٹھ جوڑ کر رکھا ہے۔ اور پاکستان کے جوہری پروگرام کو خطرہ قرار دے کر اسے ختم کرنے کے لئے دباو ڈالا جارہا ہے۔ مشیرقومی سلامتی کا یہ بھی کہنا تھا کہ امریکہ افغانستان میں طالبان کے ہاتھوں اپنی شکست کا بدلہ پاکستان سے لینا چاہتا ہے۔ دوسری جانب امریکہ کی شہ پر بھارت مسلسل پاکستان کو روایتی جنگ کی دھمکیاں دے رہا ہے جس سے جنوبی ایشیاء میں جوہری تصادم کا خطرہ ہے۔ قومی سلامتی کے مشیر کا یہ بیان حکومتی پالیسی کی ناکامی کا اعتراف ہے ۔ اس وقت پاکستان نہ صرف اندرونی طور پر بدامنی، دہشت گردی، مہنگائی، بے روزگاری ، غربت کی شرح میں اضافے ، بجٹ خسارے اور افراط زر جیسے مسائل سے دوچار ہے بلکہ اس کے روایتی حلیف ممالک بھی حریفوں کی صف میں جارہے ہیں۔ پڑوسی اسلامی ملک افغانستان کے ساتھ ہمارے تعلقات انتہائی کشیدہ ہیں جبکہ دوسری جانب سب سے پہلے پاکستان کو تسلیم کرنے والا پڑوسی اسلامی ملک ایران بھی بھارت کے ساتھ دوستی کی پینگیں بڑھا رہا ہے۔ اور چاربہا بندرگارہ سے بھارت کو تجارت کی سہولیات مہیا کرنا اس کا تازہ ترین ثبوت ہے۔ مشرق وسطیٰ کے اسلامی ممالک بھی امریکی اثرورسوخ کی وجہ سے پاکستان کے ساتھ سردمہری کا برتاو کر رہے ہیں۔ خلیجی ممالک نے ہمارے ہزاروں محنت کشوں کو مالی بحران کا بہانہ بناکر واپس کردیا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف امریکہ کی جنگ میں غیر مشروط طور پر شامل ہونے کے باوجود واشنگٹن بھی ہمیں گھاس نہیں ڈال رہا۔ اور امریکی صدر ، ایوان نمائندگان، سینٹ اور وزیر خارجہ تک سب ہی پاکستان سے ڈومور کا تقاضا کر رہے ہیں ۔ انہوں نے حقانی نیٹ ورک ختم نہ کرنے اور طالبان کی حمایت جاری رکھنے کی صورت میں پاکستان کی مالی امداد بند کرنے کی بھی دھمکی دی ہے۔صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے حالیہ بیان میں صاف کہہ دیا ہے کہ امریکہ ہر سال پاکستان کو بھاری امداد دیتا ہے جس کے بدلے میں ہمیں پاکستان سے کیا ملا ہے؟یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ امریکی جنگ میں حلیف اور مددگار بننے کے جرم میں پاکستان کو جانی اور مالی لحاظ سے ناقابل تلافی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ ہمارے پچاس ہزار سے زیادہ افسران، جوان، خواتین اور بچے اس بے نتیجہ جنگ کی نذر ہوگئے۔ اربوں ڈالر کا مالی نقصان برداشت کرنا پڑا۔ اس جنگ میں امریکہ سمیت کسی اتحادی نے پاکستان جتنی قربانی نہیں دی۔ لیکن بدقسمتی سے ہم عالمی برادری کو باور نہیں کراسکے۔ ساڑھے چار سال تک جس ملک کا وزیرخارجہ ہی نہ ہوا۔ اس کو قوموں کی برادری میں تنہائی کا سامنا کرنا ہی پڑتا ہے۔ہم نے عارضی مالی فائدے کو ہی اپنا قومی مفاد قرار دیا ہے۔ یہ درست ہے کہ جس ریاست کی مالی پوزیشن کمزور ہو۔ اعلیٰ تربیت یافتہ فوج اور بہترین ہتھیار بھی اس کی بقاء اور سلامتی کی ضمانت نہیں بن سکتے۔ سابق سوویت یونین کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حکومت نے امریکہ اور عالمی مالیاتی اداروں کی طرف سے بچھائے گئے قرضوں کے جال سے نکلنے اور خود انحصاری کی منزل تک پہنچنے کے لئے گذشتہ ایک عشرے میں کیا کیا ہے؟زرخیز زمین اور وافر مقدار میں آبی ذخائر ہونے کے باوجود ہم اشیائے خوردونوش یہاں تک کہ آلو، ٹماٹر اور پیاز تک بھارت سے درآمد کرتے ہیں۔اور جب وہ سپلائی روک دیتے ہیں تو ہمارے قیمتیں آسمان تک پہنچ جاتی ہیں۔زرعی، صنعتی، تعلیمی اور ٹیکنالوجی کے میدان میں ترقی اور استحکام کے لئے کونسے بڑے منصوبے شروع کئے گئے؟سیاست دان اپنے کمیشن کے لئے بین الاقوامی مالیاتی اداروں سے قرضے ہی لیتے رہے ۔خود تو بیرون ملک بینک بیلنس، اثاثے اور آف شور کمپنیاں بنائیں۔لیکن غریب قوم کا بال بال بیرونی قرضوں میں جکڑا ہوا ہے۔ موجودہ حکومت چار سالوں میں ملکی تاریخ میں سب سے زیادہ قرضے لئے ہیں۔ایک مقروض قوم کی آواز کوئی نہیں سنتا۔ اپنے ملازمین کو تنخواہیں دینے کے لئے جب باہر سے قرضے لینے پڑیں تو ہم سراٹھاکر کسی سے بات کیسے کرسکتے ہیں ؟اور ہماری بات کا کون اعتبار کرے گا؟اور قوم جب تک سیاسی مداریوں کے نرغے میں رہے گی اور اپنے ضمیر کے فیصلے پر ووٹ کا حق استعمال نہیں کرے گی۔اصلاح احوال کی کوئی صورت نظر نہیں آرہی۔


شیئر کریں: