پہاڑوں کی خاموش طاقت، گلگت بلتستان، چترال، کوہستان اور کشمیر کی اصل قدر ۔ اقبال عیسیٰ خان
پہاڑ صرف قدرتی حسن نہیں ہوتے، یہ قوموں کی بقا، معیشت اور مستقبل کی ضمانت ہوتے ہیں۔ گلگت بلتستان، چترال، کوہستان اور کشمیر کے پہاڑ پاکستان کے لیے محض جغرافیہ نہیں بلکہ آبی سلامتی، موسمی توازن، توانائی اور سیاحت کا اسٹریٹیجک سرمایہ ہیں۔ مسئلہ وسائل کی کمی نہیں، مسئلہ ان کی قدر شناسی اور درست استعمال کا ہے۔
دنیا نے پہاڑوں کو بوجھ نہیں، موقع سمجھا۔ سوئٹزرلینڈ نے الپس کو جدید سیاحت، ہائیڈرو پاور اور مضبوط لوکل گورننس کے ذریعے قومی معیشت کا ستون بنایا۔ آج وہاں پہاڑی سیاحت اور متعلقہ صنعتیں اربوں ڈالر سالانہ آمدن پیدا کرتی ہیں، جبکہ دیہی علاقوں سے شہری ہجرت محدود ہے۔ یہ کامیابی قدرت کی نہیں، وژن اور پالیسی کی مرہونِ منت ہے۔
نیپال نے ہمالیہ کو غربت کی علامت کے بجائے مہم جو سیاحت اور کمیونٹی بیسڈ ٹورزم میں بدلا۔ محدود وسائل کے باوجود سیاحت اس کی معیشت کا نمایاں حصہ بن چکی ہے، جہاں مقامی گائیڈز، ہوٹلز اور ٹرانسپورٹ نے ہزاروں خاندانوں کو باعزت روزگار دیا۔ چین نے اپنے پہاڑی علاقوں میں انفراسٹرکچر، تعلیم اور گرین انرجی میں سرمایہ کاری کر کے یہ ثابت کیا کہ اگر ریاست چاہے تو پہاڑ پسماندگی نہیں، طاقت بن جاتے ہیں۔
اب ذرا اپنے خطے پر نظر ڈالیں۔ گلگت بلتستان اور چترال دنیا کے ان چند علاقوں میں شامل ہیں جہاں بلند ترین چوٹیاں، بڑے گلیشیئرز اور صاف پانی کے وسیع ذخائر موجود ہیں۔ پاکستان کے بڑے دریا انہی پہاڑوں سے جنم لیتے ہیں، یعنی یہ خطے ملک کی آبی سلامتی کی بنیاد ہیں۔ کوہستان اور کشمیر جنگلات، پانی اور قدرتی وسائل سے مالا مال ہیں، مگر انسانی ترقی کے اشاریے تشویشناک حد تک کم ہیں۔
یہاں تضاد واضح ہے۔ قدرت نے سب کچھ دیا، مگر پالیسی نے بہت کم لوٹایا۔ سیاحت غیر منظم ہے، ہائیڈرو پاور کی صلاحیت موجود ہونے کے باوجود مقامی آبادی اندھیروں میں ہے، اور نوجوان صلاحیت کے باوجود مواقع سے محروم ہیں۔ ہم سیاح گنتے ہیں، آمدن اور ویلیو نہیں۔ ہم وسائل دیکھتے ہیں، مگر انسانی سرمائے میں سرمایہ کاری نہیں کرتے۔
اعداد و شمار یہ بتاتے ہیں کہ پہاڑی ممالک نے فی سیاح زیادہ آمدن، فی میگاواٹ کم لاگت توانائی اور بہتر انسانی ترقی حاصل کی۔ ہمارے ہاں یہی وسائل ہونے کے باوجود مقامی علاقوں میں تعلیم، صحت اور روزگار پیچھے رہ گئے۔ یہ جغرافیے کی ناکامی نہیں، قیادت اور ترجیحات کی ناکامی ہے۔
اصل طاقت یہاں کے لوگ ہیں۔ گلگت بلتستان، چترال، کوہستان اور کشمیر کے نوجوان کم وسائل میں عالمی معیار کی کامیابیاں حاصل کر رہے ہیں۔ اگر یہی صلاحیتیں معیاری تعلیم، ٹیکنالوجی، میرٹ بیسڈ نظام اور مقامی مواقع سے جڑ جائیں تو یہ خطے صرف خوبصورت نہیں، خود کفیل بن سکتے ہیں۔
نتیجہ سادہ ہے۔ پہاڑوں کی قدر محض نعروں سے نہیں، پالیسی سے ہوتی ہے۔ ماحول دوست ترقی، منظم سیاحت، ہائیڈرو پاور، مضبوط لوکل گورننس اور نوجوانوں میں سرمایہ کاری وہ راستہ ہے جو دنیا نے اپنایا اور کامیاب ہوئی۔ اگر ہم نے گلگت بلتستان، چترال، کوہستان اور کشمیر کو قومی ترجیح بنا لیا تو یہی پہاڑ پاکستان کے مستقبل کی مضبوط بنیاد بن سکتے ہیں۔
پہاڑ خاموش ہیں، مگر فیصلہ کن۔ سوال یہ نہیں کہ ہمارے پاس کیا ہے، سوال یہ ہے کہ ہم اسے کب قومی طاقت میں بدلیں گے۔

