The Voice of Chitral since 2004
Thursday, 23 April 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

کردار سازی -تحریر: محمد اشفاق خان

قریبا 700 سال قبل از مسیح چائنہ کو بیرونی حملہ آوروں سے محفوظ بنانے کے لئے دیوار چین کی تعمیر کو عمل میں لایا گیا۔ دیوار چین کی تعمیر کے بعد پہلے سو سال میں چائنا کو تین بار بیرونی حملہ آوروں کے ہاتھ شکست ہوئی ۔دشمن کو کسی بار بھی دیوار گرانے یا اس میں شگاف ڈال کر راستہ بنانے کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی ۔نہ ہی دیوار کو پھلانگ کر اندر جانے کی نوبت آئی کیونکہ ہر بار دربانوں یعنی دیوار کے محافظ دستے کو رشوت دے کر دروازے کھلوائے گئے ۔چینیوں نے دیوار تو بنا ڈالی لیکن محافظ دستے کی کردار سازی پر کوئی توجہ نہیں دی جس کی وجہ سے انہیں شکست کا سامنا کرنا پڑا ۔اس سے ثابت ہوتا ہے کہ کردار سازی سب سے مقدم ہے ۔مملکت خداداد پاکستان میں بھی لوٹ مار کا بازار گرم ہے ۔

کرپشن بدعنوانی اور اقرباپروری عروج پر ہے ۔جس کا جتنا بس چلتا ہے وہ اس حد تک بے ایمان ہے۔ بےروزگاروں تک کو نہیں بخشا جا رہا ۔نوکری ڈھونڈنے والوں کو مختلف حیلوں بہانوں سے دونوں ہاتھوں سے لوٹا جارہا ہے. وہ نجی ادارے جو مختلف آسامیوں پر بھرتی کی غرض سے درخواست دینے والے امیدواروں میں سے سب سے موزوں امیدوار کی تلاش اور انتخاب کے لئے بنائے گئے ہیں، اربوں روپے کما رہے ہیں اور وہ بھی ملک کے سب سے کمزور اور پسماندہ بےروزگار طبقے سے ۔ایک زمانہ تھا جب نوکری کے لیے ٹیسٹ یا انٹرویوز دینے والوں کو بڑے عزت اور احترام سے بلایا جاتا تھا ۔آنے جانے کے اخراجات دینے کے علاوہ چائے پانی کا بھی انتظام کیا جاتا تھا ۔لیکن آج نوکری کے لئے اپلائی کرنے والوں کو طویل قطاروں میں کھڑا کرکے ہزاروں روپے کی فیس جمع کروانی پڑتی ہے ۔جس کے پاس انٹرنیٹ کی سہولت نہیں ہوتی انہیں انٹرنیٹ کیفے والوں کے ہاتھوں بھی لٹنا پڑتا ہے۔ پھر آخر میں آکر کورئیر والے رہی سہی کسر پوری کر لیتے ہیں کوئی پرسان حال نہیں ۔


کرپشن اقرباء پروری اور بدعنوانی کی روک تھام کے لئے کئی ادارے بنائے گئے ۔لیکن پھر بھی کوئی خاطر خواہ نتائج سامنے نہیں آرہے ۔قانون سازی پر تو بہت کام کیا گیا لیکن کردار سازی پر کسی نے توجہ نہیں دی ۔ہمارا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ یہاں قانون تو بنا دیا جاتا ہے لیکن اس پر عمل درآمد اتنا مشکل اور کٹھن بنا دیا جاتا ہے کہ کوئی عام شریف آدمی اول تو قانونی چارہ جوئی کے بارے میں سوچتا ہی نہیں اور اگر کبھی کوئی اللہ کا بندہ غلطی سے یہ حماقت کر بیٹھے تو اس کو اتنا ذلیل و خوار کیا جاتا ہے کہ باقی ماندہ زندگی میں وہ آنے والی نسلوں کو نصیحت کرتا رہتا ہے کہ کبھی اس کے نقش قدم پر چلنے کی غلطی نہ کریں ۔آپ کسی بھی جائز کام کے لئے کسی بھی سرکاری محکمہ میں چلے جائیں اگر آپ کی شناخت یا پہچان والا کوئی بندہ وہاں پر موجود نہ ہو توآپ رل جاتے ہیں۔رشوت دیے بغیر آپ کے جائز کام کے مکمل ہونے کی رفتار کیچوے کی رفتار سے کئی گنا زیادہ سست ہوتی ہے ۔ جان بوجھ کر اس نظام کو اتنا پیچیدہ بنا دیا گیا ہے کہ بندہ رل جاتا ہے۔ آپ کسی بھی سرکاری ہسپتال میں ریگولر او پی ڈی کے اوقات میں چلے جائیے، کسی بھی سرکاری محکمے یا ادارے میں چلے جائیں خواہ وہ گیس کا ہو بجلی کا ہو ٹیلیفون کا ہو، فنانس کا ہو، اکاؤنٹس کا ہو یا کوئی بھی محکمہ ہو آپ کو مایوسی کے سوا کچھ نہیں ملے گا۔ایسا کیوں ؟ اس نظام کے اس قدر خراب ہونے کی اصل وجہ کیا ہے ؟ اس نظام کو کیسے ٹھیک کیا جاسکتا ہے ؟ درست سمت کا تعین کیوں کر اور کیسے ممکن ہے ؟


میرے خیال میں ان تمام مسائل کی جڑ ، نظام کے اس حد تک خراب ہونے کی اصل وجہ کردار سازی پر توجہ کا فقدان ہے۔کردار سازی پر توجہ نہیں دی جا رہی ۔ایک وقت تھا جب سکولوں کالجوں اور یونیورسٹیوں میں اخلاقیات پر درس دینا پڑھائی کا لازمی جز قرار دیا جاتا تھا۔پاکستان ٹیلی ویژن پر اندھیرا اجالا جیسے ڈرامے دکھا کر اچھائی اور برائی کی تمیز کروانے کا رجحان عروج پر تھا ۔تاریخی موضوعات پرڈرامے بنا کر نوجوان نسل کو اپنے اسلاف کی تاریخ اور طرز زندگی سے آگاہ کیا جاتا تھا ۔


وقت بدل گیا سوچ بدل گئے اغراض و مقاصد تبدیل ہوچکے ۔تعلیم ایک منافع بخش کاروبار اور ٹی وی گلیمر کی زد میں آگیا۔کردار سازی جیسے اہم اور ناگزیر پہلو کو یکسر نظرانداز کیا گیا ۔معاشرہ دن بدن بد سے بدتر اور بدتر سے بدترین ہوتا جا رہا ہے ۔ابھی بھی وقت ہے اس نظام کو بدلہ جاسکتا ہے اس سوچ کو بدلا جاسکتا ہے درست سمت کا تعین کیا جاسکتا ہے ۔اس معاملے میں حکومت وقت کو کردار ادا کرنا ہوگا، سول سوسائٹی کو آگے آنا ہوگا،ہم سب کو اپنی اپنی بساط کے مطابق کردار ادا کرنا ہوگا ۔کردار سازی پر توجہ دینا ہوگا کردار سازی کو فروغ دینا ہوگا ۔


از

محمد اشفاق خان
پی ایچ ڈی اسکالر
جارج اگست یونیورسٹی
گوٹینگن، جرمنی

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged , , ,
50786

کرپشن …………….تحریر:نوالھدی ٰ لیفتالی

ہمارے ملک میں ہمارے معاشرے میں علم کا سہارہ دے کر جہالت کو فروغ دیا جا تا رہا ہے ہر بات کی الٹی معنی دی جاتی ہے ۔ جہاں بھی دیکھیں ملک کی اداروں کو کرپشن کی بیماری نے جگڑرکھا ہوا ہے ۔ کرپشن ایک بد یانت عمل ہے ۔ پاکستان میں کرپشن کا بڑھتا ہوا رجحان اس ملک کا مقدر بنتا جا رہا ہے ۔ ملک کی مقدس اداروں میں بیٹھے ہو ئے اعلی درجے کے افسران کرپشن کے لغنت میں بڑی طرح مبتلا ہیں ۔ جبکہ ہم صرف کرپشن کو صرف پیسے کی ریل پھیل پر لا کر ختم کر دیتے ہیں ۔ کرپشن ایک ایسی سماجی برائی ہے جس کی اس معاشرے میں کئی شکلیں موجود ہیں کرپشن کی سب سے بد ترین شکل ہمارے ملک ہمارے معاشرے ، ہمارے سیاسی رہنمانوں ، حکمرانوں اور ملک کے اداروں میں بھیٹے ہو ئے ذمہ لوگوں کا اس میں ملوث ہو نا ہوا ہے ملک کی سیاسی نمائندے اور حکمران جو اقتدار میں رہتے ہو ئے اپنے سیاسی مقاصد اپنے ذاتی مفاد کے لئے اپنے اختیارات کا غلط استعمال ، اداروں میں بیٹھے ہو ئے اعلی عہدوں پر بر جماں لو گوں کو لالچ دے کر اس کرپشن کی طرف راغب کر تے ہیں ۔

جو نہ صرف اداروں کی بد نامی کا سبب بنتے ہیں ۔ بلکہ اپنے ملازمت ، اپنے ملک کی معاشی نظام کے ساتھ ساتھ آنے والی ہماری نسلوں کو غلط اور گمراہی کا راستہ دیکھادیتے ہیں ۔ کرپشن صرف پیسے کی ہیرا پھری کا نام نہیں ہے ۔ بلکہ اپنے ملازمت ، اپنے پیشے میں رہ کر اپنے اختیارات کی غلط استعمال اور اپنے پیشے وکا م سے لا پرواہی بھی کرپشن کے زمرے میں آتا ہے ۔ جس کی وجہ سے معاشرے میں ادارے اپنی اصلیت کھو دیتے ہیں اور لوگوں کا اداروں سے اعتماد بھی اٹھ جا تا ہے ۔ کرپٹ اور نا اہل لو گوں کا اعلی اداروں کی ذمہ داری سونپ دینا ہی کرپشن کی ابتدء ہے ۔

ہمارے حکمران اور ملک کی ہر ادارے میں بیٹھے ہو ئے ہمارے نااہل لو گ کرپشن کو اپنا کمائی کا ذریعہ سمجھتے ہیں اور اپنے زندگی بسر کر نے کا واحد راستہ انھیں صرف کرپشن کی صورت میں نظر آتا ہے ۔ اس کی حقیقت یہ ہے یہ لوگ چور دروازے سے ان اداروں میں آکے بیٹھ گئے ہیں اور ملک و معاشرے میں کرپشن جیسی بیماری کو پھیلانے میں ان کا ہم کر دار ہے۔۔
وطن عزیز میں کرپشن نے ہماری زندگی کے ہو گوشے کو متاثر کیا ہوا ہے ۔ اس سکی جڑین ہمارے معاشرے میں اس قدر مضبوط ہو چکی ہیں اسے ہم وقت کا اہم تقاضا تصور کر تے ہیں ۔

یہ بیماری اس قدر خطرناک اینا اثر دیکھا جا چکی ہے کہ بس اڈوں میں فرنٹ سیٹ کے لئے بھی اڈے کے منشی اور ڈرائیور کو رشوت دینا پڑتا ہے ۔ اداروں میں اپنے فائل پہلے نمبر پر لا نے کے لئے کلرک کو بھی رشوت دی جا تی ہے اگر یہ ہی ہمارے معاشرے کا حال رہا تو ایک دن ہمیں اس ملک کو بھی رشوت میں دینا پڑے گا ۔

ملک میں غربت اور کرپشن کے خاتمے کے لئے اقدامات کئے جا رہے ہیں ۔ جبکہ اس وقت پاکستان میں سب زیادہ شور کرپشن کے خلاف بجا یا جا رہا ہے اور ملک کا سب سے اہم مسلہ بھی کرپشن اور رشوت خوری ہے ۔ اگر کرپشن کے خلاف ہزاروں کی تعداد میں بھی NABبنائے جا ئے اور ان اداروں میںؓ قابل اور دیانت دار لوگ نہیں ہو نگے ۔ تو یہ محض اس ملک اس قوم کے ساتھ مذاق کے سواء کچھ نہیں ہے ۔یہ اس ملک کی سب سے بڑی بد قسمتی ہے کہ اس ملک کا سر براہ خود کرپشن کا شکار ہے ۔ تو اس کے ماتحت اداروں اور وزراء کا کیا حال ہو گا ۔ ان سے ا نصاف ، قانون کی با لا دستی ، اور نظام کی شفافیت کا تواقع رکھنا مودی سرکار کا کشمیر پاکستان کو دینے کے مترادف عمل ہے ۔

کرپشن کی خاتمہ کیلئے یہ محب وطن کا اپنا مثبت کر دار ادا کر نا ہو گا ۔ اپنے آنے والے نسلوں کے لئے نیا پاکستان بنانے کے لئے ہمیں دیانت دار اور مخلص لو گوں کو ملکی مفاد کے لئے آگے لا نا ہو گا تب جا کے ہم قائد اعظم کی پا کستان اور علامہ اقبال کی سوچ کو فروغ دیں گے ۔

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged ,
1873

سچ بو لنے میں کیا حرج ہے؟ ……………سعیداللہ جان۔۔کوراغ۔

اس میں کو ئی شک نہیں کہ تحریک انصاف کے چیئرمین جناب عمران خان صاحب نے پا کستان کے بد عنوان لوگوں کے خلاف زبر دست مہم شروع کر رکھی ہے۔کرپشن کے خلاف جناب عمران خان کی جدوجہد کی اگرپزیرائی نہ کی جائے تو یہ بڑی نا انصافی ہو گی۔

سوال یہ پیدا ہو تا ہے کہ کیا چند بڑے لوگوں کو نا اہل قرار دینے سے پاکستان سے کرپشن ختم ہو جائیگی؟۔میرے خیال میں ایسا ہو نا ممکن نہیں۔
انتخابات کا جو نظام ہمارے ملک میں رائج ہے اُسکی مو جود گی میں ہر وہ آدمی جسکوموقع ملے گا کرپشن ضرور کریگا۔اس کی وجہ یہ ہے کہ جب قومی اسمبلی کا الیکشن لڑنے کے لئے کم از کم چا لیس لاکھ،صو بائی اسمبلی کا الیکشن لڑنے کیلئے کم از کم بیس لا کھ اور سنٹ کا الیکشن لڑنے کے لئے کم از کم پندرہ لاکھ کی رقم خرج کرنی پڑے تو ایک عام پاکستانی شہری کے لئے یہ ممکن نہیں۔

ایسے فرشتہ سفت لوگ بہت کم ہو تے ہیں جن کے دل میں کوئی خواہش نہ ہو۔معاشرے میں کئی آدمی ایسے ہونگے جن کے دلوں میں الیکشن میں حصہ لینے کی بڑی خواہش ہوگی لیکن موجودہ قوانین کے تحت الیکشن پر اُ ٹھنے والے اخرجات اُنکے بس میں نہیں ہونگے اس لیے وہ اپنی خواہش کو دبانے پر مجبور ہونگے۔

اس کا مطلب یہ ہوا کہ الیکشن لڑنے کے اہل صرف وہ لوگ ہیں جن کے پاس دولت ہے۔یوں معاشرے میں اُنچے مقام کے حقدار بھی دولتمند لوگ ہی ہوتے ہیں۔چنانچہ ہر آدمی کسی نیکسی طریقے سے جلد از جلد دولتمند بننے کی کوشش کرتا ہے ہمارے معاشرے میں مالی کرپشن جلد دولتمند بننے کا آسان زریعہ ہے۔اسلیے ہر وہ آدمی جسکو موقع ملتا ہے کرپشن کرتاہے اور جسکو موقع نہیں ملتا وہ رد عمل کے طور اور قسم کا کرپشن کرتا ہے۔

میری ناقص راے میں پاکستان سے کرپشن کو ختم کرنے کے لیے سب سے پہلی ضرورت انتخابی اصلاحات کی ہے۔یہ کہاں کا انصاف ہے کہ مخص دولت کا فقدان ایک شہری کوانتخابات میں حصہ لینے سے معذور کرے۔

جناب عمران خان صاحب اگر خلوص دل سے پاکستان کو کرپشن سے پاک کر نا چاہتے ہیں تو ان کو چاہیے کہ الیکشن کے طریقہ کار میں ایسی تبدیلی کرایئے کہ جس میں الیکشن میں حصہ لینے والے آدمی کے لئے الیکشن کے سلسلے میں دولت خرچ کرنے پر مکمل پابندی ہو تا کہ کوئی بھی شخص خواہ آذادآمید وار ہو یا پارٹی کا آمیدوار، مخص دولت کے بل بوتے پرالیکشن میں حصہ لینے کا حقدار نہ ٹھرے۔جیسا کہ اس وقت ہے۔بصورت دیگر جناب عمران خان صاحب بھی جاگیر داروں اور سرمایہ داروں کے نمائیدے تصورہونگے۔

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged ,
1526

دنیاکی نصف دولت پرقابض ایک فیصداشرافیہ ………… ایم پی خان

عالمی سطح پر دولت کی غیرمنصفانہ تقسیم نے عام انسان کی زندگی کو اجیرن کردیاہے۔ایک طرف غربت کی شرح میں اضافہ ہوتاجاہا ہے تودوسری طرف کچھ لوگ مالامال ہورہے ہیں۔غریبوں سے زندگی کی بنیادی سہولیات چھینے جارہے ہیں اورسرمایہ داردنیاکواپنی لئے جنت کانمونہ بنارہے ہیں۔پوری دنیامیں غیرقانونی دولت بنانے کے چکرمیں سرمایہ دار، جاگیرداراورصاحب اقتدارطبقہ چوری، ڈکیتی، دھوکہ ، فریب ، بدعنوانی، ٹیکس چوری ، سمگلنگ اورطرح طرح کے غیرقانونی اورناجائز دھندوں میں ملوث ہے۔جس کے باعث پوری دنیاکی دولت گنتی کے چندافراد کے ہاتھوں میں چلی جارہی ہے اورنتیجتاً عالمی سطح پر غربت، بیروزگاری، بھوک ، افلاس ، جہالت اوردہشت گردی بڑھ رہی ہے۔ اس عالمی سازش کے تباہ کن اثرات آئے دن ہماری آنکھوں کے سامنے مختلف حادثات، سانحات، قتل وغارت اورلاعلاج بیماریوں کی صورت میں رونماہورہے ہیں، جس کے سامنے انسانیت بے بس اورلاچارنظرآتی ہے۔

سال 2015میں برطانیہ سے شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق دنیاکی آدھی دولت پر دنیاکی صرف ایک فیصدآبادی قابض ہے جبکہ بقیہ آدھی دولت پوری دنیاکے عوام میں تقسیم ہوتی ہے۔2016میں غربت کے خاتمے کے لئے کام کرنیوالی ایک تنظیم کی رپورٹ کے مطابق پوری دنیاکی آدھی دولت صرف 80افرادکے پاس ہے۔اس سے بھی زیادہ حیران کن انکشاف رواں سال کے آغاز میں ایک عالمی فلاحی ادارے آکسفیم نے کیا، جس کے مطابق پوری دنیاکی آدھی دولت صرف 8افرادکے پاس ہے۔ایسے محیرالعقول انکشافات جب پاکستان کے غریب اورمسائل زدہ عوام کی دانست میں آتے ہیں توانکے پیروں تلے زمین نکل جاتی ہے کیونکہ دنیامیں غریب اوررمالدار کی زندگی میں اس قدرتضادکیوں موجودہے،جوروزبروزبڑھتاچلاجاتاہے اورکم نہیں ہوتا ۔مالدار ہرروز مالدار تر اور غریب غریب ترہوتاجارہاہے۔ غریبوں کے خون پسینے کی کمائی کس طرح صحت، تعلیم ،دیگرضروریات زندگی اورٹیکس کی مدمیں امیرکے جیب میں چلی جاتی ہے اوربدلے میں غریب کو بھوک ، افلاس اوربیماریوں کے سواہ کچھ نہیں ملتا۔

پاکستان جیسے غریب ملک میں ہم نے اپنی آنکھوں کے سامنے ایسے افراددیکھے، جن کے ہاتھ کسی نہ کسی طرح قومی خزانے کوپہنچ گئے، یاجن کوحکومت وقت کے دربارتک پہنچنے اورارباب اختیارکی شان میں زمین وآسمان کے قلابے ملاکر قصیدے پڑھنے کاموقع ملا اورپھردیکھتے ہی دیکھتے کروڑپتی اورارب پتی بن گئے۔پاکستان ایک زرعی ملک ہے۔قدرتی وسائل اورمعدنیات سے مالامال ہے۔پاکستانی قوم دنیاکے کسی بھی حصے میں ہو، اپنی محنت سے دولت کماکر اپنے ملک بھیجتاہے۔اسکے علاوہ ہمارے حکمران قرضوں پر قرضے لیتے ہیں جبکہ بحیثیت مجموعی ہماری قوم پوری ایمانداری سے ٹیکس بھی اداکرتی ہے لیکن ان تمام باتوں کے باوجودجب بھی سالانہ تخمینہ لگایاجاتاہے توملک کاخزانہ خالی ہوتاہے اورقومی ادارے نقصان اورخسارے میں ہوتے ہیں ۔حکومت ہمیشہ اس کمی کوپوراکرنے کے لئے غریب عوام کوریلیف فراہم کرنے کی بجائے ان پر مہنگائی اورٹیکسوں کے مزیدبوجھ ڈالتی ہے۔ارباب اختیار ہمیشہ اپنے بے بس عوام کو ترقی اورخوشحالی کے سبزباغ دکھاکر انکی دولت کو دونوں ہاتھوں سے لوٹتے ہیں۔اپنے بچوں کو دنیاکے سیم وزرسے مالامال کررہے ہیں اورغریب کے بچوں سے منہ کانوالہ چھین لیتے ہیں۔

اللہ کاشکرہے کہ ہماری قوم اورخاص طورپرنئی نسل تعلیم کے زیورسے آرستہ ہوکر انکاشعوربیدارہورہاہے اوریہی تبدیلی پوری دنیامیں ظہورپذیرہورہی ہے۔ عالمی صحافتی ادارے بہت تیزی کے ساتھ دنیاکی خفیہ دستاویزات تک رسائی حاصل کررہے ہیں اورعالمی سطح پر امیرترین افرادکی دولت کمانے کے طریقوں کاسراغ لگارہے ہیں۔اس ضمن میں گذشتہ چندسال کے دوران منظرعام پرآنے والی عالمی رپورٹ ہائے نے دنیاکے بدعنوان، ٹیکس چوراورغیرقانونی طریقوں سے دولت کمانے والوں سے پردہ اٹھایاہے۔وکی لیکس، پانامہ لیکس اورحالیہ دنوں میں منظرعام پرآنے والے پیراڈائزلیکس نے اس رازکو بے نقاب کردیاہے کہ پوری دنیاکی دولت صرف چندافرادکے ہاتھوں میں کس طرح چلی جارہی ہے اوردوسری طرف پوری دنیاکے لوگ غریب سے غریب تر کیوں ہوتے جارہے ہیں۔ان رپورٹ ہائے نے عالمی سطح پر قوم اورملک کی دولت لوٹنے والوں کے گھناؤنے اورمکروہ چہروں کی نشاندہی کرکے ، دنیامیں عدم استحکام اورعدم توازن کی وجوہات معلوم کی ہیں۔وسائل اورقومی دولت کی غیرمنصفانہ تقسیم سے انسانی زندگی میں پیداہونے والے عدم توازن پر قابوپانے کے لئے اب ضروری ہے کہ ہرملک کے اندرشفاف طریقے سے قومی احتساب عمل میں لایاجائے اورقومی دولت لوٹنے والے مجرموں کے اثاثوں کاسراغ لگایاجاکر ان کے قبضہ سے لوٹی ہوئی تمام دولت واپس قومی خزانے میں جمع کرائی جائے اورجولوگ اس عالمی سازش کاحصہ ہیں ، انکے خلاف سخت سے سخت کارروائی کی جائے ۔ دنیامیں امن قائم کرنے، انسانی زندگی میں توازن اوراستحکام لانے اوراقوام عالم کو خوشحال بنانے کے لئے غیرقانونی طریقوں سے بیرون ملک پیسہ منتقل کرنے کوروکنا ہوگا اورملکی دولت کی قوم کے مفادات کے لئے منصفانہ تقسیم کے عمل کو یقینی بناناہوگا۔

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged , , ,
1332