The Voice of Chitral since 2004
Sunday, 31 May 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

پہاڑوں کی خاموش طاقت، گلگت بلتستان، چترال، کوہستان اور کشمیر کی اصل قدر ۔ اقبال عیسیٰ خان

پہاڑوں کی خاموش طاقت، گلگت بلتستان، چترال، کوہستان اور کشمیر کی اصل قدر ۔ اقبال عیسیٰ خان

پہاڑ صرف قدرتی حسن نہیں ہوتے، یہ قوموں کی بقا، معیشت اور مستقبل کی ضمانت ہوتے ہیں۔ گلگت بلتستان، چترال، کوہستان اور کشمیر کے پہاڑ پاکستان کے لیے محض جغرافیہ نہیں بلکہ آبی سلامتی، موسمی توازن، توانائی اور سیاحت کا اسٹریٹیجک سرمایہ ہیں۔ مسئلہ وسائل کی کمی نہیں، مسئلہ ان کی قدر شناسی اور درست استعمال کا ہے۔

دنیا نے پہاڑوں کو بوجھ نہیں، موقع سمجھا۔ سوئٹزرلینڈ نے الپس کو جدید سیاحت، ہائیڈرو پاور اور مضبوط لوکل گورننس کے ذریعے قومی معیشت کا ستون بنایا۔ آج وہاں پہاڑی سیاحت اور متعلقہ صنعتیں اربوں ڈالر سالانہ آمدن پیدا کرتی ہیں، جبکہ دیہی علاقوں سے شہری ہجرت محدود ہے۔ یہ کامیابی قدرت کی نہیں، وژن اور پالیسی کی مرہونِ منت ہے۔

نیپال نے ہمالیہ کو غربت کی علامت کے بجائے مہم جو سیاحت اور کمیونٹی بیسڈ ٹورزم میں بدلا۔ محدود وسائل کے باوجود سیاحت اس کی معیشت کا نمایاں حصہ بن چکی ہے، جہاں مقامی گائیڈز، ہوٹلز اور ٹرانسپورٹ نے ہزاروں خاندانوں کو باعزت روزگار دیا۔ چین نے اپنے پہاڑی علاقوں میں انفراسٹرکچر، تعلیم اور گرین انرجی میں سرمایہ کاری کر کے یہ ثابت کیا کہ اگر ریاست چاہے تو پہاڑ پسماندگی نہیں، طاقت بن جاتے ہیں۔

اب ذرا اپنے خطے پر نظر ڈالیں۔ گلگت بلتستان اور چترال دنیا کے ان چند علاقوں میں شامل ہیں جہاں بلند ترین چوٹیاں، بڑے گلیشیئرز اور صاف پانی کے وسیع ذخائر موجود ہیں۔ پاکستان کے بڑے دریا انہی پہاڑوں سے جنم لیتے ہیں، یعنی یہ خطے ملک کی آبی سلامتی کی بنیاد ہیں۔ کوہستان اور کشمیر جنگلات، پانی اور قدرتی وسائل سے مالا مال ہیں، مگر انسانی ترقی کے اشاریے تشویشناک حد تک کم ہیں۔

یہاں تضاد واضح ہے۔ قدرت نے سب کچھ دیا، مگر پالیسی نے بہت کم لوٹایا۔ سیاحت غیر منظم ہے، ہائیڈرو پاور کی صلاحیت موجود ہونے کے باوجود مقامی آبادی اندھیروں میں ہے، اور نوجوان صلاحیت کے باوجود مواقع سے محروم ہیں۔ ہم سیاح گنتے ہیں، آمدن اور ویلیو نہیں۔ ہم وسائل دیکھتے ہیں، مگر انسانی سرمائے میں سرمایہ کاری نہیں کرتے۔

اعداد و شمار یہ بتاتے ہیں کہ پہاڑی ممالک نے فی سیاح زیادہ آمدن، فی میگاواٹ کم لاگت توانائی اور بہتر انسانی ترقی حاصل کی۔ ہمارے ہاں یہی وسائل ہونے کے باوجود مقامی علاقوں میں تعلیم، صحت اور روزگار پیچھے رہ گئے۔ یہ جغرافیے کی ناکامی نہیں، قیادت اور ترجیحات کی ناکامی ہے۔

اصل طاقت یہاں کے لوگ ہیں۔ گلگت بلتستان، چترال، کوہستان اور کشمیر کے نوجوان کم وسائل میں عالمی معیار کی کامیابیاں حاصل کر رہے ہیں۔ اگر یہی صلاحیتیں معیاری تعلیم، ٹیکنالوجی، میرٹ بیسڈ نظام اور مقامی مواقع سے جڑ جائیں تو یہ خطے صرف خوبصورت نہیں، خود کفیل بن سکتے ہیں۔

نتیجہ سادہ ہے۔ پہاڑوں کی قدر محض نعروں سے نہیں، پالیسی سے ہوتی ہے۔ ماحول دوست ترقی، منظم سیاحت، ہائیڈرو پاور، مضبوط لوکل گورننس اور نوجوانوں میں سرمایہ کاری وہ راستہ ہے جو دنیا نے اپنایا اور کامیاب ہوئی۔ اگر ہم نے گلگت بلتستان، چترال، کوہستان اور کشمیر کو قومی ترجیح بنا لیا تو یہی پہاڑ پاکستان کے مستقبل کی مضبوط بنیاد بن سکتے ہیں۔

پہاڑ خاموش ہیں، مگر فیصلہ کن۔ سوال یہ نہیں کہ ہمارے پاس کیا ہے، سوال یہ ہے کہ ہم اسے کب قومی طاقت میں بدلیں گے۔

Posted in تازہ ترین, گلگت بلتستان, مضامینTagged
116635

گلگت بلتستان، چترال، کوہستان اور کشمیر کے نوجوانوں کو کب تک روکا جائے گا؟ – اقبال عیسیٰ خان

Posted on

گلگت بلتستان، چترال، کوہستان اور کشمیر کے نوجوانوں کو کب تک روکا جائے گا؟ – اقبال عیسیٰ خان

دنیا تیزی سے بدل رہی ہے، ہر لمحہ نئی جدت، ٹیکنالوجی اور عالمی رجحانات کی رفتار ہمیں جھنجھوڑ رہی ہے۔ ایسے وقت میں قیادت کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے، وہ قیادت جو صرف تعلیم یافتہ اور باصلاحیت نہ ہو بلکہ وژنری بھی ہو، یعنی مستقبل کے تقاضوں کو سمجھنے اور ان کے مطابق فیصلے کرنے کی صلاحیت رکھتی ہو۔ گلگت بلتستان، چترال، کوہستان اور کشمیر جیسے خطوں میں یہ ضرورت اور بھی بڑھ جاتی ہے، کیونکہ یہاں نوجوان آبادی کا سب سے بڑا حصہ موجود ہے اور مواقع لا محدود ہیں، مگر قیادت اکثر پرانی سوچ کے قید خانوں میں محصور رہتی ہے۔

دنیا میں ترقی یافتہ ممالک نوجوان قیادت کی طاقت سے انقلاب برپا کر رہے ہیں۔ ٹیکنالوجی اور کاروبار میں نوجوان CEOs نے دنیا کو نئی سمت دکھائی، ایلون مسک، مارک زکربرگ، سنیتا نارائن، ٹیم کوک، ستیہ نڈیلہ سٹیو جابز اور دیگر ایسے نام جنہوں نے نوجوانی میں بڑے فیصلے کیے اور دنیا بدل دی۔ تعلیم میں نوجوان وژن نے خان اکیڈمی، کورسیرا، ایڈی ایکس جیسے پلیٹ فارم قائم کیے، جنہوں نے لاکھوں انسانوں کی زندگی بدل دی۔ سیاست میں زوہرن ممدانی اور دیگر نوجوان رہنما مثالیں ہیں کہ عمر نہیں، وژن اور محنت قیادت کی بنیاد ہے۔ کھیلوں کی دنیا میں نوجوان ایثلیٹس اور کوچز نے عالمی ریکارڈ قائم کیے، فنون میں نوجوان تخلیق کاروں نے عالمی سطح پر پہچان بنائی، اور سماجی تحریکوں میں نوجوان فعال شہری بن کر اپنی کمیونٹی کی آواز بنے۔

نوجوان قیادت کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ صرف توانائی نہیں لاتی، بلکہ مستقبل کی زبان بھی سمجھتی ہے۔ نوجوان ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز، عالمی مارکیٹ اور بدلتی ہوئی دنیا کے مطابق فیصلے کر سکتے ہیں۔ اسی لیے ترقی یافتہ ممالک میں نوجوان CEOs، نوجوان سیاستدان، نوجوان تعلیمی اور ریسرچ کے بانی، نوجوان کھیلوں کے کوچز اور ٹیم لیڈرز، اور نوجوان سماجی کارکن ہر شعبے میں آگے ہیں۔ یہ نسل دنیا کی رفتار کو پڑھ سکتی ہے، مسائل کے حل کے لیے تخلیقی اور عملی اقدامات کر سکتی ہے، اور اپنی قوم کو آگے لے جا سکتی ہے۔

بدقسمتی سے ہمارے خطوں میں حالات مختلف ہیں۔ گلگت بلتستان، چترال، کوہستان اور کشمیر میں نوجوان موجود ضرور ہیں، مگر قیادت کی زیادہ تر ذمہ داریاں بزرگ شہریوں کے پاس ہیں، جو جدید دنیا کے تقاضوں سے ناواقف ہیں۔ کئی بزرگ وہ ہیں جو اپنے لیے خود آئی ڈی بنانا نہیں جانتے، جنہیں IT یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے نام تک معلوم نہیں، جو جدید عالمی ٹیکنالوجی اور رجحانات سے نابلد ہیں، اور جن کی زندگی Rigid اور Yes-Boss کلچر میں گزری ہو ایسے لوگ نوجوان قیادت کو کیسے سمجھائیں گے؟ یہ پرانے اور متروک اسکول آف تھوٹ والے لوگ کب تک ہماری 64 فیصد سے زائد نوجوان آبادی کو جدید دنیا کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کی صلاحیت رکھیں گے؟

اب سوال یہ نہیں کہ نوجوان قیادت کیوں ضروری ہے، بلکہ یہ ہے کہ ہم کب تک اپنے خطوں میں نوجوانوں کو آگے آنے سے روکیں گے؟ نوجوان قیادت نہ صرف ضروری ہے بلکہ یہ ہمارے خطوں کی ترقی، نئی سوچ، جدت، اور عالمی معیارات کے مطابق فیصلے کرنے کا واحد راستہ ہے۔ نوجوان وہ ہیں جو دنیا کی بدلتی ہوئی صورت حال کو سمجھتے ہیں، ٹیکنالوجی اور تعلیم کے جدید وسائل استعمال کر سکتے ہیں اور اپنے علاقوں کے مسائل کے حل کے لیے تخلیقی اور عملی اقدامات کر سکتے ہیں۔

گلگت بلتستان میں انتخابات قریب ہیں، اور نوجوانوں کے لیے یہ تاریخی موقع ہے کہ وہ اپنے ووٹ سے تبدیلی کا حصہ بنیں۔ اپنے ووٹ کے ذریعے نوجوان قیادت کو آگے لائیں، ان کی جدت، وژن اور جذبے کو مضبوط کریں، اور اپنے خطے کو دنیا کی رفتار کے مطابق ترقی کی راہ پر ڈالیں۔ یہ وقت ہے جب نوجوان اپنی طاقت، تخلیق اور وژن سے نہ صرف اپنے خطوں کو بلکہ اپنی قوم کو بھی نئی بلندیوں تک لے جائیں۔

وقت بدل چکا ہے، دنیا بدل چکی ہے، اور اب ہماری قیادت کو بھی نوجوان وژن، جذبے اور علم کے ساتھ بدلنا ہوگا۔ نوجوان، اب آپ کی باری ہے—اپنا ووٹ دیں، اپنے خطے کا مستقبل روشن کریں، اور تبدیلی کا حصہ بنیں۔

Posted in تازہ ترین, گلگت بلتستان, مضامینTagged
116300