The Voice of Chitral since 2004
Thursday, 23 April 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

بندہ کمائے گا نہیں تو کھائے گا کہاں سے؟؟؟………..عبد الکریم کریمی

بندہ کمائے گا نہیں تو کیا کھائے گا

آج فجر کی نماز سے واپسی پر ناشتے کے انتظار میں بیٹھا ایک عبرت ناک کہانی بینائیوں کی نذر ہوئی۔ اس کے مطالعے کے بعد اللہ پاک کی ذات پر یقین مزید پختہ ہوگیا اور یہ حقیقت بھی کہ جہاں کچھ لوگ فجر کے وقت تکیے پر سر رکھ کر سوتے ہیں تو وہاں کچھ لوگ مصلے پر سر رکھ کر روتے بھی ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ سونے والے خوبصورت خواب دیکھتے ہیں اور رونے والے خوبصورت تعبیر پاتے ہیں۔

اللہ پاک کی ذات پر جس کو یقین ہو وہ کبھی محتاج نہیں ہوتا۔ وہ رب دوجہاں تو غاروں کے اندر پڑے ہوئے کیڑوں کو بھی رزق دیتا ہے تو اشرف المخلوقات حضرتِ انسان کو کیسے بھول پاتے ہیں۔ یہ جو ہم کہتے ہیں نا کہ بندہ کمائے گا نہیں تو کھائے گا کہاں سے؟ خیالِ زرق ہے رازق کا کچھ خیال نہیں۔ ارے بھیا! یہی کچھ تو اس کہانی میں بیاں ہوا ہے۔ کہا جاتا ہے:

’’ستر کی دہائی تھی، کوئی آج کل والا پاکستان تو تھا نہیں، اُس نے کراچی میں موجود امریکی لائبریری میں قدم رکھا اور پڑھنا شروع کردیا۔ وہ پیاسا تھا اور علم پیتا چلا گیا، کچھ ہی سالوں میں انجینئرنگ میں ٹاپ کیا اور امریکہ چلا آیا۔ کام، کام اور بس کام۔ وہ اپنے خاندان میں واحد گریجویٹ تھا، اکیلا خوش نصیب جسے ملک سے باہر کام ملا اور واحد کفیل۔

کام کے دوران اُس کی ایک وائٹ امریکی مارگریٹ سے شادی ہوگئی۔ ترقی پر ترقی، اپنا گھر، اپنی گاڑی، بینک بیلنس، وہ منزلوں پر منزلیں طے کرتا چلا گیا۔

کافی سالوں بعد وہ آج اپنی بیوی کے ساتھ پاکستان لوٹا۔ سن تیراسی کا زمانہ تھا۔ سب لوگ خوب خوش ہوئے مگر ایک ضروری کام سے کمپنی نے واپس بلا لیا۔ بیوی کو پاکستان چھوڑ کر ایک ہفتے کے بعد واپس آنے کا کہہ کر وہ امریکہ روانہ ہوگیا۔

چھبیس گھنٹوں کے طویل سفر کے بعد اُس نے رات کی تاریکی میں نیویارک میں موجود اپنے گھر کا دروازہ کھولا اور بستر پر آکر اوندھے منہ لیٹ گیا کہ صبح کام پر پہنچنا تھا۔ اُس نے بمشکل تمام چھ بجے کا الارم لگایا۔

صبح اُس کی آنکھ گیارہ بجے کھلی، وہ کافی دیر تک حیران و پریشان گھڑی کو دیکھتا رہا، اُس نے چھلانگ مار کر بستر سے اٹھنے کی کوشش کی مگر یہ کیا، وہ تو اپنے آپ کو ایک انچ بھی نہ ہِلا پایا۔ اُس نے گھبراہٹ میں چیخنا چاہا مگر کوئی آواز نہ نکل سکی۔

رات کے کسی پہر جب وہ خوابوں میں دنیا فتح کررہا تھا تو قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ اُسے فالج کا اٹیک ہوا اور صبح تک اُس کا جسم، اُس کا چہرہ اور تمام عضلات کسی بھی قسم کی حرکت سے معذور ہوچکے تھے۔ اُس کا دماغ کچھ کچھ کام کر رہا تھا مگر اُسے بڑی مشکل پیش آرہی تھی۔ یہ سوچتے ہوئے کہ وہ کون ہے؟ اُس کا نام کیا ہے؟ بیوی بچے، ماں باپ کون ہیں؟ وہ سب کچھ بھولتا چلا جارہا تھا۔ یاد داشت کا کھونا بالکل ایسا ہی ہے جیسے کوئی قسطوں میں خودکشی کرے۔ ہلکے ہلکے، رفتہ رفتہ، مدھم مدھم وہ تمام لوگ جن کے ہونے کو ہم زندگی کہتے ہیں دماغ سے رخصت ہوتے چلے جاتے ہیں۔ دل میں رہتے ہیں مگر دل تو احساسات کا مجموعہ ہے۔ شکل کو نام اور صفات تو دماغ دیتا ہے۔

مسٹر صدیقی کو بستر پر پڑے پڑے آج تیسرا روز تھا۔ موبائل فون تو اُس دور میں ہوتے نہیں تھے اور اگر ہوتے بھی تو وہ کون سے اِس قابل تھے کہ وہ ہاتھ ہِلا سکتے۔ گھر میں موجود فون بجتا رہا، کبھی آفس والے کال کرتے تو کبھی پاکستان میں گھر والے۔

اتنی بے بسی تو شاید مُردوں کو بھی نہ ہوئی ہوگی کہ انہیں کم از کم اِس بات کا تو سکون ہوتا ہوگا کہ وہ مرچکے ہیں۔ مرنا کتنی بڑی نعمت ہے انہیں آج سمجھ آرہا تھا۔

چوتھا دن، پانچواں دن اور آج چھٹا دن، غلطی سے آج ڈاکیا دروازہ کھلا دیکھ کر مسٹر صدیقی کو ہیلو ہائے کرنے آگیا کہ اُن کے اخلاق اچھے تھے اور وہ ہمیشہ ڈاکیے کو دیکھتے تو حال احوال پوچھتے۔

ڈاکیے نے کھلی آنکھوں مگر ساکت جسم کو دیکھا تو نائین ون ون پر ایمرجنسی کال کردی۔ وہ آئے اور اٹھا کر لے گئے۔ اگلے نو ماہ صدیقی صاحب کومے میں رہے۔ وہاں سے ہوش آیا تو کینٹکی کے ایک ہاس پائس ری ہیبیلی ٹیشن سنیٹر میں منتقل کردیا گیا۔ یہاں ایسے لوگوں کو رکھا جاتا تھا جن کا واحد علاج خود موت ہوتی تھی۔ دن، ہفتے، مہینے اور سال گزرتے چلے گئے۔

بیوی نے سمجھا کہ ’کسی اور‘ کے ساتھ گھر بسالیا اور اسے بھول گئے، اُس نے بھی کہیں اور شادی کرلی۔

بہن بھائیوں اور رشتہ داروں نے سمجھا کہ پیسے کی ہوس نے تمام رشتے ناطے توڑنے پر مجبور کردیا۔

باپ نے سمجھا کہ بیٹا امریکی زندگی میں مصروف ہوگیا اور گھر والوں کی خیریت لینے کا وقت نہیں ہے، وہ ناراض ہوگیا اور اُسی ناراضگی میں کچھ سالوں بعد باپ کا انتقال ہوگیا۔

ماں پھر ماں ہوتی ہے، وہ آخری وقت تک انتظار کرتی رہی کہ ایک دن اُس کا بیٹا ضرور واپس آئے گا۔ اُس نے مرتے وقت بھی وصیت کردی کہ جب بیٹا آئے تو اُس کی قبر پر ضرور لے آئیں۔

آج اِس واقعے کو تینتیس سال اور چار ماہ ہونے کو آئے ہیں۔ مسٹر صدیقی (کوئی اُن کا پورا نام نہیں جانتا) آج بھی بولنے کی سکت نہیں رکھتے مگر تھوڑا بہت کھا پی سکتے ہیں۔ پچھلے چند ماہ سے اِس سینٹر میں ایک پاکستانی آتا ہے، اُس کا نام شاہد ہے۔ شاہد انہیں دیکھتا تو اسے شک گزرتا کہ یہ پاکستانی ہیں مگر ایک کلین شیو بوڑھے کو دیکھ کر اندازہ لگانا مشکل تھا۔ بول تو وہ سکتے نہیں تھے۔

آج مسٹر شاہد کو ایک ترکیب سوجھی، وہ گھر سے پاکستانی چکن بریانی لے گئے اور مسٹر صدیقی کے سامنے رکھ دی۔

مسٹر صدیقی کے پورے جسم میں صرف آنکھیں بولتی تھیں، آج تو جیسے وہ ابل پڑیں۔ نرس چمچ سے بریانی آہستہ آہستہ منہ میں ڈالتی جاتی مگر اتنے آنسو اس میں مل جاتے کہ اندازہ کرنا مشکل ہوجاتا کہ چمچ میں چاول کی مقدار زیادہ ہے یا آنسوؤں کی۔

یہ آنسو اِس بات کا ثبوت تھے کہ بندہ یا تو پاکستانی ہے یا انڈین۔ شاہد نے مریض کو گلے لگالیا اور دونوں نجانے کتنی دیر تک روتے رہے۔

اگلے چھ ماہ میں شاہد نے سب پتہ لگالیا کہ یہ شخص کون ہے مگر اب تینتیس سالوں بعد فیملی کی تلاش ایک بڑا مسئلہ تھا۔

اُس نے اُن کی تصاویر کھینچ کر فیس بک پر لگادیں۔ دو ہی ہفتوں میں اُن کا مسٹر صدیقی کی گزشتہ بیوی اور بہن سے رابطہ ہوگیا۔

اِس ہفتے مسٹر صدیقی اپنی بہن سے امریکہ کے ایک اسپتال میں ملے۔ نہ کچھ بول سکے اور نہ ہاتھ ہلا سکے، ہاں مگر آنسو تو کم بخت ہیں فالج میں بھی نکل آتے ہیں۔

آج رات شاہد سوچ رہا تھا کہ آدمی غرور و تکبر کس بات کا کرے؟ چلتے ہوئے نظام میں سے قدرت نے ایک آدمی کو بِناء موت کے تینتیس سال کے لیے نکال کر باہر رکھ دیا۔ وہ جو سمجھتا تھا کہ اگر وہ کام نہ کرے تو کھائے گا کہاں سے؟ اُسے بھی بٹھا کر، بلکہ لٹا کر تینتیس سال کھلاتے رہے۔ صرف بندہ اپنے آپ کو دیکھ لے۔ اُن تمام بیماریوں کا اندازہ کرلے جو اپنے جسم میں ساتھ لے کر چلتا ہے اور اُن میں سے کوئی نکل پڑی تو وہ کہیں کا نہیں رہے گا تو غرور و تکبر آنسو بن کر بہہ جاتے ہیں۔‘‘

آخری بات۔۔۔۔۔۔

اس کا مطلب ہرگز ایسا نہیں کہ انسان محنت نہ کرے لیکن ایسی محنت نہ ہو جو آپ کو اللہ سے دُور کردے اور غرور کی طرف لے جائے اور یہ کہنے پہ مجبور کردے کہ جو کچھ آپ کما رہے ہیں وہ آپ کی محنت اور قابلیت کی وجہ سے ہے۔میں جب بھی کسی دُنیا دار آدمی سے ملتا ہوں جو یہ کہتا ہے کہ بندہ کمائے گا نہیں تو کھائے گا کہاں سے؟ تو یقین جانئیے مجھے مسٹر صدیقی رہ رہ کے یاد آجاتے ہیں۔ بس جاتے جاتے ایک ہی گزارش ہے کہ اللہ پاک کی نوازشات کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اس ذاتِ اقدس پر یقینِ کامل اور اُمید کے ساتھ زندگی گزار لیجئیے گا۔ کیونکہ بزرگوں کا کہنا ہے کہ اُمید انسان کو سکون دیتی ہے جبکہ نااُمیدی کفر ہے۔

Posted in تازہ ترین, گلگت بلتستانTagged ,
3347

گاہکوچ بازار میں ایستادہ گھوڑے کا مجسمہ اور افسرِ شاہی

آج حسبِ معمول فجر کی نماز کے بعد دوستوں کے ساتھ واک پر گیا۔ گاہکوچ سے سلپی گاؤں کی طرف واک کرتے ہوئے واپسی پر دوستوں نے اصرار کیا کہ ہوٹل سے ناشتہ کرکے جاتے ہیں۔ اب ہم گاہکوچ بازار سے گزرتے ہوئے ہوٹل کی طرف جا رہے تھے۔ گاہکوچ کی سڑکیں، سڑکوں پہ بنی مارکیٹ کی راہداریاں اور دُکانیں کچرے کا ڈھیر معلوم ہو رہی تھیں۔ ہمیں پہلا جھٹکا تب لگا جب ہماری نگاہیں بازار میں لگی ٹائم پیس پر پڑیں۔ صبح سات بج رہے تھے جبکہ ضلعی انتظامیہ کی اس نایاب ٹائم پیس میں رات کے دو بج رہے تھے۔ کوئی بڑی بات نہیں تھی۔ رات کے اندھیروں سے تو ہمیں ویسے بھی بڑا پیار ہے۔ جو قوم ستر سالوں سے اندھیروں میں رہ رہی ہو اور جس کو اندھیروں سے پیار ہو اس کو نویدِ صبح سے کیا لینا دینا۔ اس کو نظرانداز کرتے ہوئے ہم تھوڑا آگے بڑھے تھے کہ منوں مٹی اور گرد میں اٹا بازار میں ایستادہ گھوڑے کا مجسمہ ضلعی انتظامیہ اور بلدیہ کی بے حسی کا نوحہ سنا رہا تھا۔ بے ایمانی اور بے حسی کی بھی حد ہوتی ہے جناب۔ آخر گورنمنٹ کے نظام میں وہ کونسی خامی ہے کہ افسرِاعلیٰ سے لے کر بلدیہ کے ایک خاکروپ تک بے ایمانوں کی ایک فوجِ ظفر موج ہے۔ مجال ہے جو ان کو ان کی ذمہ داری کا احساس دلائے۔

تذکرہ اگر افسرِشاہی کی ہو تو مجال ہے کہ یہ وقت پہ دفتر آجائے۔ افسرِشاہی یعنی بیورکریٹس صبح گیارہ بجے دفتر آتے ہیں تو ایک آدھ گھنٹے دفتر میں گزار کر واپس چلے جاتے ہیں۔ آخر بڑے آفیسر جو ٹھہرے۔ میں نے کئی دفعہ سوالیوں کو ان بیوروکریٹس کے دفاتر کے سامنے گھنٹوں انتظار کرتے دیکھا ہے۔ میں سوچ کے حیران ہوں کہ یہ خود بے حس اور بے ایمان سہی لیکن اپنی اولاد کو بھی حرام کا لقمہ کیوں کھلاتے ہیں۔ اس کا مطلب ہرگز ایسا نہیں کہ سب کے سب ایسے ہیں کچھ خدا ترس اور ایماندار بیوکریٹس بھی ہیں۔ جن کو اللہ سلامت رکھے۔ لیکن یہاں تذکرہ ان بے حسوں کا ہے۔ اس دفعہ رمضان المبارک کی بات ہے کہ مجھے اپنے کسی بیوروکریٹ دوست کے دفتر جانے کا اتفاق ہوا۔ کسی رشتہ دار کا چھوٹا کام تھا۔ ہم صبح ٹھیک وقت پر موصوف کے دفتر پہنچے۔ بیوروکریٹ دوست کے پرسنل سیکریٹری کا کہنا تھا کہ صاب رمضان المبارک کی وجہ سے لیٹ سے دفتر آتے ہیں۔ خیر ایک آدھ گھنٹے کے انتظار کے بعد موصوف دفتر تو آئے لیکن نہ جان نہ پہچان والی کیفیت کے ساتھ اپنے دفتر میں گھس گئے۔ ان کے پی اے نے کہا کہ صاب کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے روزہ جو رکھا ہے۔ اس لیے آج ملاقات ممکن نہیں۔ میں نے اپنا وزٹنگ کارڈ انہیں تھمایا اور کہا کہ اپنے روزدار صاب کو یہ کارڈ دیدے۔ ہم بڑے دُور سے کسی ضروری کام کے سلسلے میں آئے ہیں۔ خیر جب کارڈ اندر لے جایا گیا تو تھوڑی دیر کے بعد روزہ دار صاب نے ہمیں اندر طلب کر ہی لیا۔ چہرے پر خفگی کے آثار لیے روزہ دارصاب اپنی بڑی کرسی پر بیٹھا تھا۔ نہ سلام دُعا میں گرمجوشی نہ استقبال۔۔۔۔۔۔ اگر کچھ کہا گیا تو صرف اتنا کہ رمضان کا مہینہ ہے اور ہم روزہ دار لوگ۔۔۔۔۔۔ اب اس محترم کو کون روزے کا فلسفہ سنانے بیٹھ جائے۔ خیرہم ان کے دفتر سے نکلیں اور میں دن بھر یہ سوچنے پہ مجبور ہوا کہ رمضان المبارک تو تقویٰ کا درس دیتا ہے اور یہ پیٹ کا بھوکا بیوروکریٹ اور اس کا رویہ سب سمجھ سے باہر تھے۔ مجھے اتنا احساس ضرور ہوا کہ بے ایمان اور بے حس یہ بیوروکریٹس نہیں بلکہ مسلہ حکومتی ںظام میں ہے جس کی وجہ سے تھوک کے حساب سے آپ کو سرکاری محکموں میں ایسے لوگ ملیں گے۔ کاش حکومت کو تھوڑی سی ہی عقل آتی اور وہ ان اداروں کو پرائیویٹائز کرتی۔ چیک اینڈ بیلینس کا اچھا نظام ہوتا۔ ملازمین چھوٹے ہوں یا بڑے اپریزل کے ذریعے ان کی کارکردگی کا جائزہ لیا جاتا تو کم سے کم سرکاری اداروں میں ایماندار نہ سہی لیکن بے حس لوگ تو نہیں ہوتے۔ ان سرکاری اداروں کو ایک سال کے لیے اگر آغا خان ڈویلپمنٹ نیٹ ورک جیسے کسی عالمی ادارے کے حوالے کیا جائے اور وہ نظام ان پر لاگو کیا جائے تو ان اداروں سے بہت سارے بے حسوں کا خاتمہ کیا جاسکتا ہے۔

بات کہاں سے کہاں پہنچ گئی۔ بات ہو رہی تھی۔ گاہکوچ بازار میں ایستادہ گھوڑے کے مجسمے پر پڑی منوں مٹی کی۔ ضلعی انتظامیہ اور بلدیہ تھوڑی سی شرم کرے تو یہ گرد صاف کیا جاسکتا ہے۔

horse in gahgoch gilgit bazar

جمال آروز کی لکھی ہوئی ایک دلچسپ تحریر اپنے تمام ملازمت پیشہ دوستوں کی نذر کرنا مناسب سمجھتا ہوں۔ وہ لکھتے ہیں:

’’ایک دن مجھے عرفان کا فون آیا۔ میں نے فون کاٹ دیا۔ اس نے پھر فون کیا۔ میں نے دوبارہ کاٹ دیا۔ اس کے بعد جب میں نے اسے فون کیا تو وہ شکوہ کرنے کے انداز میں کہنے لگا میں کال کر رہا تھا ناں، آپ نے کیوں کاٹ دی؟ میں نے کہا تم آفس کے فون سے کال کر رہے تھے اور مجھے معلوم ہے کہ تمہارا مجھ سے یہ رابطہ کسی دفتری ضرورت کے تحت نہیں بلکہ گپ شپ کے لیے تھا۔ کہنے لگا، چھوڑیں سر جی! اتنی بڑی کمپنی ہے، میری ایک فون کال سے ان کا کچھ نہیں بگڑتا۔ میں نے کہا ان کا کچھ بگڑے نہ بگڑے تمہارا بہت کچھ بگڑ جائے گا، کیوں کہ ایک دن تمہیں ان تمام امانتوں کا حساب دینا ہے۔

اسی طرح ایک دن میں نے کسی دوست کو فون کیا، مجھے کوئی وزنی مشین ایک جگے سے دوسری جگہ لانی تھی۔ میں نے پوچھا یار کوئی پک اپ والا جاننے والا ہے؟ وجہ پوچھی میں نے بتادی۔ کہنے لگا، کیوں خوامخواہ خرچہ کرتے ہیں۔ کمپنی کا ڈرائیور میرا دوست ہے، ڈیوٹی کے بعد جب فارغ ہوجاؤں گا تو اسے وین سمیت لے کر آؤں گا یوں مفت میں کام ہوجائے گا۔ ان دنوں وہ کسی بڑی کمپنی میں جاب کرتا تھا۔ میں نے اس سے پوچھا کہ کیا کمپنی کے مالک کو اس چیز کا پتہ ہے کہ ڈرائیور اس طرح، اس کی اجازت کے بغیر، کمپنی کے باہر کے کسی شخص کے کام میں گاڑی کا استعمال کرے گا؟ کہنے لگا، ایسا تو نہیں۔ میں نے کہا پھر یہ جائز نہیں۔ کہنے لگا، تو کیا ہوگیا۔ پیٹرول آپ ڈلوا دینا۔ میں نے کہا گاڑی صرف پیٹرول ہی تو استعمال نہیں کرتی، اس میں آئل بھی ڈلتا ہے، اس کا انجن بھی پرانا ہوتا ہے، اس کے ٹائر بھی گھستے ہیں اور سب سے بڑی بات یہ کہ بلا اجازت کسی کی چیز استعمال کرنا تو ویسے بھی اخلاقاً درست نہیں۔ مجھے کچھ رقم بچانے کے لیے ایسی سہولت نہیں چاہیے۔

یہ ایک المیہ ہے کہ جاب کرنے والے افراد میں سے ایک کثیر تعداد کو معلوم ہی نہیں کہ امانت کیا چیز ہوتی ہے، اس کا استعمال کس طرح کرنا ہوتا ہے اور یہ کہ بالآخر ان امانتوں کا ایک دن انہیں حساب بھی دینا ہوگا۔ کمپنی کی طرف سے گاڑی، پیٹرول، فون، قلم، کاغذ، فرنیچر، گھر، رقم، لیپ ٹاپ اور جو بھی سہولیات ملتی ہیں وہ سب امانتیں ہوتی ہیں۔ حتٰی کہ ٹشو پیپر کے ڈبے اور روم اسپرے بھی امانت ہیں۔ ہر شخص، جو مسلمان ہے اور اللہ کا خوف رکھتا ہے اسے چاہیے کہ ان امانتوں کی حفاظت کرے اور سوچ سمجھ کر خرچ کرے۔ کئی چیزیں ایسی ہیں جن کے غلط استعمال کا علم کمپنی انتظامیہ کو نہیں ہوسکتا اور نہ کبھی ہوگا، مگر یاد رہے کہ ایک ایسی ذات بھی موجود ہے جو انسان کے ہر عمل کو دیکھ رہی ہے اور چھوٹی سی چھوٹی خیانت کو بھی جانتی ہے۔

چند سال قبل مجھے یاد ہے کہ میں نماز کے لیے مسجد میں داخل ہوا تو ایک نوجوان دوسرے کے ساتھ الجھ رہا تھا۔ قریب جا کر وجہ معلوم ہوئی کہ وہ مسجد کی بجلی سے اپنا موبائل چارج کر رہا تھا جس پر دوسرا اسے سمجھا رہا تھا کہ مسجد کی بجلی کو اپنے ذاتی مصرف میں لانا گناہ ہے۔ جبکہ دوسرے کا اصرار تھا کہ اس سے کتنی بجلی خرچ ہوتی ہے؟ سمجھانے والا بضد تھا کہ سوال ’’کتنی‘‘ کا نہیں ہے بلکہ یہ ہے کہ جتنی بھی خرچ ہوتی ہے وہ جائز ہے یا ناجائز؟

چھٹی کے لیے جعلی میڈیکل سرٹیفیکٹ بنوانا، سفری اخراجات کے جعلی یا اضافہ شدہ بل پیش کرنا، کمپنی کے موبائل سے دوستوں کے ساتھ گپ شپ کرنا، جس کا بل کمپنی کو دینا پڑے، کمپنی کی گاڑی کا ذاتی استعمال جس کی اجازت نہ دی گئی ہو، ڈیوٹی کے اوقات میں اپنا کوئی ذاتی کام نمٹانا، اخبار پڑھنا، کرکٹ کے ٹورنمامنٹ دیکھنا۔ ڈیوٹی اوقات میں بچوں کو اسکول لے جانا اور پھر واپس اٹھانا، کمپنی کی گاڑی میں دوستوں یا فیملی کو لے کر سیر سپاٹے کرنا اور اس طرح کی کئی خیانتیں جن کو آج ہمارے مسلمان بھائی گناہ تک نہیں سمجھتے، نہیں جانتے کہ کتنا بڑا بوجھ وہ اپنے کندھوں پر لادتے چلے جا رہے ہیں جو انہیں آخرت میں اٹھانا ہوگا۔

حقوق العباد کے ضمن میں اللہ کا خوف رکھنے والے انسانوں کی کچھ مثالیں ذہن میں آ رہی ہیں۔ ایک صاحب کی ڈیوٹی پنجاب میں کسی جگہ لگی جس کے لیے انہیں کمپنی کی طرف سے گاڑی بھی دی گئی۔ وہ صاحب شہر سے پانچ سات کلومیٹر دور ایک گاؤں میں رہتے تھے۔ دن بھر کمپنی کے کام نمٹانے کے بعد شام کو جب فارغ ہوتے تو گاڑی شہر میں موجود دفتر میں کھڑی کرتے اور خود اپنی سائیکل پر چڑھ کر گاؤں کی طرف روانہ ہوجاتے، جو وہ ہر روز اپنے ساتھ گاؤں سے لاکر دفتر میں چھوڑا کرتے تھے۔ کسی نے پوچھا، گاڑی پر کیوں نہیں جاتے؟ جواب دیتے کہ کمپنی کی گاڑی، کمپنی کے کام کے لیے ملی ہے، اپنے ذاتی کاموں کے لیے نہیں۔ جب گاڑی ساتھ لے کر جاؤں گا، تو امانت میں خیانت ہونے کا خطرہ رہے گا۔

اسی طرح مجھے اسلاف میں سے کسی کا واقعہ یاد آ رہا ہے، نام بھول رہا ہوں۔ وہ اپنے شہر سے دو تین سو کلومیٹر دور کسی دوسرے شہر میں کسی کام سے گئے۔ وہاں چلتے پھرتے ان کو کچھ لکھنے کے لیے قلم کی ضرورت پڑی جو انہوں نے کسی سے مانگ لیا۔ جو کچھ لکھنا تھا، لکھ کر قلم واپس کرنا بھول گئے اور اونٹ یا گھوڑے پر سوار ہوکر اپنے شہر واپس آگئے۔ واپس پنہچتے ہی ان کی نظر اپنی جیب میں رکھے قلم پر پڑی۔ اسی وقت انہوں نے واپسی کا سفر شروع کیا اور اس شہر میں پہنچ کر جس شخص سے قلم لیا تھا اس کو واپس کیا، ساتھ میں معذرت بھی کی۔

عمربن عبدالعزیز کا واقعہ تو سب کو معلوم ہی  ہے کہ کوئی صاحب ان سے ملاقات کے لیے آئے۔ آپ چراغ کی روشنی میں اپنے سرکاری امور نمٹانے میں مصروف تھے۔ اس شخص نے ذاتی امور پر گفتگو شروع کردی۔ آپ نے چراغ گل کردیا اور فرمایا کہ اس چراغ میں جلنے والا تیل مسلمانوں کے بیت المال کی امانت ہے جس کو ہم اپنی ذاتی گپ شپ کے لیے استعمال نہیں کرسکتے۔‘‘

ضلعی انتظامیہ کی بے حسی کا شکریہ اگر وہ گھوڑے کے مجسمے پر گرد صاف کرتی تو ہم یہ ساری باتیں کیسے کرتے۔ میری ایک دوست ہے جو اکثر مجھ سے کہتی رہتی ہے کہ ’’تمہیں تو موقع چاہئیے لکھنے کے لیے۔‘‘

ارے بھیا! ایسے مواقع تو رب کی طرف سے حساس لوگوں کے لیے امانتیں ہوا کرتے ہیں کہ جن کے ذریعے آپ کو موقع ملتا ہے کہ آپ اپنے علم کی زکواۃ دے سکے۔

Posted in تازہ ترین, گلگت بلتستان, مضامینTagged , , ,
1508