ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن لویر چترال کے صدر نے چترال شندور روڈ میں مبینہ بے قاعدگیوں، غیر معیاری کام اور غیر معمولی تاخیر کاسبب بننے پر متعلقہ حکام کے خلاف ایف آئی ار کے لئے درخواست جمع کرادی
چترال (نمائندہ چترال ٹائمز ) ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن لویر چترال کے صدر ساجد اللہ ایڈوکیٹ نے چترال شندور روڈ میں مبینہ بے قاعدگیوں، غیر معیاری کام اور غیر معمولی تاخیر کاسبب بننے پر نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے چترال بیسڈ افسران، پراجیکٹ کنسلٹنٹ اور کنسٹرکشن فرم کے پراجیکٹ منیجر کے خلاف سرکاری ترقیاتی فنڈز میں خیانت کا مرتکب ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے تعزیرات پاکستان کے د فعات 406، 408اور 409کے تحت ایف آئی آر کے اندراج کے لئے سٹی پولیس اسٹیشن میں درخواست جمع کرادی۔ بدھ کے روز ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کے ممبران وقاص احمد ایڈوکیٹ اور دوسروں کے ہمراہ جلوس کی شکل میں تھانہ پہنچ کر درخواست ایس ایچ او منیر الملک کو پیش کردی۔ درخواست میں این ایچ اے کے پراجیکٹ منیجرتنویر اسحاق، پراجیکٹ ڈائرکٹر ظاہر الدین، کنسلٹنٹ فرم کے انجینئر الطاف حسین اور کنسٹرکشن فرم کے پراجیکٹ ڈائرکٹر محمد عرفان کو نامز د کرتے ہوئے موقف اختیار کیا گیا ہے کہ حکومت پاکستان کے خزانے سے اس روڈ پرپراجیکٹ کے لئے ریلیز کردہ اربوں روپے اس پراجیکٹ پر پوری طرح خرچ نہیں ہوئے جس کے نتیجے میں اب تک تیار شدہ کام انتہائی ناقص اور غیر معیاری ہے جس میں این ایچ اے، کنسلٹنٹ فرم اور عمر جان کنسٹرکشن کمپنی برابر کے شریک ہیں جو کہ ترقی کے لئے مختص فنڈز میں خرد برد کرکے خیانت کا ارتکاب کیا ہے جس سے چترال کے عوام بری طرح متاثر ہورہے ہیں۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ ان ملزمان کی بددیانتی کی وجہ سے اس روڈ پراجیکٹ میں مکمل کردہ مختلف قسم کے اسٹرکچر ز گزشتہ موسم سرما کی برفباری کے دوران کاغذ کے گھروندوں کی طرح زمین بوس ہوگئے ہیں جبکہ ناقص تعمیر سے کئی مہلک ٹریفک حادثات بھی رونماہوئے جس کے نتیجے میں کئی قیمتی انسانی جانیں بھی ضائع ہوگئے۔ درخواست میں کہاگیا ہے کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 154کے تحت حاصل اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے ایس ایچ او ملزمان کے خلاف تعزیرات پاکستان کے مذکورہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کرنے کا پابند ہے۔ دریں اثناء ایس ایچ او سٹی تھانہ چترال منیر الملک سے رابطہ کرنے پر میڈیا کو بتایاکہ چونکہ یہ اپنی نوعیت کا پہلا کیس ہونے کی وجہ سے لیگل برانچ سے قانو نی رائے کے حصول کے لئے رجوع کیا گیا ہے جہاں سے ملنے والی جواب کے بموجب کاروائی کی جائے گی۔
