The Voice of Chitral since 2004
Thursday, 23 April 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

کرپشن …………….تحریر:نوالھدی ٰ لیفتالی

ہمارے ملک میں ہمارے معاشرے میں علم کا سہارہ دے کر جہالت کو فروغ دیا جا تا رہا ہے ہر بات کی الٹی معنی دی جاتی ہے ۔ جہاں بھی دیکھیں ملک کی اداروں کو کرپشن کی بیماری نے جگڑرکھا ہوا ہے ۔ کرپشن ایک بد یانت عمل ہے ۔ پاکستان میں کرپشن کا بڑھتا ہوا رجحان اس ملک کا مقدر بنتا جا رہا ہے ۔ ملک کی مقدس اداروں میں بیٹھے ہو ئے اعلی درجے کے افسران کرپشن کے لغنت میں بڑی طرح مبتلا ہیں ۔ جبکہ ہم صرف کرپشن کو صرف پیسے کی ریل پھیل پر لا کر ختم کر دیتے ہیں ۔ کرپشن ایک ایسی سماجی برائی ہے جس کی اس معاشرے میں کئی شکلیں موجود ہیں کرپشن کی سب سے بد ترین شکل ہمارے ملک ہمارے معاشرے ، ہمارے سیاسی رہنمانوں ، حکمرانوں اور ملک کے اداروں میں بھیٹے ہو ئے ذمہ لوگوں کا اس میں ملوث ہو نا ہوا ہے ملک کی سیاسی نمائندے اور حکمران جو اقتدار میں رہتے ہو ئے اپنے سیاسی مقاصد اپنے ذاتی مفاد کے لئے اپنے اختیارات کا غلط استعمال ، اداروں میں بیٹھے ہو ئے اعلی عہدوں پر بر جماں لو گوں کو لالچ دے کر اس کرپشن کی طرف راغب کر تے ہیں ۔

جو نہ صرف اداروں کی بد نامی کا سبب بنتے ہیں ۔ بلکہ اپنے ملازمت ، اپنے ملک کی معاشی نظام کے ساتھ ساتھ آنے والی ہماری نسلوں کو غلط اور گمراہی کا راستہ دیکھادیتے ہیں ۔ کرپشن صرف پیسے کی ہیرا پھری کا نام نہیں ہے ۔ بلکہ اپنے ملازمت ، اپنے پیشے میں رہ کر اپنے اختیارات کی غلط استعمال اور اپنے پیشے وکا م سے لا پرواہی بھی کرپشن کے زمرے میں آتا ہے ۔ جس کی وجہ سے معاشرے میں ادارے اپنی اصلیت کھو دیتے ہیں اور لوگوں کا اداروں سے اعتماد بھی اٹھ جا تا ہے ۔ کرپٹ اور نا اہل لو گوں کا اعلی اداروں کی ذمہ داری سونپ دینا ہی کرپشن کی ابتدء ہے ۔

ہمارے حکمران اور ملک کی ہر ادارے میں بیٹھے ہو ئے ہمارے نااہل لو گ کرپشن کو اپنا کمائی کا ذریعہ سمجھتے ہیں اور اپنے زندگی بسر کر نے کا واحد راستہ انھیں صرف کرپشن کی صورت میں نظر آتا ہے ۔ اس کی حقیقت یہ ہے یہ لوگ چور دروازے سے ان اداروں میں آکے بیٹھ گئے ہیں اور ملک و معاشرے میں کرپشن جیسی بیماری کو پھیلانے میں ان کا ہم کر دار ہے۔۔
وطن عزیز میں کرپشن نے ہماری زندگی کے ہو گوشے کو متاثر کیا ہوا ہے ۔ اس سکی جڑین ہمارے معاشرے میں اس قدر مضبوط ہو چکی ہیں اسے ہم وقت کا اہم تقاضا تصور کر تے ہیں ۔

یہ بیماری اس قدر خطرناک اینا اثر دیکھا جا چکی ہے کہ بس اڈوں میں فرنٹ سیٹ کے لئے بھی اڈے کے منشی اور ڈرائیور کو رشوت دینا پڑتا ہے ۔ اداروں میں اپنے فائل پہلے نمبر پر لا نے کے لئے کلرک کو بھی رشوت دی جا تی ہے اگر یہ ہی ہمارے معاشرے کا حال رہا تو ایک دن ہمیں اس ملک کو بھی رشوت میں دینا پڑے گا ۔

ملک میں غربت اور کرپشن کے خاتمے کے لئے اقدامات کئے جا رہے ہیں ۔ جبکہ اس وقت پاکستان میں سب زیادہ شور کرپشن کے خلاف بجا یا جا رہا ہے اور ملک کا سب سے اہم مسلہ بھی کرپشن اور رشوت خوری ہے ۔ اگر کرپشن کے خلاف ہزاروں کی تعداد میں بھی NABبنائے جا ئے اور ان اداروں میںؓ قابل اور دیانت دار لوگ نہیں ہو نگے ۔ تو یہ محض اس ملک اس قوم کے ساتھ مذاق کے سواء کچھ نہیں ہے ۔یہ اس ملک کی سب سے بڑی بد قسمتی ہے کہ اس ملک کا سر براہ خود کرپشن کا شکار ہے ۔ تو اس کے ماتحت اداروں اور وزراء کا کیا حال ہو گا ۔ ان سے ا نصاف ، قانون کی با لا دستی ، اور نظام کی شفافیت کا تواقع رکھنا مودی سرکار کا کشمیر پاکستان کو دینے کے مترادف عمل ہے ۔

کرپشن کی خاتمہ کیلئے یہ محب وطن کا اپنا مثبت کر دار ادا کر نا ہو گا ۔ اپنے آنے والے نسلوں کے لئے نیا پاکستان بنانے کے لئے ہمیں دیانت دار اور مخلص لو گوں کو ملکی مفاد کے لئے آگے لا نا ہو گا تب جا کے ہم قائد اعظم کی پا کستان اور علامہ اقبال کی سوچ کو فروغ دیں گے ۔

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged ,
1873

ٍٍٍ خان صاحب اپ کے ساتھ برا ہوگا……… تحریر:نوالھدی ٰ لیفتالی

اللہ تعالیٰ قوموں کو ان کی اعمال اور نیت کی بنیاد پر حکمران عطا کرتا ہے ۔ اپنے عظیم فلسفہ سے انسان کو آزمائش میں ڈالتا ہے ۔ اپنی عظیم رحمتوں سے نوازتا ہے ۔ جو قومیں اپنے محسنوں کی قدر کرتے ہیں ۔ اور اللہ کی ان عظیم حاکموں کو ان کی بے لوث خدمات کو سراہتے ہیں ۔ وہ ہی قومیں دنیا میں ترقی کرتی ہے ۔ اور ایک عظیم قوم ثابت ہوئی ہیں ۔

پاکستان کتنی عظیم رہنماوں کی جانی و مالی قربانی کی سبب معرض وجود میں آیا ۔ اس عظیم مقصد کے لئے اللہ تعا لیٰ نے اس قوم کو کئی عظیم رہنماوں سے نوازا ہمارے بہادر حب الو طنی کے جزبے سے سرشار رہنماوں نے ایک عظیم قائد کی سربراہی میں اپنے خواب کی تعبیر کیلئے اپنے مہم کا آغاز کیا ۔ان رہنماوں کا مقصد ایک ایسا سر زمین و اسلامی ملک کا وجو د تھا جس میں ہر طبقہ فکر ، رنگ و نسل ، قوم و مذہب و دیگر تعصبات سے پاک ہو ۔ جہاں سفارش اقرابا پروی ، دھاندلی جیسی وباوں کی گنجائش نہ ہو ۔اس عظیم مقصد کے لئے اللہ رتعالیٰ نے اس قوم کو قائد اعظم محمد علی جناح کی صورت میں صادق امین رہنما عطا کی ۔ شاعرمشرق ڈاکٹر علامہ محمد اقبال جیسے عظیم مفکر عطا کی ۔
ان عظیم رہنماوں کی سوچ ان کی نیک نیتی پراس قوم کے ہر فرد پر طبقہ ان کی حب الوطنی کو سہراتے ہوئے ان کی ہر جائیز و حق گوئی پر لبیک کہا ، ان کی انتھک محنت ان کی کاوشون سے ھم اس وطن عزیز میں ازادی کی سانس لے رہے ہیں۔

پاکستان کی اس مٹی سے محبت کرنے والوں کی کوئی کمی نہیں ہے اس ملک میں اپنے وطن سے محبت کرنے والوں کی تعداد میں کمی نہیں ہوئی ہے جب بھی اس مٹی نے پکارا ہے اللہ نے ان مٹی کی تحفظ کے لئے اس ملک کی سا لمیت کیلئے کوئی محب وطن پیدا کرتا ہے ۔
تاریخ ہماری اس بات کی گواہ ہے ۔ اس مٹی میں اس پاک زمین میں قائد اعظم محمد علی جناح کے بعد اللہ تعالیٰ نے اس قوم کو اس ملک کو ایک اور عظیم محب وطن سیاسی شعور سے لبریز قابل لیڈر سے نواز ا جو غریب عام کی آواز بن کر اس ملک کی نام کو زندہ رکھنے علمی دنیا میں پاکستان کی نیک نامی ، اور جمہوریت کو زندہ رکھتے ہوئے ایک غریب کی حقوق کی جنگ لڑتے ہوئے ایک امر کے ہاتھوں ہاتھوں تختہ دار پر لٹکا یا گیا ۔ شہید جمہوریت زولفقار علی بھٹو کو عوامی نمائیندہ ہونے اور عوام کی آواز بنے پر پھانسی دی گئی ۔

مگر افسوس اور ستم طرفی و ظلم کی انتہا اس وقت ہوگی جب ایک عظیم لیڈر کو تختہ دار پر لٹکا یا گیا ۔ جن کا قصور صرف غریب عوام کی حقوق کی جنگ تھا ۔ ہزار افسوس ایک بھی عوام نمائند ہ اپنے لیڈر کی حق میں ایک لقط تک ادانہ کر سکا ۔ جو اپنی پوری زندگی جمہوریت کی بقا کے لئے واقف کر رکھی تھی ۔ وہ لیڈر جس نے اس ملک کو ایک دستوری ائین بناکر دیا تھا ۔ جس نے اس ملک کو ایٹمی طاقت بنانے کے لئے اپنی پوری توانائی استعمال کی تھی ہماری بے وفائی ہماری کمزوری ھم زولفقارعلی بھٹو شہید جیسے عظیم رہیما سے محروم ہو گئے ۔ جو ایک جمہوری لیڈر تھا ۔

اس دل خراش سانچے نے ملک کی بھاگ ڈر تب سے لے کر اج تک امروں کے زیر سایہ پرورش پانے والے کرپٹ نمائندوں کے ہاتھ لگ گئی جنہیں جمہوریت کا ABC تک نہیں پتا نہیں وہ آج ہمارے ملک کی نظام کے مالک ہیں ۔ جو اپنے لئے قانون بناتے ہیں اور خود اپنے بنائے ہوئے قانون کی پامالی کرتے ہیں ۔اداروں کو اپنے مرضی سے کام کرنے نہیں دیتے اپنے کالے دھندندوں کو چھپانے کیلئے مقدس اداروں کا غلط استعمال کرتے ہیں۔ ملک کی اعلی عدلیہ پر بھی حملے کرنے بھی پیچھے نہیں ہٹتے ہیں اور اس ملک کی قانون ردری کی ٹھوکری سمجھتے ہیں ۔

اسلام کی بنیادی اوصولوں پربنائی گئی اس ملک میں بہت کچھ غلط ہورہا ہے ۔ اس قوم کی حالت زار اس کی سیاسی یتیمی کو دیکھ کر اللہ تعالیٰ نے اس قوم کو عمران خان جیسے بہادر ،دیانتدار ، سچ بولنے والا لیڈر عطا کی۔ جو ایک غریب کی حقوق کی بات کرتا ہے ۔ جو مزدور کی اجرت کی بات کرتا ہے ۔ملک میں کرپشن ختم کرنے کی مہم شروع کی ہے ۔ آمراور کرپٹ مافیا کے ہاتھوں یرغمال بنائے ہوئے ہمارے مقدس اداروں کو اپنے دائرے اختیار میں کام کرنے کی بات کرتا ہے ۔قومی خزانے سے چرائے ہوئے ملک کی غریب عوام کی پیسوں کو واپس لانے کی یہ جدوجہد کرتا ہے ۔ چوروں اور لٹیروں کو قانون کے کٹہرے میں کھڑا کرنے کی یہ کوشش یہ جدوجہد یہ کوشش اپ کو ایک محب وطن ثابت نہیں کرسکتی کیونکہ اپ کرپشن ا اور کرپٹ لوگوں کے خلاف جنگ شروع کی ہے ۔ یہ اپ کی بڑی غلطی ہے ۔ اپ ہماری حقوق کی جنگ لڑتے ہیں جو ہم جیسے بے وفا عوام کی حقوق کی بات کرتے ہیں جس نے اس ملک کو دستوری آئین دی ، اس کو ھم نے تختہ دار پر لٹکا دیا ۔ہم اتنے وفادار قوم نہیں ہم اپ کا ساتھ چھوڑ دیں گے اپ حق پر ہیں۔ اپ نے عورت زات کو اعلی مقام دی اپنی مان کی محبت کو سینے سے لگاکے زندگی کی 67 سالہ محنت میں پاکستان جیسی کرپشن کاشکار ملک میں کنسر جیسی موزی بیماری کے خلاف اعلیٰ معیار کی جدید طبی سہولیات سے آراستہ ہسپتال قائم کی ۔ اعلی تعلیمی درسگاہ قائم کی آپ قائد اعظم کی فرماں کی پیروی کی آپ نے علامہ اقبال کی سوچ کو فروغ دی آپ نے عوام کو سیاسی شغور سے بیدار کیا ۔ یہ سب آپ کی بہت بڑی غلطی ہے ۔ اس وجہ سے آپ کی زات پر غلیط الزامات لگائے جارئے ہیں ۔آپ کی کردار کشی کی جارہی ہے ۔ اپ کو یہودی ہونے کی طفہ دی رہے ہے ۔ اپ قانون کی بالا دستی چاہتے ہیں اپ ملک میں انصاف کے طلب گارہیں ۔ یہ اپ کی خوش فہمی ہے ۔

خان صاحب!! ہمیں ڈر ہے۔ ہمین خوف ہے ۔ کہیں آپ کے ساتھ بھی ایسا نہ ہو ۔ آپ نے غریب کی حق کی بات کرکے سنگین غلطی کی اور اپنی جان خطرے میں ڈال دی کرپٹ مفاد پرستوں کو عدلیہ کی راہ دیکھا کر اپ نے اس سے بھی بڑا جرم عظیم کی ہے ۔ 20 کڑور کی آبادی میں آپ نے لاکھوں عمران خان پیدا کی ہے ۔ یہ آپ کی سیاسی شعور نہیں ہے ۔ پاکستان کے 70 ستر سال گندی سیاست کو آپ نے تبدیل کر دیا ہے ۔اسلامی جمہوری پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار اپ نے مفاد پرست اور کرپٹ لوگوں کو قانون کی کٹہرے میں کھڑا کرکے آپ نے غریبوں کے ساتھ ظلم کیا ۔

یہ غلطیان آپ کی جان بھی لے سکتی ہے ، ھم اتے بھی وفادار قوم نہیں ہیں ۔ہمیں س ہماری حال پر چھوڑ دے ہمیں کرپشن ، نا انصافی ، لاقانونیت کی لت پڑگئی ہے ۔
خان ہم وفادار نہیں ہیں ۔

جمہوریت کو ڈھال بناکر اپنی خاندانی سیاست کو مظبوط کرنے کی گندی سیاست کو اپ نے ختم کیا ۔جھوٹی عوام حاکمیت کی بات کرکے غریب عوام کی قیمتی ووٹوں سے اپنا بنک بیلنس بنانے والی سیاست کو اپ نے پاکستانی عوام کے ساتھ مسترد کرکے شہر اقتدار میں بادشاہت کو چیلنچ کردی ۔

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged ,
1694