بونی بوزند روڈ میں مبینہ کرپشن کے خلاف احتجاج کرنے پر گرفتار ٹی ٹی أر ایف رہنماؤں کی ضمانت منظور، ڈسٹرکٹ جیل چترال سے رہا، تورکہو روڈ کےلئے ہرقسم کی قربانی دینے کاعزم
ہم نے ایکسین سی اینڈ ڈبلیو کی طرف سے تورکہو روڈ میں ایڈوانس پیمنٹ کی نشاندہی کی اور مبینہ کرپشن سے صوبائی حکومت کواگاہ کرنا چاہاتوہمیں گرفتار کیا گیا جبکہ کرپشن کے بے تاج بادشاہ آزاد گھوم رہے ہیں۔ وقاص احمد ایڈوکیٹ
چترال ( نمائندہ چترال ٹائمز ) بونی بوزند تورکہو روڈ کی تعمیر میں غیر معمولی تاخیر اور سی اینڈ ڈبلیو ایکسین کی مبینہ کرپشن کے خلاف آواز اُٹھانے اور احتجاجی مظاہرہ کرنے کے پاداش میں گرفتار کیے گئے ٹی ٹی أر ایف رہنماؤں کی ضمانت مقامی عدالت نے منظور کی اور انہیں رہا کرنے کا حکم دے دیا۔جس کے بعد دنین جیل سے انھیں رہا کردیا گیا،رہائی کے موقع پر دنین جیل کے سامنے لوگوں کی ایک کثیر تعداد نے اسیر رہنماوں کا استقبال کیا، اور انھیں ہار پہنائے گئے اور پھولوں کی پتیاں اُن پر نچھاور کیئے گئے۔
ضمانت کی درخواست کی سماعت اپر ضلع کے ہیڈکوارٹرز بونی میں قائم مقامی عدالت نے کی۔
ٹی ٹی آر ایف رہنماؤں کے وکیل جلال الدین ایڈوکیٹ کے دلائل سننے کے بعد عدالت نے 80 ہزار مچلکوں کے عوض رہنماؤں کی ضمانت منظور کی۔
ٹی ٹی أر ایف رہنماؤں کی درخواست ضمانت کی پیروی جلال الدین ایڈوکیٹ اور شمس عالم ایڈوکیٹ نے کی۔ ٹی ٹی أر ایف کے وکیل نے اس ایف أئی أر میں قانونی جھول اور بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی۔
وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ایف أئی أر بددیانتی پر مبنی ہے اور ایف أئی أر مبینہ وقوعے کے چھ دن کی تاخیر سے درج کی گئی ہے اور اس تاخیر کی کوئی وجہ بھی نہیں بتائی گئی ہے۔۔
پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ ٹی ٹی أر ایف اس موقع پر واضح کرتی ہے کہ ہمارے ستر اور 75 سال کے بزرگوں کو کچہریوں اور جیلوں میں خوار کرنے والے منتخب نمایندوں اور سرکاری حکام کو نہ بھولے گی اور نہ بھولنے دے گی اور ان کے خلاف تمام أئینی، قانونی، جمہوری اور رائے عامہ کے فورم استعمال کرے گی۔
جیل سے رہائی کے بعد ٹی ٹی آریف اور سی ڈی ایم کے رہنما وقاص احمد ایڈوکیٹ نے کہا کہ ہمیں افسوس اس بات پر ہورہا ہے کہ ہم مبینہ کرپشن کے خلاف آواز اُٹھانے پر ہمیں گرفتار کیا گیا، جبکہ ہم نے سرکا ر کا ایک گملہ تک نہیں توڑے تھے صرف اپنا آئینی احتجاج کرکے حکومت اور متعلقہ اداروں کے نوٹس میں یہ بات لاناچاہتے تھے کہ محکمہ سی اینڈ ڈبلیو کے ذمہ داروں کی طرف سے ٹھیکہ دار کے ساتھ ملی بھگت سے کروڑوں روپے مبینہ طور پر کرپشن کے نذر ہوگئے ہیں اور گزشتہ سولہ برسوں سے ایک آرب سے زیادہ رقم قومی خزانے سے خرچ ہونے کے باوجود آٹھائیس کلومیٹر روڈ تعمیر نہ ہوسکی ہے۔
انھوں نے اس بات پر انتہائی افسوس کا اظہار کیا کہ پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت کرپشن کے خلاف بلندوبالا دعوے کررہی تھی ، جبکہ عمران خان کا بھی یہی وژن تھا کہ محکموں سے کرپشن کا خاتمہ کیا جائیگا، مگر اُسکی وژن کو ان سنی کردی گئی ہے اور مختلف تعمیراتی اداروں میں کرپشن کا بازار گرم ہے ، ہم نے ایکسین سی اینڈ ڈبلیو کی طرف سے تورکہو روڈ میں ایڈوانس پیمنٹ کی نشاندہی کی اور مبینہ کرپشن سے صوبائی حکومت کواگاہ کرنا چاہاتوہمیں گرفتار کیا گیا جبکہ کرپشن کے بے تاج بادشاہ آزاد گھوم رہے ہیں۔ جوکہ افسوس ناک اور جسکی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے، وقاص احمد نے گرفتاری کے دوران اُن کی رہائی کے لئے کوشش کرنے اور جیل میں ملاقات کرنے والے تمام عمائدین کا شکریہ بھی ادا کیا۔
جیل سے رہائی کے بعد ٹی ٹی آرایف کے رہنماوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ہم کرپشن کے خلاف ہرقسم کی قربانی کےلئے تیار ہیں، حکومت جس طرح چاہے ہمیں سزا دیں ہم اپنے موقف سے ہٹنے کےلئے کسی صورت تیار نہیں، ہم عید کے بعد صوبائی حکومت کی طرف سے وعدے کا انتظار کریں گے، اگر وعدہ ایفا نہ ہوا تو بھرپور احتجاج کریں گے ، اور اپنا حق لینے تک پرآمن احتجاجی مظاہرے جاری رہیں گے۔



