Chitral Times

Apr 22, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

وزیرخارجہ کا معصومانہ مشورہ …….. محمد شریف شکیب

Posted on
شیئر کریں:

ہمارے وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف نے سماجی رابطوں کی ویپ سائٹ ٹوئیٹر پر امریکہ کو مشورہ دیا ہے کہ وہ پاکستان کو دھمکانے کے بجائے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہمارے تجربے سے استفادہ کرنے کی کوشش کرے تاکہ اس لامتناہی جنگ کو منطقی انجام تک پہنچایا جاسکے۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے بھی امریکی نائب صدر کے بیان پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہماری امن پسندی اور شرافت کو کمزوری سے تعبیر نہ کیا جائے۔ انہوں نے امریکی حکومت کو یہ باور بھی کرانے کی کوشش کی کہ پاکستان کا جوہری پروگرام محفوظ اور ملک کا دفاع مضبوط ہاتھوں میں ہے۔ اس دوران امریکہ میں تعینات پاکستان کے سفیراعزاز چوہدری نے واشنگٹن میں پاکستانی سفارتخانے میں شہدائے اے پی ایس کی یاد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان نے دہشت گردوں کے خلاف تیرہ فوجی آپریشن کئے ہیں۔ اب تک اس جنگ میں چھ ہزار آٹھ سو سیکورٹی اہلکاروں سمیت اکیس ہزار شہری لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ دہشت گردی کے خلاف ہماری نہیں تھی بلکہ ہم پر مسلط کی گئی۔ دوسروں کی جنگ میں اتنی قربانیاں دینے کے باوجود ان کا اعتراف نہ ہونا افسوس ناک ہے۔ دوسری جانب کابل کے دورے پر آئے ہوئے امریکی نائب وزیرخارجہ نے پاکستان کو خبردار کیا ہے کہ اگر دہشت گردوں کو پناہ دینے کا سلسلہ بند نہ ہوا۔ تو پاکستان کو بہت کچھ کھونا پڑے گا۔حیرت کی بات ہے کہ امریکی جب بھی افغانستان کے دورے پر آتے ہیں تو بھارت کی زبان بولنے لگتے ہیں۔ حالانکہ انہیں اچھی طرح معلوم ہے کہ پاکستان پانامہ، یمن، لبنان، چیک رپبلک یا تبت جیساکوئی چھوٹا موٹا ملک نہیں۔ بلکہ بیس کروڑ کی آبادی اور جوہری طاقت رکھنے والا مضبوط اسلامی ملک ہے۔ پاکستان نے ہی سوویت یونین کو افغان سرزمین پر شکست دینے میں بنیادی کردار ادا کیا تھا۔ اور اس امریکی جنگ کے نتیجے میں بے گھر ہونے والے چالیس لاکھ افغانیوں کو 38سالوں سے پال رکھا ہے۔جس کی مثال دنیا کا کوئی ملک نہیں دے سکتا۔ نائن الیون کے پراسرار واقعے کی آڑ میں جب امریکہ نے افغانستان میں طالبان حکومت پر یلغار کی ۔توامریکی صدر جارج بش نے یہ اعلان کیا کہ دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں جو امریکہ کا اتحادی نہیں بنے گا۔اسے دہشت گردوں کا ساتھی تصور کیا جائے گا۔ امریکہ کے شر سے بچنے کے لئے جب تمام بڑے ممالک نے اتحاد میں شامل ہونے کا اعلان کیا تو پاکستان کو بھی بہ امر مجبوری حامی بھرنی پڑی۔ گذشتہ سولہ سالوں سے جاری اس لامتناہی جنگ میں پاکستان نے فرنٹ لائن اسٹیٹ کا کردار ادا کیا۔ اور سب سے زیادہ جانی و مالی نقصان اٹھایا۔اس کے باوجود جارج بش اور بارک اوبامہ سے لے کر ڈونلڈ ٹرمپ تک سب ہی پاکستان سے ڈومور کا تقاضا کرتے رہے۔لیکن اب بات تقاضے سے بڑھ کر دھمکیوں تک پہنچ گئی ہے۔ جس کا ٹھوس اور ترکی بہ ترکی جواب دینے کا وقت آگیا ہے۔ امریکہ کی معاندانہ اور ناقابل قبول پالیسی کے پیش نظر اب پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف جنگ سے اپنے پاوں نکالنے ہوں گے۔امریکہ کی دوغلی پالیسی کی وجہ سے نہ صرف برادر ہمسایہ ملک افغانستان ہمارے خلاف ہوگیا ہے بلکہ امریکہ نے دانستہ طور پر بھارت کو افغانستان میں مرکزی کردار دے رکھا ہے ۔مختلف افغان صوبوں میں قائم بھارتی قونصل خانے پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے تربیتی مراکز بن چکے ہیں۔ اگر امریکہ کو اپنے دفاع کے لئے سات سمندر پار آکر اٖفغانستان میں فوجی کاروائی کا اختیار حاصل ہے تو ایک ایٹمی قوت رکھنے والے ملک پاکستان کو بھی اپنے دفاع میں کسی بھی ملک میں دہشت گردوں کے ٹھکانے تباہ کرنے کا حق حاصل ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہمارے تجربے سے سیکھنے کا امریکہ کو مشورہ دینا بچگانہ حرکت ہے۔ بدقسمتی سے ہماری قیادت اپنے سیاسی مفادات اور اقتدار کی خاطر امریکہ کو خوش رکھنے پر مجبور ہے۔ لیکن پاکستان کے بیس کروڑ عوام کو امریکی خوشنودی کی ضرورت نہیں۔ ہم امریکی امداد کے بغیر بھی زندہ رہ سکتے ہیں۔ امریکی امداد سے پاکستانی عوام کو نہیں ۔صرف مفاد پرست ٹولے کو فائدہ ہے۔ اور قومی سلامتی کی قیمت پر قوم اس ٹولے کی غیر ملکی امداد پر مزید عیاشیاں برداشت کرنے کی متحمل نہیں ہوسکتی۔


شیئر کریں:
Posted in تازہ ترین, مضامینTagged ,
3618